سورة الأنبياء - آیت 18

بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَى الْبَاطِلِ فَيَدْمَغُهُ فَإِذَا هُوَ زَاهِقٌ ۚ وَلَكُمُ الْوَيْلُ مِمَّا تَصِفُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

بلکہ (۔۔) ہم باطل [١٥] پر حق کی ضرب لگاتے ہیں تو حق باطل کا بھیجا نکال دیتا ہے اور باطل شکست کھا کر بھاگ اٹھتا ہے اور تمہارے لئے ہلاکت ہے ان باتوں کی وجہ سے جو تم بیان کرتے ہو۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 18-20 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے احقاق حق اور ابطلال باطل کی ذمہ داری لی ہے۔ باطل خواہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو اللہ تعالیٰ حق، علم اور بیان نازل کرتا ہے، جس سے باطل پر ضرب لگتی ہے پس باطل مضمحل ہوجاتا ہے اور اس کا بطلان ہر ایک پر ظاہر ہوجاتا ہے ( فاذا ھوا زاھق) یعنی مضمحل ہو کر فنا کے گھاٹ اتر جاتا ہے اور تمام دینی مسائل میں یہی اصول عام ہے، جب بھی کوئی باطل پرست شخص باطل کو حق ثابت کرنے یا حق کو رد کرنے کے لئے کوئی عقلی یا نقلی شبہ وارد کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے عقلی اور نفلی دلائل میں اتنا زور ہوتا ہے کہ وہ اس قول باطل کو زائل کر کے اس کا قلع قمع کردیتا ہے اور یوں اس کا بطلان ہر شخص پر واضح ہوجاتا ہے۔ اگر تمام مسائل میں ایک ایک مسئلہ کا اسقراء کیا جائے تو آپ اس اصول کو اسی طرح پائیں گے۔ پھر ارشاد فرمایا (ولکم) اور تمہارے لئے۔ اے لوگو ! جو اللہ تعالیٰ کو ان صفات سے موصوف کرتے ہو جو اس کے شایان شان نہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کا بیٹا، بیوی، اس کے ہمسر اور شریک قرار دینا۔ ان باطل باتوں میں سے تمہارا حصہ اور تمہارا نصیب ہے کہ اس پاداش میں تمہارے لئے ہلاکت، ندامت اور خسارہ ہے تم نے جو کچھ کہا ہے اس میں تمہارے لئے کوئی فائدہ ہے نہ تمہارے لئے کوئی بھلائی، جس کی خاطر تم عمل کر رہے ہو اور جہاں پہنچنے کے لئے تم کوشاں ہو، البتہ تمہارے مقصود و مطلوب کے برعکس، تمہارے نصیب میں نا کامی اور محرومی ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ زمین، آسمان اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے ان سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی غلام اور مملوک ہے۔ زمین و آسمان کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کی ملکیت ہے نہ اس میں کسی کا حصہ ہے، نہ اس اقتدار میں اس کا کوئی معاون ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش کرسکے گا، پھر کیسے ان کو معبود بنایا جاسکتا ہے اور کیسے ان میں سے کسی کو اللہ کا بیٹا قرار دیا جاسکتا ہے ؟۔۔۔۔۔۔ بالا و بلند اور پاک ہے وہ ہستی جو مالک اور عظمت والی ہے جس کے سامنے گردنیں جھکی ہوئی، بڑے بڑے سرکش سرافگندہ اور جس کے حضور مقرب فرشتے عاجز اور فروتن ہیں اور سب اس کی دائمی عبادت میں مصروف ہیں۔ بناء بریں فرمایا (ومن عندہ) ” اور جو اس کے پاس ہیں“۔ یعنی فرشتے (لا یستکبرون عن عبادتہ ولا یستحسرون) ” وہ اس کی عبادت سے انکار کرتے ہیں نہ وہ تھکتے ہیں۔“ یعنی شدت رغبت، کامل محبت اور اپنے بدن کی طاقت کی وجہ سے، اس کی عبادت سے تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں۔ (یسبحون الیل و النھار ولا یفترون) یعنی وہ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی تسبیح و تمہید میں مستغرق رہتے ہیں ان کے اوقات میں کوئی وقت فارغ ہے نہ عبادت سے خالی ہے۔ وہ اپنی کثرت کی با وصف سے متصف ہیں۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال، اس کی قدرت، اس کے کامل علم و حکمت کا بیان ہے جو اس امر کا موجب ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت کی جائے نہ عبادت کو غیر اللہ کی طرف پھیرا جائے۔