سورة الأنبياء - آیت 11

وَكَمْ قَصَمْنَا مِن قَرْيَةٍ كَانَتْ ظَالِمَةً وَأَنشَأْنَا بَعْدَهَا قَوْمًا آخَرِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

کتنی ہی ایسی بستیاں ہیں جن کے رہنے والا ظالم تھے تو انھیں ہم نے پیس کے رکھ دیا اور ان کے بعد دوسرے لوگ [١١] پیدا کردیئے۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 11-15 اللہ تبارک و تعالیٰ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلانے والے ظالموں کو ان قوموں کے انجام سے ڈراتا ہے جنہوں نے دیگر انبیاء و مرسلین کی تکذیب کی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ( وکم قصمنا) اور کتنی ہی ہم نے ہلاک کردیں۔ یعنی جڑ کاٹنے والے عذاب کے ذریعے سے ( من قریۃ) بستیاں جنہوں نے اپنے انجام کو نظر انداز کیا۔ (وانشانا بعد ھا قوماً اخرین) اور ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔ جب ان ہلاک ہونے والوں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اسکے عقاب کے نزول کو دیکھ لیا تو ان کے لئے لوٹنا ممکن نہ رہا اور اس عذاب سے رہائی پانے کا ان کے پاس کوئی راستہ نہ رہا تو وہ تو صرف ندامت، افسوس اور اپنے کرتوتوں پر حسرت کے مارے زمین پر قاؤں پٹختے تھے، تو تمسخر اور ٹھٹھے کے انداز میں ان سے کہا گیا۔ (لا ترکضوا وارجعوا الی ما اترفتم فیہ و مسکنکم لعلکم تسئلون) یعنی اب ندامت کا اظہار کرنے اور ایڑیاں مارنے سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اگر تم قدرت رکھت ہو تو اپنی لذتوں اور شہوتوں بھری خوشحال زندگی، اپنے آراستہ اور مزین گھروں اور اس دنیا کی طرف واپس لوٹ کر دکھاؤ جس نے تمہیں دھوکے میں ڈال کر غافل رکھا تھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا حکم آن پہنچا۔ پس واپس لوٹ کر دنیا میں ڈیرے ڈال دو، اس کی لذات کی خاطر جرائم کا ارتکاب کرو، اپنے گھروں میں اطمینان کے ساتھ بڑے بن کر رہو۔ شاید اپنے امور میں تم پھر مقصود بن جاؤ اور دنیا کے معاملات میں پھرتم سے جواب دہی کی جائے جیسا کہ پہلے تمہارا حال تھا۔ لیکن یہ بہت بعید ہے۔ اب دنیا میں کیسے واپس جایا جاسکتا ہے، وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب نازل ہوگیا، ان کا عزو شرف ختم ہوگیا اور ان کی دنیا بھی فنا ہوگئی اور ندامت اور حسرت ان کا نصیب بن گئی۔ اسی لئے (قالو یویلنا انا کنا ظلمین۔ فما زالت ثلک دعوھم) انہوں نے کہا ہائے افسوس ! ہم ہی ظالم تھے، تو ان کی یہی پکار رہی یعنی وہ پکار پکار کر کہتے رہے کہ ہائے ہم تباہ و برباد ہوگئے انہوں نے ندامت کا اظہار کیا اور اس حقیقت کا اعتراف کیا۔ کہ خود انہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ( حتی جعلنھم حصیداً خمدین) یہاں تک کہ کردیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ ( کی طرح) یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑگئیں اور آوازیں ختم ہوگئیں، اس لئے اے لوگوں جن کو مخاطلب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جھٹلانے سے بچو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہوجائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔