سورة طه - آیت 112

وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًا وَلَا هَضْمًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جو شخص نیک اعمال کرے اور وہ مومن ہو تو اسے [٨٠] بے انصافی یا حق تلفی کا ڈر نہ ہو

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیات (112) اللہ تبارک و تعالیٰ قیامت کی ہولنا کیوں اور اس کے خوفناک زلزلوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے،(ویسئلونک عن الجبال) ” یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کے ساتھ کیا کرے گا؟ کیا یہ پہاڑ اپنی حالت پر باقی رہیں گے؟ ( فقل ینسفھا رمی نسفا) یعنی اللہ تعالیٰ ان پہاڑوں کو ان کی جگہ سے گکھاڑ پھینکے گا اور یہ پہاڑ ایسے ہوجائیں گے جیسے دھنکی ہوئی اوان اور ریت پھر ان کو ریزہ ریزہ کر کے اڑتی ہوئی خاک میں تبدیل کر دے گا۔ پہاڑ فنا ہو کر ختم ہوجائیں گے اللہ تعالیٰ ان کو ہموار کر کے زمین کے برابر کر دے گا اور زمین کو ہموار چٹیل میدان بن دے گا۔ زمین کے کامل طور پر ہموار ہونے کی بنا پر دیکھنے والے کو کوئی نشیب و فراز نظر نہیں آئے گا‘ یعنی وادیاں اور پست یا بلند مقامات نہیں ہوں گے۔ تمام زمین ہموار اور یکساں نظر آئے گی جو تمام مخلوقات کے لئے کشادہ ہوگی اور اللہ اس کو اس طرح بچھا دے گا جس طرح چمڑا ھچھایا جاتا ہے۔ تمام مخلوق ایک جگہ کھڑی ہوگی پکارنے والے کی آواز ان کو سنائی دے گی اور دیکھنے والا ان کو دیکھ سکے گا اس لئے فرمایا : (یومئذ یتبعون الداعی) ” اس دن وہ پکارنے والے کے پیچھے لگیں گے۔ اور یہ اس وقت ہوگا جب وہ دوبارہ زندہ ہو کر قبروں سے کھڑے ہوں گے اور پکارنے والا ان کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونے اور ایک جگہ جمع ہونے کے لئے پکارے گا تو وہ تیزی سے دوڑتے ہوئے اس کی طرف جائیں گے اور دائیں بائیں وہ اس سے نظر ہٹائیں گے نہ دائیں بائیں التفات کریں گے۔ فرمایا (لا عوج لہ) یعنی پکارنے والے کی دعوت میں کوئی کجی نہ ہوگی بلکہ اس کی دعوت تمام خلائق کے لئے حق اور صدق پر مبنی ہوگی اور وہ پکار کر تمام خلائق تک اپنی آواز پہنچائے گا۔ تمام لوگ قیامت کے میدان میں حاضر ہوں گے اور رحمن کے سامنے ان کی آوازیں پست ہوں گی۔ (فلا تسمع الا ھمسا) ” پس نہیں سنے گا تو سوائے کھسر پھسر کے۔“ یعنی فقط قدموں کی چاپ یا ہونٹوں کی حرکت سے پیدا ہونے والی پست اٰواز سنائی دے گی اور ان پر خشوع سکوت اور خاموشی طاری ہوگی اور رب رحمن کے فیصلے کے منتظر ہوں گے اور چہرے تذلل اور خضوع سے جھکے ہوئے ہوں گے تم اس عظیم مقام پر دیکھو گے کہ دولت مند اور فقراء مرد اور عورتیں آزاد اور غلام بادشاہ اور عوام سب نظریں نیچے کئے ساکت اور خاموش گھٹنوں کے بل گرے ہوئے اور گردنوں کو جھکائے ہوئے ہوں گے۔ کسی کو معلوم نہیں ہوگا کہ اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا۔ ہر شخص اپنے باپ بھائی اور دوست یار کو بھول کر صرف اپنے معاملے میں مشغول ہو گل۔ (لکل ابریء منھم یومئذ شان یغنیہ) (عس : ٨؍٧٣) ” اس روز ہر شخص ایک معاملے میں مصروف ہوگا جو اسے دوسروں کے بارے میں بے پروا کر دے گا۔ “ حاکم عادل اس بارے میں فیصلہ کرے گا‘ نیکوکار کو اس کی نیکی کی جزا دے گا اور بدگار کو محروم کرے گا۔ رب کریم اور رحمن و رحیم پر امید یہ ہے کہ تمام خلائق اس کے ایسے فضل و احسان‘ عفو و درگزر اور بخشش کو دیکھے گی زبان جس کی تعبیر سے قاصر اور فکر اس کے تصور سے بے بس ہے۔ تب تمام خلائق اس کی رحمت کی منتظر ہوگی مگر رحت ان لوگوں کے لئے مختص ہوگی جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ یہ امید آپ کیسے رکھ سکتے ہیں؟ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ اس امید مذکر کا آپ کو کیسے علم ہوا؟ تو ہم اس کے جواب میں عرض کریں گے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے اس کی عنایات تمام مخلوقات پر عام ہیں۔ ہم اس دنیاوی زندگی میں مشاہدہ کرتے ہیں کہ ہمیں اور دیگر لوگوں کو لا محدود نعمتیں حاصل ہیں خاص طور پر روز قیامت کے متعلق اللہ کے یہ فرامین (وخشعت الاصوات لرحمن)‘(الا من اذن لہ الرحمن) اور ( الملک یومئذن الحق لرحمن) (اعرقان : ٥٢؍٦٢) ” اس امر پر دلالت کرتے ہیں اس کے ساتھ ساتھ رسول اللہ کی رحمت کے سو حصے ہیں اس نے ایک حصہ اپنے بندوں کے لئے نازل فرمایا ہے ’ اس رحمت ہی کی بنا پر وہ ایک دوسرے کے ساتھ رحم اور عاطفت سے پیش آتے ہیں حتیٰ کہ ایک چو پائے کا پاؤں اگر اس کے بچے پر آجائے تو وہ اپنے پاؤں کو اٹھا لیتا ہے تاکہ وہ اس کو روتد نہ ڈالے یہ اس رحم کی وجہ سے ہے جو اس چو پائے کے دل میں و دیعت کیا گیا ہے۔ جب قیامت کا روز ہوگا تو رحمت کا یہ حصہ بھی ننانوے حصے میں شامل ہوجائے گا۔ اور اللہ رحمت کے ان سو حصوں کے ساتھ اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا۔“ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :” ماں اپنی اولاد کے لئے جس قدر رحیم ہے اللہ اس سے کہیں زیادہ اپنے بندوں کے لیے رحیم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں آپ جو چاہیں کہیں وہ آپ کے اندازوں اور آپ کے جس ذرح وہ اپنے عضل و احسان اور ثواب عطا کرنے میں رحیم ہے۔ ملند و بالا ہے وہ ہستی جس کی رحمت ہر چیز پر سایہ کناں ہے اور جس کا فضل و کرم ہر زندہ مخلوق کو شامل ہے وہ اپنی بے نیازی کے باعث اپنے بندوں سے بالا و برتر اور ان پر نہایت رحم کرنے والا ہے۔ بندے اپنے تمام احوال میں ہمیشہ اس کے محتاج ہیں اور لمحہ بھر کے لئے اللہ تعالیٰ سے بے نیاز نہیں رو سکتے۔ فرمایا : (یومئذ لا تنفع الا من اذن لہ الرحمن ورضی لہ قولا) ” یعنی اس کی اچازت کے بغیر کوئی شخص اس کے ہاں سفارش نہیں کرسکے گا اور وہ صرف اس شخص کے لئے سفارش کی اجازت دے گا جس کے لئے وہ راضی ہوگا‘ یعنی انبیاء و مرسلین اور مقرب بندوں کو صرف ان لوگوں کے لئے سفارش کی اجازت ہوگی جن کی باتوں کو اللہ کی رضا حاصل ہوگی اور وہ صرف مخلص مومن ہیں۔ اگر ان میں سے ایک شرط بھی معدوم ہوگی تو کسی کے لئے کسی کی سفارش قبول نہ ہوگی۔ (١) اپنے کفر کی وجہ سے اپنے آپ پر ظلم کرنے والے جنہیں نا کامی، حرماں نصیبی جہنم میں درد ناک عذاب، اور اللہ تعالیٰ کی سخت ناراضی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ (١) وہ لوگ جو انامور پر ایمان لائے جن پر ایمان لانے کے لئے ان کو حکم دیا گیا‘ نیک عمل کرتے رہے یعنی واجبات و مستحبات پر عمل پیرا رہے۔ (فلا یخف ظلما) ” پس اسے ظلم کا خوف نہیں ہوگا۔“ یعنی اس کی اصل بد اعمالیوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا (ولا ھضما) ” اور نہ حق تلفی کا۔“ یعنی نہ اس کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی بلکہ اس کے گناہوں کو بخش دیا جائے گا اس کے عیوب کو پاک کردیا جائے گا اور اس کی نیکیوں میں کئی گنا اضافہ کردیا جائے گا۔ فرمایا ( وان تک حسنۃ یضعفھا ویوئت من لدنہ اجرا عظیما) (النساء : ٤؍٠٤) ” اگر کوئی نیکی ہوگی تو وہ اسے دو گنا کردے گا اور اپنی طرف سے بہت بڑا اجر عطا کرے گا۔ “