سورة طه - آیت 82

وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَىٰ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جو شخص توبہ کرے، ایمان لائے، اچھے عمل کرے اور راہ راست پر گامزن رہے تو اسے میں یقینا بہت درگزر کرنے والا ہوں۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیات (82) اللہ تبارک و تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنا احسان عظیم یاد دلاتا ہے کہ اس نے ان کے دشمن کو ہلاک کیا اور کوہ طور کے دائیں جانب وعدہ کیا کہ وہ ان پر کتاب نازل کرے گا جس میں جلیل القدر حکام اور عالیشان خبریں ہیں۔ اس طرح دنیاوی نعمت کی تکمیل کے بعد دینی نعمت کی تکمیل ہوئی۔ مزید برآں اللہ تعالیٰ ان کو اپنا یہ احسان یاد دلاتا ہے کہ اس نے بے آب و گیان بیابان میں ان پر من و سلویٰ نازل کیا اور ان کو بافراط رزق سے نوازا جو انہیں بلا مشقت حاصل ہوتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے فرمایا : (کلو امن طیبت ما رزقنکم) یعنی اللہ تعالیٰ نے جو نعمتیں تمہیں عطا کی ہیں، ان پر اس کا شکر ادا کرو۔ (ولا طغوا فیہ) یعنی اس کے عطا کردہ رزق میں سر کشی نہ کرو کہ اسے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں استعمال کرنے لگو یا اس کی نعمت پر اترانے لگو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو تم پر میرا غضب نازل ہوگا، یعنی میں تم سے ناراض ہوجاؤں گا اور تمہیں عذاب میں مبتلا کر دوں گا۔ (ومن یحلل علیہ غضب فقد ھوی) یعنی جس پر میرا غضب نازل ہوا وہ ہلاک اور خائب و خاسر ہوا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور احسان سے محروم ہوگیا اور اس کی ناراضی اور خسارہ اس کے حصے میں آیا۔ بایں ہمہ بندے نے خواہ کتنا بڑا گناہ کیوں نہ کیا، اس کے لئے توبہ کا دروازہ ہر وقت کھلا ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وانی لغفار) یعنی جو شخص کفر، بدعت اور فسق و فجور سے توبہ کر کے اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان لے آتا ہے اور قلب، بدن اور زبان کے ذریعے سے نیک عم کرتا ہے، تو میں بہت زیادہ بخشنے والا اور بے پایاں رحمت کا مالک ہیں ہوں۔ (ثمہ اھتدی) یعنی پھر وہ صراط مستقیم پر گامزن ہوا، رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اتباع اور دین قیم کی پیروی کی۔ پس یہ وہ شخص ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام گناہوں کو بخش دے گا۔ وہ اس کے گزشتہ گناہوں اور ان پر اس کے اصرار کو معاف کر دے گا کیونکہ وہ بخشش اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لئے سب سے بڑا سبب لے کر اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوا، بلکہ تمام اسباب انہی اشیاء پر منحصر ہیں، کیونکہ توبہ گزشتہ تمام گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔ راہ ہدایت کی تمام طرف دعوت دینا، بدعت، کفرو ضلالت کا رد کرنا، جہاد اور ہجرت وغیرہ اور ہدایت کی دیگر جزئیات۔ یہ سب گناہوں کو مٹا دیتی ہیں اور منزل مطلوب کے حصول میں مدد دیتی ہیں۔