سورة الأنبياء - آیت 26

وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا ۗ سُبْحَانَهُ ۚ بَلْ عِبَادٌ مُّكْرَمُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

(مشرکین) کہتے ہیں کہ رحمن کا اولاد [٢٢] ہے۔ اللہ ایسی باتوں سے پاک ہے، بلکہ وہ تو اس کے معزز بندے ہیں۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 26-29 اللہ تبارک و تعالیٰ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کرنے والے مشرکین کی سفاہت اور ان کے زعم باطل کے بارے میں خبر دیتا ہے۔۔۔۔ ان کا برا ہو۔۔۔۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا بیٹا بنایا ہے اور وہ ہر زہ سرائی کرتے ہیں کہ فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی اس ہر زہ سرائی سے بلند و بالا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے اوصاف کے متعلق آگاہ فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ربویت کے مرہون بندے اور اس کے دست تدبیر کے تحت مجبور ہیں اور انہیں کسی قسم کا اختیار حاصل نہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں لائق تکریم ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمت اور کرامت کے مستحق بندوں میں شامل کیا ہے، انہیں رذائل سے پاک اور بے شمار فضائل سے مختص فرمایا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی باادب اور اس کے احکامات کی تعمیل کرنے والے ہیں۔ (لا یسبقونہ بالقول) تدبیر مملکت کے متعلق اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ارشاد نہ فرمائے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کامل طور پر موؤب اور اللہ تعالیٰ کے کمال و حکمت سے پوری طرح آگاہ ہیں ( وھم بامرہ یعملون) وہ انہیں جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں اور جس کام پر انہیں لگاتا ہے وہ اسے سر انجام دیتے ہیں، وہ لمحہ بھر کے لئے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نظر انداز کر کے اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ (یعلم ما بین ایدھم وما خلفھم) یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ماضی اور مستقبل کے تمام معاملات کا علم رکھتا ہے وہ اس کے احاطہ علم سے اسی طرح باہر نہیں نکل سکتے جیسے وہ اس کے دائرہ امر و تدبیر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ ان کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی بات میں اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کرسکتے اور نہ اس کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر کسی کی سفارش کرسکتے ہیں، اس لئے جب اللہ تعالیٰ ان کو اجازت دیتا ہے اور جس کے بارے میں وہ سفارش کرنا چاہتے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، تب وہ سفارش کرتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ صرف اسی قول و عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لئے اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع میں کیا گیا ہو۔۔۔۔۔ یہ آیت کریمہ شفاعت کے اتبات پر دلالت کرتی ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے شفاعت کریں گے۔ (وھم من خشیتہ مشفقون) یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، ان کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے غلبہ و جمال کے سامنے سرافگندہ ہیں۔ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ الوہیت میں ان ( فرشتوں) کا کوئی حق نہیں اور نہ وہ عبودیت ہی کا کوئی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہیں جو عدم استحقاق کا تقاضا کرتی ہیں، تو اللہ تعالیٰ نے بھی ذکر فرما دیا کہ الوہیت میں بھی ان کا کوئی حصہ نہیں اور نہ مجرد دعویٰ سے الوہیت کا استحقاق ثابت ہوتا ہے اور ان میں سے جو کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ (انی الہ من دونہ) کہ میں اللہ کے سوامعبود ہوں“ یعنی فرض کیا اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ( انی الہ من دونہ) ” کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں“ یعنی فرض کیا اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے ( فذلک نجزیہ جھنم کذلک نجزی الظلمین) تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو جزا دیتے ہیں “۔ اور اس سے بڑا اور کونسا ظلم ہوسکتا ہے کہ ایک ناقص مخلوق جو ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے، خصائص الوہیت و ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہونے کا دعویٰ کرے؟