سورة الحج - آیت 40

الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِم بِغَيْرِ حَقٍّ إِلَّا أَن يَقُولُوا رَبُّنَا اللَّهُ ۗ وَلَوْلَا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُم بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِيَعٌ وَصَلَوَاتٌ وَمَسَاجِدُ يُذْكَرُ فِيهَا اسْمُ اللَّهِ كَثِيرًا ۗ وَلَيَنصُرَنَّ اللَّهُ مَن يَنصُرُهُ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا [٦٧] پروردگار اللہ ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ ایک دوسرے کے ذریعہ [٦٨] لوگوں کی مدافعت نہ کرتا رہتا تو خانقاہیں، گرجے، عبادت گاہیں اور مساجد جن میں اللہ کو کثرت سے یاد کیا جاتا ہے، مسمار کردی جاتی ہیں اور اللہ ایسے لوگوں کی ضرور مدد کرتا ہے جو اس (کے دین) کی مدد کرتے ہیں۔ اللہ یقینا بڑا طاقتور اور سب پر غالب ہے۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 42 اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٓ کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر یہ مشرکین آپ کی تکذیب کرتے ہیں تو آپ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں جس کو جھٹلایا گیا ہو اور یہ امت بھی کوئی پہلی امت نہیں جس نے اپنے رسول کو جھٹلایا ہے (فقد کذبت قبلھم قوم نوح وعاد و ثمود۔ وقوم ابراہیم و قوم لوط۔ واصحب مدین وکذب موسی) ” بلاشبہ ان سے پہلے قوم نوح نے، عاد و ثمود نے، قوم ابراہیم و قوم لوط نے اور اصحاب مدین (قوم شعیب) نے رسولوں کو جھٹلایا، موسیٰ (علیہ السلام) کی بھی تکذیب کی گئی۔“ (فاملیت للکفرین) یعنی تکذیب کرنے والوں کو میں نے ڈھیل دی۔ ان کو سزا دینے میں میں نے جلدی نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنی سرکشی پر جمے رہے اور اپنے کفر و شر میں بڑھتے ہی چلے گئے (ثم اخذتھم) پھر میں نے ان کو غالب اور قرت رکھنے والی ہستی کی طرح عذاب کے ذریعے سے گرفت میں لے لیا۔ (فکیف کان نکیر) پھر دیکھا ان کے کفر اور ان کی تکذیب پر میری نکیر کیسی تھی اور اس کا کیسا حال تھا۔ ان کے لئے بدترین سزا اور قبیح ترین عذاب تھا۔ ان میں سے بعض کو غرق کردیا گیا، بعض کو ایک چنگھاڑنے آلیا اور بعض طوفانی ہوا کے ذریعے ہلاک کردیئے گئے، بعض کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور بعض کو چھتری والے دن کے عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا گیا، لہٰذا تکذیب کرنے والوں کو ان قوموں سے عبرت پکڑنی چاہئے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کو بھی وہی عذاب آ لے جو گزشتہ بدکردار قوموں پر نازل ہوا یہ ان سے بہتر نہیں ہیں اور نہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں ہی میں برٓت کی کوئی ضمانت ہے۔ ان جیسے کتنے ہی لوگ ہیں جن کو عذاب سے ہلاک کیا گیا، اس لئے فرمایا : (فکاین من قریٓ) یعنی کتنی ہی بستیاں ہیں (اھلکنھا) جن کو ہم نے دنیاوی رسوائی کے ساتھ سخت عذاب کے ذریعے سے ہلاک کیا۔ (وھی ظالآ) اور ان کی حالت یہ تھی کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا انکار اور رسول کی تکذیب کر کے ظلم کا ارتکاب کیا تھا۔ ان کے لئے ہماری سزا ظلم نہ تھا۔ (فھی خاویٓ علی عروشھا) پس ان کے گھر منہدم ہو کر اجڑے پڑے ہیں، ان کے محل اور عمارتیں اپنی چھتوں پر الٹی پڑی ہیں۔ کبھی یہ آباد تھیں اب ویران پڑی ہیں، کبھی اپنے رہنے والوں کے ساتھ معمور تھیں اب وہاں وحشت ٹپکتی ہے۔ (وبئر معظلٓ و قصر مشید) کتنے ہی کنویں ہیں جہاں کبھی پانی پینے اور مویشیوں کو پلانے کے لئے لوگوں کا ازدحام ہوا کرتا تھا۔ اب ان کنوؤں کے مالک مفقود اور پانی پینے والے معدوم ہیں، کتنے ہی محل اور قصر ہیں جن کے لئے ان کے رہنے والوں نے مشقت اٹھائی ان کو چونے سے مضبوط کیا، ان کو بلند کیا، ان کو محفوظ کیا اور ان کو خوب سجایا مگر جب اللہ کا حکم آگیا تو کچھ بھی ان کے کام نہ آیا اور یہ محل خالی پڑے رہ گئے اور ان میں رہنے والے عبرت پکڑنے والوں کے لئے سامان عبرت اور فکر و نظر رکھنے والوں کے لئے مثال بن گئے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو زمین میں چلنے پھرنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ غوروفکر کریں اور عبرت پکڑیں، چنانچہ فرمایا : (افلم یسیر وا فی الارض) کیا وہ اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین میں چلے پھرے نہیں۔ (فتکون لھم قلوب یعقلون بھا) یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھتے اور عبرت کے لئے ان میں غوروفکر کرتے۔ (اواذان یسمعون بھا) یعنی گزرے ہوئے لوگوں کے واقعات اور جن قوموں پر عذاب نازل کیا گیا ان کی خبریں سنتے۔۔۔. وگرنہ محض آنکھوں اور کانوں سے سننا اور تفکر اور عبرت سے خالی ہو کر زمین میں چلنا پھرنا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے مطلوب کا حصول ممکن ہے، اسی لئے فرمایا : (فانھا لا تعمی الابصار و لکن تعمی القلوب التی فی الصدور) یعنی یہ اندھا پن جو دین کے لئے ضرر رساں ہے، درحقیقت حق کے بارے میں قلب کا اندھا پن ہے حتیٰ کہ جیسے بصارت کا اندھا مرئیات کا مشاہدہ نہیں کرسکتا اسی طرح بصیرت کا اندھا حق کا مشاہدہ کرنے سے عاری ہے لیکن بصارت کا اندھا تو صرف دنیاوی منفعت تک پہنچنے سے محروم ہے۔