سورة الأنبياء - آیت 1

اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

لوگوں کے حساب کا وقت قریب [١] آ پہنچا ہے جبکہ وہ ابھی تک غفلت میں منہ موڑے [٢] ہوئے ہیں۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 1-4 یہ لوگوں کے احوال پر تعجب کا اظہار ہے اور اس امر کی آگاہی کہ انہیں کوئی وعظ و نصیحت فائدہ دیتی ہے نہ وہ کسی ڈرانے والے کی طرف دھیان دیتے ہیں اور یہ کہ ان کے حساب اور ان کے اعمال صالحہ کی جزا کا وقت قریب آگیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ وہ غفلت میں پڑے روگردانی کر رہے ہیں، یعنی وہ ان مقاصد سے غافل ہیں جن کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو جو تنبیہ کی جاتی ہے وہ اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے۔ گویا کہ انہیں صرف دنیا کے لئے تخلیق کیا گیا ہے اور وہ محض اس دنیا سے فائدہ اٹھانے کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نئے نئے انداز سے انہیں وعظ و نصیحت کرتا ہے اور یہ ہیں کہ اپنی غفلت اور اعراض میں مستغرق ہیں۔ اس لئے فرمایا مایاتیھم من ذکر من ربھم محدث ” نہیں آتی ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے کوئی نئی نصیحت۔“ جو انہیں ایسی باتوں کی یاد دہانی کراتی اور ان کی ان کو ترغیب دیتی ہے جو انہیں فائدہ دیتی ہے اور ان باتوں کی بھی، جو ان کے لئے نقصان دہ ہیں اور ان سے ان کو ڈراتی ہے۔ الا استمعوہ مگر وہ اسے اس طرح سنتے ہیں جس سے ان پر حجت قائم ہوتی ہے وھم یلعبون۔ لاھیۃ قلوبھم یعنی ان کے دل اپنے دنیاوی اغراض و مقاصد میں مستغرق ہو کر اس ” ذکر“ سے روگرداں اور ان کے جسم شہوات کے حصول، باطل پر عمل پیرا ہونے اور ردی اقوال میں مشغول ہیں۔ جب کہ ان کے لئے مناسب یہ ہے کہ وہ اس صفت سے متصف نہ ہوں بلکہ اس کے برعکس وہ اللہ تعالیٰ کے امر ونہی کو قبول کریں، اسے اس طرح سنیں جس سے اس کی مراد ان کی سمجھ میں آئے، ان کے جوارح اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوں جس کیلئے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور وہ روز قیامت، حساب و کتاب اور جزا و سزا کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ اس طرح ہی ان کے معاملے کی تکمیل ہوگی، ان کے احوال درست اور ان کے اعمال پاک ہوں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد (اقترب للناس حسابھم) ” لوگوں کے لئے ان کا حساب قریب آگیا ہے۔“ کی تفسیر میں اصحاب تفسیر سے دو قول منقول ہیں۔ (١) پہلا قول یہ ہے کہ یہ امت آخری امت اور یہ رسول آخری رسول ہے۔ اس رسول کی امت پر ہی قیامت قائم ہوگی گزشتہ امتوں کی نسبت، قیامت اس امت کے زیادہ قریب ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” مجھے اس زمانے میں مبعوث کیا گیا ہے کہ میں اور قیامت کا دن اس طرح ساتھ ساتھ ہیں۔“ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے شہادت کی انگلی اور ساتھ والی انگلی کو اکٹھا کر کے دکھایا۔ (١) (٢) دوسرا قول یہ ہے کہ ” حساب“ کے قریب ہونے سے مراد موت کا قریب ہونا ہے، نیز یہ کہ جو کوئی مر جاتا ہے، اس کی قیامت قائم ہوجاتی ہے اور وہ اپنے اعمال کی جزا و سزا کے لئے دارالجزا میں داخل ہوجاتا ہے اور یہ تعجب ہر اس شخص پر ہے جو غافل اور روگرداں ہے۔ اسے معلوم نہیں کہ صبح یا شام، کب اچانک موت کا پیغام آجائے۔ تمام لوگوں کی یہی حالت ہے سوائے اس کے جس پر عنایت ربانی سایہ کناں ہے۔ پس وہ موت اور اس کے بعد پیش آنے والے حالات کے لئے تیاری کرتا ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ ذکر فرماتا ہے کہ ظالم کفار عناد اور باطل کے ذریعے سے حق کا مقابلہ کرنے کی خاطر ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں یہ کہنے پر متفق ہیں کہ وہ تو ایک بشر ہے، کس بنا پر اسے تم پر فضیلت دی گئی ہے اور کس وجہ سے اسے تم میں سے خاص کرلیا گیا ہے اور تم میں سے کوئی اس قسم کا دعویٰ کرے تو اس کا دعویٰ بھی اسی طرح کا دعویٰ ہوگا۔ درحقیقت یہ شخص تم پر اپنی فضیلت ثابت کر کے تمہارا سردار بننا چاہتا ہے، اس لئے اس کی اطاعت کرنا نہ اس کی تصدیق کرنا، یہ جادوگر ہے اور یہ جو قرآن لے کر آیا ہے، وہ جادو ہے، اس لئے اس سے خود بھی دور رہو اور لوگوں کو بھی اس سے متنفر کرو اور لوگوں سے کہو ! (افتاتون السحر وانتم تبصرون) یعنی اسے دیکھتے ہوئے تم اس جادو کی طرف کھنچے چلے آرہے ہو۔۔۔ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے برحق رسول ہیں کیونکہ وہ بڑی بڑی آیات الٰہی کا مشاہدہ کرتے ہیں جن کا مشاہدہ ان کے علاوہ کسی اور نے نہیں کیا، لیکن ظلم، عناد اور بدبختی نے ان کو اس انکار پر آمادہ کیا اور جو وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم نے ان کا احاطہ کررکھا ہے عنقریب وہ ان کو ان سرگوشیوں کی سزا دے گا۔ اس لئے فرمایا : (قل ربی یعلم القول) یعنی میرا رب جلی اور خفی ہر بات کو جانتا ہے (فی السماء والارض) ” آسمان اور زمین میں۔“ یعنی ہر اس جگہ میں جن کو ان دونوں کے کناروں نے گھیر رکھا ہے (وھو السمیع) یعنی لوگوں کی زبانوں کے اختلافات اور ان کی متنوع حاجات کے باوجود ان کی آوازیں سنتا ہے (العلیم) وہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔