سورة الحج - آیت 1

يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ ۚ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

لوگو! اپنے پروردگار سے ڈرتے رہو بلاشبہ قیامت کا زلزلہ بڑی (ہولناک) چیز ہے۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 1 اللہ تبارک و تعالیٰ تمام لوگوں سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ وہ اپنے رب سے ڈریں جس نے ظاہری اور باطنی نعمتوں کے ذریعے سے ان کی پرورش کی، اس لئے ان کے لائق یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں، شرک، فسق اور نافرمانی کو ترک کردیں اور جہاں تک استطاعت ہو، اس کے احکام پر عمل کریں، پھر ان امور کا ذکر فرمایا جو تقویٰ اختیار کرنے میں ان کی مدد کرتے ہیں اور ان لوگوں کو ڈراتے ہیں جو تقویٰ کو ترک کردیتے ہیں اور وہ ہے قیامت کی ہولناکیوں کی خبر دینا، چنانچہ فرمایا : (ان زلزآ الس آپ شیء عظیم) ” بے شک قیامت کا بھونچال، بہت بڑی چیز ہے۔“ کوئی اس کا اندازہ کرسکتا ہے نہ اس کی کنہ کو پہنچ سکتا ہے۔ جب قیامت واقع ہوگی تو زمین کو نہایت شدت سے ہلا دیا جائے گا، زمین میں زلزلہ آجائے گا، پہاڑ پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوجائیں گے اور بھربھری ریت کے ٹیلوں کی شکل اختیار کرلیں گے، پھر غبار بن کر اڑ جائیں گے، پھر لوگ تین اقسام میں منقسم ہوجائیں گے۔ آسمان پھٹ جائے گا، سورج اور چاند بے نور ہوجائیں گے، ستارے بکھر جائیں گے، ایسے خوفناک زلزلے آئیں گے کہ خوف کے مارے دل پھٹ جائیں گے، خوف سے بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے اور بڑی بڑی سخت چٹانیں پگھل جائیں گی۔ اس لئے فرمایا : (یوم ترونھا تذھل کل مرضآ عما ارضعت) ” جس دن تم اسے دیکھ لو گے ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی۔“ حالانکہ دودھ پلانے والی ماں کی جبلت میں اپنے بچے کی محبت رچی بسی ہوتی ہے، خاص طور پر اس حال میں جبکہ بچہ ماں کے بغیر زندہ نہ رہ سکتا ہو (وتضع کل ذات حمل حملھا) یعنی شدت ہول اور سخت گھبراہٹ کے عالم میں ہر حاملہ عورت اپنا حمل گرا دے گی۔ (وتری الناس کری وما ھم بسکری) یعنی اے دیکھنے والو ! تم سمجھو گے کہ لوگ شراب کے نشہ میں مدہوش ہیں، حالانکہ وہ شراب نوشی کی وجہ سے مدہوش نہ ہوں گے (ولکن عذاب اللہ شدید) ” بلکہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا“ جس کی وجہ سے عقل ماری جائے گی، دل خالی ہو کر گھبراہٹ اور خوف سے لبریز ہوجائیں گے، دل اچھل کر حلق میں اٹک جائیں گے اور آنکھیں خوف سے کھلی کی کھلی رہ جائیں گی۔ اس روز کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا اپنے باپ کی طرف سے بدلہ دینے والا ہوگا (یوم یفر المرء من اخیہ۔ وامہ و ابیہ۔ و صاحبتہ و بنیہ۔ لکل امری منھم یومئذ شان یغنیہ) (عبس : ٠٨ /٤٣۔ ٧٣) ” اس روز بھائی اپنے بھائی سے دور بھاگے گا، اپنی ماں اور باپ سے، اپنی بیوی اور بیٹوں سے، اس روز ہر شخص ایک فکر میں مبتلا ہوگا جو اس کو دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گی۔“ وہاں (بعض الظالم علی یدیہ یقول یلیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا۔ یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا) (الفرقان : ٥٢ /٧٢۔ ٨٢) ” ظالم مارے پشیمانی اور حسرت کے اپنے ہاتھوں کو کاٹے گا اور پکار اٹھے گا، اے کاش میں نے رسول کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری کم بختی ! میں نے فلاں کو دوست نہ بنایا ہوتا۔“ اس وقت کچھ چہرے سیاہ پڑجائیں گے اور کچھ چہرے روشن ہوں گے۔ ترازوئیں نصب کردی جائیں گی جن میں ذرہ بھر نیکی اور بدی کا بھی وزن کیا جاسکے گا۔ اعمال نامے پھیلا دیئے جائیں گے اور ان کے اندر درج کئے ہوئے تمام اعمال، اقوال اور نیتیں، خواہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے، سامنے ہوں گے اور جہنم کے اوپر پل صراط کو نصب کردیا جائے گا۔ جنت اہل تقویٰ کے قریب کردی جائے گی اور جہنم کو گمراہ لوگوں کے سامنے کردیا جائے گا (اذا راتھم من مکان بعید سمعوا لھا تغیظا وزفیرا۔ واذا القوا منھا مکانا ضیقا مقرنین دعوا ھنالک ثبورا) (الفرقان : ٥٢ /٢١۔ ٣١) ” جب وہ جہنم کو دور سے دیکھیں گے تو اس کی غضبناک آواز اور اس کی پھنکار سنیں گے، اور جب ان کو جکڑ کر جہنم کی کسی تنگ جگہ میں پھینک دیا جائے گا تو وہاں اپنی موت کو پکارنے لگیں گے“ ان سے کہا جائے گا (لاتدعوا الیوم ثبورا واحدا و ادعوا ثبور اکثیرا) (الفرقان : ٥٢/٤١) ” آج ایک موت کو نہیں بہت سی موتوں کا پکارو۔“ اور جب وہ اپنے رب کو پکاریں گے کہ وہ ان کو وہاں سے نکالے تو رب تعالیٰ فرمائے گا۔ (اخسؤ فیھا ولا تکلمون) (المومنون : ٣٢ /٨٠١) ” دفع ہوجاؤ میرے سامنے سے پڑے رہو جہنم میں اور میرے ساتھ کلام نہ کرو“ رب رحیم کا غضب ان پر بھڑک اٹھے گا اور وہ ان کو درد ناک عذاب میں ڈال دے گا، وہ ہر بھلائی سے مایوس ہوجائیں گے اور وہ اپنے تمام اعمال کو موجود پائیں گے اور کوئی چھوٹے سے چھوٹا مل بھی مفقود نہیں ہوگا۔ یہ تو ہوگا کفار کا حال اور متقین کو جنت کے باغات میں خوش آمدید کہا جائے گا۔ وہ انواع و اقسام کی لذتوں سے لطف اندوز ہوں گے، جہاں جی چاہے گا وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ پس عقل مند شخص، جو جانتا ہے کہ یہ سب کچھ پیش آنے والا ہے تو اس کے لائق یہی ہے کہ وہ اس کے لئے تیاری کر رکھے، مہلت اسے غفلت میں مبتلا نہ کر دے کہ وہ عمل کو چھوڑ بیٹھے۔ تقویٰ الٰہی اس کا شعار، خوف الٰہی اس کا سرمایہ اور اللہ کی محبت اور اس کا ذکر اس کے اعمال کی روح ہو۔