سورة الأنبياء - آیت 5

بَلْ قَالُوا أَضْغَاثُ أَحْلَامٍ بَلِ افْتَرَاهُ بَلْ هُوَ شَاعِرٌ فَلْيَأْتِنَا بِآيَةٍ كَمَا أُرْسِلَ الْأَوَّلُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

بلکہ وہ تو یہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن کی آیات) پراگندہ خواب ہیں، بلکہ یہ اس کی اپنی خود ساختہ چیز ہے، بلکہ یہ شاعر [٦] ہے، ورنہ اسے ہمارے پاس کوئی ایسا معجزہ [٧] لانا چاہئے جیسا کہ پہلے رسول معجزات دے کر بھیجے گئے تھے۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 5-6 اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لائے ہوئے قرآن عظیم پر کفار کی بہتان طرازی کا ذکر کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بارے میں جھوٹ گھڑتے اور اس کے بارے میں مختلف باطل باتیں پھیلاتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں ” یہ پراگندہ خواب ہیں“ ایک سوئے ہوئے شخص کے ہذیانی کلام کی مانند، جسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ کبھی کہتے ہیں ” یہ اس کا من گھڑت کلام ہے“ جو اس نے اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے اور کبھی کہتے ہیں ” یہ شاعر ہے“ اور جو قرآن یہ لے کر آیا ہے وہ محض شاعری ہے۔ جو کوئی واقعات اور رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے احوال کی ادنیٰ سی بھی معرفت رکھتا ہے اور اس کلام میں غور کرتا ہے جسے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لے کر آئے ہیں وہ ایسے جزم و یقین سے پکار اٹھتا ہے، جس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں ہوتا کہ یہ نہایت جلیل القدر اور بلند ترین کلام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ کوئی بشر اس جیسا کلام پیش کرنے پر قادر نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کے سامنے چیلنج کیا ہے کہ وہ اس کلام کا مقابلہ کر دکھائیں، حالانکہ ان کے اندر قرآن عظیم کی مخالفت اور اس کے ساتھ عداوت کا وافر داعیہ موجود تھا۔ بایں ہمہ وہ اس کلام کا مقابلہ نہ کرسکے اور وہ یہ سب کچھ جانتے ہیں۔ ورنہ وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو باز رکھا، ان کو کانٹوں پر لوٹنے پر مجبور کیا اور ان کی زبانوں کو گنگ کردیا ؟۔۔۔ وہ حق کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کرسکتی؟ اور چونکہ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے ایسے لوگوں کو، جو اس کی معرفت نہیں رکھتے متنفر کرنے کے لئے اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ یہ قرآن عظیم ہمیشہ رہنے والا سب سے بڑا معجزہ ہے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی لائی ہوئی ہدایت کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرتا ہے اور یہ کافی وشافی ہے۔ پس جو اس کے علاوہ کوئی اور دلیل طلب کرتا ہے اور اپنی خواہش کے مطابق معجزوں کا مطالبہ کرتا ہے، وہ جاہل اور ظالم ہے اور ان معاندین حق سے مشابہت رکھتا ہے جنہوں نے اس کی تکذیب کی، معجزات کا مطالبہ کیا جو ان کے لئے سب سے زیادہ ضرر رساں چیز ہے اور ان معجزات میں ان کے لئے کوئی بھلائی نہیں کیونکہ اگر ان کا مقصد وضوح دلیل کے ذریعے سے معرفت حق ہے تو دلیل ان معجزات کے بغیر بھی واضح ہوچکی ہے اور اگر ان کا مقصد عاجز کرنا اور معجزات کا مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں اپنے لئے عذر کا جواز پیدا کرنا ہے۔۔۔ تو اس صورت میں بھی جب کہ قرض کرلیا جائے کہ ان کی خواہش کے مطابق معجزہ پیش کردیا جائے، وہ قطعاً ایمان نہیں لائیں گے۔ پس واقعہ یہ ہے کہ اگر ان کے پاس ہر قسم کا معجزہ ہی کیوں نہ آجائے تو پھر بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل فرمایا : (فلیاتنا بایۃ کما ارسل الاولون) ” وہ ہمارے پاس ایسی کوئی نشانی لائے جیسے پہلے پیغمبر (ان کے ساتھ) بھیجے گئے۔“ جیسے صالح (علیہ السلام) کی اونٹنی اور موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اور اس جیسے معجزات۔ بناء بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جواب میں فرمایا : (ما امنت قبلھم من قریۃ اھلکنھا افھم یومنون) ” نہیں ایمان لائی ان سے پہلے کوئی بستی جن کو ہم نے ہلاک کیا، کیا پس یہ لوگ ایمان لے آئیں گے؟“ یعنی ان معجزات پر جو ان کے مطالبوں پر پیش کئے جائیں گے۔ اللہ کی سنت کا تقاضا تو یہ ہے کہ جو معجزے طلب کرتا ہے، پھر وہ اسے دکھا دیا جاتا ہے (پھر بھی وہ ایمان نہیں لاتا تو) وہ فوری سزا سے محفوظ نہیں ہے۔ پس پہلے لوگ ان معجزات کی وجہ سے ایمان نہیں لائے، تو کیا یہ ان کی وجہ سے ایمان لے آئیں گے؟ آخر ان (عربوں) کو پہلے لوگوں پر کیا فضیلت حاصل ہے اور وہ کیا بھلائی ہے جو ان کے اندر موجود ہے جو اس بات کی مقتضی ہو کہ معجزات کے صدور پر یہ ایمان لے آئیں گے؟ یہ استفہام، نفی کے معنی میں ہے، یعنی ان سے کبھی ایسا نہیں ہوگا کہ وہ ایمان لے آئیں۔