سورة الحج - آیت 30

ذَٰلِكَ وَمَن يُعَظِّمْ حُرُمَاتِ اللَّهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهُ عِندَ رَبِّهِ ۗ وَأُحِلَّتْ لَكُمُ الْأَنْعَامُ إِلَّا مَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ ۖ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

یہ (تھا کعبہ کا مقصد) اور جو شخص اللہ کی احترام والی [٤٤] چیزوں کی تعظیم کرے تو یہ بات اس کے پروردگار کے ہاں اس کے لئے بہتر ہے۔ نیز تمہارے لئے چوپائے حلال کئے گئے ہیں ماسوائے ان کے جو تمہیں بتلائے [٤٥] جاچکے ہیں۔ لہذا بتوں کی گندگی [٤٦] سے بچو اور۔۔ والی بات سے بھی بچو [٤٧]۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 30 (ذلک) یعنی وہ احکام جن کا ہم تمہارے سامنے ذکر کرچکے ہیں، ان میں اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم، توقیر اور تکریم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی حرمات کی تعظیم ایسے امور میں شمار ہوتی ہے جو اللہ تعالیٰ کو نہایت محبوب اور اس کے تقریب کا ذریعہ ہیں۔ جس نے ان کی تعظیم و توقیر کی، اللہ تعالیٰ اسے بے پایاں ثواب عطا کرے گا یہ حرمات اللہ تعالیٰ کے نزدیک بندے کے دین، دنیا اور آخرت میں اس کے لئے بہتر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی حرمات سے مراد، وہ امور ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ہاں محترم ہیں اور جن کے احترام کا اس نے حکم دیا ہے، یعنی عبادات وغیرہ، مثلاً تمام مناسک حج، حرم اور احرام، بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور اور وہ تمام عبادات جن کو قائم کرنے کا اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے۔ پس ان کی تعظیم یہ ہے کہ دل سے ان کی توقیر اور ان کے ساتھ محبت کی جائے اور کسی تحقیر، سستی اور بے دلی کے بغیر ان میں عبودیت کی تکمیل کی جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے احسان اور اپنی نوازشات کا ذکر فرمایا کہ اس نے اپنے بندوں کے لئے چوپایوں میں سے مویشی حلال کردیئے، مثلاً اونٹ، گائے اور بھیڑبکری وغیرہ اور ان کو ان جملہ مناسک میں مشروع کیا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کیا جاتا ہے۔ پس ان دونوں پہلوؤں سے ان میں اللہ تعالیٰ کی عنایت بہت عظیم ہوگئی ہے۔ (الا ما یتلی علیکم) ” سوائے ان جانوروں کے جن کی تلاوت تم پر کی جاتی ہے۔“ یعنی جن کی تحریم قرآن مجید میں بایں الفاظ ہے۔ (حرمت علیکم المیتٓ والدم ولحم الخنزیر وما اھل لغیر اللہ بہ والمنخنآ و الموقوذٓ و المتردیٓ و النطیحٓ وما اکل السبع الا ما ذکیتم وما ذبح علی النصب) (الماءآ : ٥/٣) ” حرام کردیا گیا تم پر مردار، خون، خنزیر کا گوشت اور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے، وہ جانور جو گلا گھٹ کر مر جائے، جو چوٹ لگ کر مر جائے، جو سینگ لگ کر مر جائے اور جس کو درندے پھاڑ کھائیں سوائے اس کے جس کو تم مرنے سے پہلے ذبح کرلو اور وہ جانور جن کو ساتھ انوں پر ذبح کیا جائے۔ “ یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے بندوں پر رحمت ہے کہ اس نے ان چیزوں کو ان کے تزکیہ کے لئے اور شرک اور جھوٹی بات سے تطہیر کی خاطر حرام قرار دیا ہے۔ بناء بریں فرمایا : (فاجتنبوا الرجس) یعنی خبث اور گندگی سے اجتناب کرو۔ (من الاوثان) ” یعنی بتوں سے“ یعنی ہمسروں سے، جن کو تم نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ معبود بنا رکھا ہے، یہ معبود ان باطل سب سے بڑی گندگی ہیں۔ ظاہر ہے یہاں حرف جار (من) بیان جنس کے لئے نہیں ہے، جیسا کہ اکثر مفسرین کی رائے ہے بلکہ یہ تبعیض کے لئے ہے اور (رجس) تمام منہیات محرمات کے لئے عام ہے تب یہ نہی عام ہے اور بتوں کی گندگی سے اجتناب کا حکم خاص ہے، جو حرام شدہ منہیات ہی کا حصہ ہے (واجتنبوا قول الزور) یعنی تمام حرام شدہ اقوال سے اجتناب کرو کیونکہ یہ سب جھوٹی کلام میں شمار ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہیکہ وہ (حنفاء للہ) اللہ تعالیٰ کے لئے یکسور ہیں یعنی ہر ماسوا سے منہ پھیر کر صرف اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھیں۔ (ومن یشرک باللہ) ” اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے۔“ اس کی مثال ایسے ہے۔ (فکانما خر من السماء) جیسے کہ وہ آسمان سے گر پڑا ہو۔ (فتخطفہ الطیر) ” پس پرندوں نے اسے اچک لیا ہو“ نہایت سرعت سے (اوتھوی بہ الریح فی مکان سحیق) ” یا ہوا اسے کہیں دور لے جا کر پھینک دے۔“ یہی حال مشرکین کا ہے۔ پس ایمان آسمان کی مانند محفوظ اور بلند ہے اور جس نے ایمان کو ترک کردیا وہ اس چیز کی مانند ہے جو آسمان سے گرے اور آفات و بلیات کا شکار ہوجائے تو اسے پرندے اچک لیتے ہیں اور اس کے اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتے ہیں۔ مشرک کا یہی حال ہے جب وہ ایمان کو ترک کردیتا ہے تو شیاطین ہر جانب سے اسے اچک لیتے ہیں، اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے ہیں اور اس کا دین اور دنیا تباہ کردیتے ہیں۔۔۔. یا اسے سخت تیز ہوا لے اڑتی ہے اور سے فضا کے مختلف طبقات میں لئے پھرتی ہے اور اس کے اعضاء کے چیتھڑے بنا کر کہیں دور جا پھینکتی ہے۔