سورة الحج - آیت 32

ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوبِ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

یہ (سب امور قابل اجتناب ہیں) اور جو شخص اللہ کے شعائر کی تعظیم کرے تو یہ بات [٥٠] دلوں کے تقویٰ سے تعلق رکھتی ہے۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 32 یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ حرمات اور اس کے شعائرکی تعظیم جس کا ہم نے تمہارے سامنے ذکر کیا ہے اور شعائر سے مراد دین کی ظاہری علامات ہیں۔ انہی شعائر میں تمام مناسک حج شامل ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (ان الصفا و المروٓ من شعآئر اللہ) (البقآ : ٢ /٨٥١) ” صفا اور مردہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔“ بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں اور گزشتہ سطور میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ ان شعائر کی تعظیم سے مراد ان کی توقیر، ان کو قائم کرنا اور بندے کی استطاعت اور قدرت کے مطابق ان کی تکمیل کرنا ہے۔ ہدی یعنی بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں سے ہیں۔ پس ان کی تعظیم سے مراد ان کی توقیر کرنا ان کو اچھا جاننا اور ان کو موٹا کرنا ہے، نیز یہ کہ قربانی کے یہ جانور ہر لحاظ سے کامل ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم، دلوں کے تقویٰ سے صادر ہوتی ہے۔ پس شعائر کی تعظیم کرنے والا اپنے تقویٰ اور صحت ایمان کی دلیل پیش کرتا ہے، اس لئے کہ شعائر کی تعظیم دراصل اللہ تعالیٰ کی تعظیم و ترقیر کے تابع ہے۔ (لکم فیھا) ” تمہارے لئے ان میں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کے گھر کو بھیجی گئی قربانیوں میں (منافع الی اجل مسمی) ” ایک مقررہ مدت تک فائدے ہیں۔“ بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے اونٹوں وغیرہ میں ایک مدت کے لئے چند فوائد ہیں جن سے ان کے مالک استفادہ کرسکتے ہیں مثلاً ان پر سوار ہونا اور ان کے دودھ دوہنا وغیرہ اور ایسے ہی بعض دیگر کام، جن سے ان قربانیوں کو ضرر نہ پہنچے۔ (الی اجل مسمی) یعنی ان کے ذبح ہونے کے وقت تک فوائد ہیں۔ جب وہ مقام مقصود پر پہنچ جائیں اور وہ (البیست العتیق) ” بیت اللہ“ ہے، یعنی سارا حرم، منیٰ وغیرہ۔ پس جب ان کو ذبح کردیا جائے، تو ان کا گوشت خود بھی کھاؤ، ہدیہ بھیجو اور محتاجوں کو کھلاؤ۔