سورة الأنبياء - آیت 104

يَوْمَ نَطْوِي السَّمَاءَ كَطَيِّ السِّجِلِّ لِلْكُتُبِ ۚ كَمَا بَدَأْنَا أَوَّلَ خَلْقٍ نُّعِيدُهُ ۚ وَعْدًا عَلَيْنَا ۚ إِنَّا كُنَّا فَاعِلِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ دیں گے جے سے تحریروں کا طرہ لپیٹ دیا جاتا ہے۔ جس طرح ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتداء کی تھی اسی طرح اس کا اعادہ [٩٢] کریں گے۔ یہ ہمارے ذمہ ایک وعدہ ہے اور ہم یہ کرکے رہیں گے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 104 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ وہ قیامت کے روز آسمانوں کو، ان کی عظمت اور وسعت کے باوجود، لپیٹ دے گا، جس طرح کاتب ورق کو لپیٹتا ہے یہاں (السجل) سے مراد ورق ہے جس کے اندر کچھ تحریر کیا گیا ہو۔ پس آسمان کے تمہارے ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے۔ سورج اور چاند اپنی روشنی سے محروم ہو کر اپنی اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے۔ (کما بدانا اول خلق نعیدہ) ہم مخلوق کو دوبارہ اسی طرح پیدا کریں گے جس طرح ہم نے ان کو ابتدا میں پیدا کیا تھا۔ پس جس طرح ہم نے ان کو اس وقت پیدا کیا جب وہ کچھ بھی نہ تھے، اسی طرح ہم ان کو ان کے مرنے کے بعد دوبارہ پیدا کریں گے۔ (وعدا علینا انا کنا فعلین) یعنی جو ہم نے وعدہ کیا ہے اس کو پورا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ اس کو پورا کرنے کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے اور کوئی چیز اس کے لئے ناممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (ولقد کتبنا فی الزبور) ” اور ہم نے لکھا زبور میں۔“ اور وہ ہے لکھی ہوئی کتاب اور اس سے مراد ہے کتب الٰہیہ، مثلاً تورات وغیرہ (من بعد الذکر) ” ذکر (میں لکھنے) کے بعد۔“ یعنی ہم نے کتاب سابق لوح محفوظ یعنی ام الکتاب میں لکھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ کتابوں میں لکھ دیا۔ تمام تقدیریں ام الکتاب کے موافق واقع ہوتی ہیں اور اس میں یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ (ان الارض) ” بلاشبہ زمین“160 یعنی جنت کی زمین (یرثھا عبادی الصلحون) ” اس کے وارث ہوں گے میرے نیک بندے۔“ جو مامورات کو قائم اور منہیات سے اجتناب کرتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ جنت کا وارث بنائے گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کا قول نقل فرمایا : (الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ و اور ثنا الارض نتبوا من الجآ حیث نشاء) (الزمر : ٩٣/٤٧) ” ہر قسم کی حمد و ثنا اللہ تعالیٰ کے لئے ہے جس نے ہمارے ساتھ اپنے وعدے کو سچا کر دکھایا اور ہمیں زمین کا وارث بنایا ہم جنت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بنا سکتے ہیں۔ “ اس آیت کریمہ میں یہ احتمال بھی ہے کہ زمین سے مراد زمین کی خلافت ہو۔ اللہ تعالیٰ صالحین کو زمین میں اقتدار عطا کرے گا اور ان کو زمین کا والی بنائے گا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وعد اللہ الذین امنوا منکم وعملو الصلحت لیستخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم) (النور : ٤٢/٥٥) ” اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ وعدہ کیا ہے، جو ایمان لائیں گے اور نیک کام کریں گے کہ وہ ان کو اسی طرح زمین کی خلافت عطا کرے گا جس طرح ان سے پہلے لوگوں کو عطا کی تھی۔ “