سورة طه - آیت 79

وَأَضَلَّ فِرْعَوْنُ قَوْمَهُ وَمَا هَدَىٰ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا، سیدھی راہ [٥٦] نہ دکھائی۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 79 جب موسیٰ معجزات کے ذریعے سے فرعون اور اس کی قوم پر غالب آگئے تو وہ مصر میں ٹھہر گئے اور فرعون اور قوم فرعون کو اسلام کی دعوت دینے لگے اور اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی اور اس کی تعذیب سے نجات دلانے میں کوشاں رہے۔ فرعون اپنی سرکشی اور روگردانی پر جما ہوا تھا اور بنی اسرائیل کے بارے میں اس کا معاملہ بہت سخت تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے وہ آیات و معجزات دکھائے جن کا قرآن میں ذکر فرمایا اور بنی اسرائیل اعلانیہ اپنے ایمان کے اظہار پر قادر نہیں تھے انہوں نے اپنے گھروں کو ماسجد بنا رکھ اتھا اور نہایت صبر و استقامت کے ساتھ وہ فرعون کی تعذیب اور اذیتوں کا اسمنا کر رہے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ بنی اسرائیل کو اس کے دشمن کی غلامی سے رہائی دلا کر ایک ایسی سرزمین میں آباد کرے جہاں وہ علانیہ اس کی عبادت کریں اور اس کے دین کو قائم کریں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بنی موسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے سے حکم دیا کہ وہ خفیہ طور پر بنی اسرائیل کو مصر سے نکلنے کے منصوبے سے آگاہ کریں، رات کے ابتدائی حصے میں مصر سے نکل کرراتوں رات بہت دور نکل جائیں اور خبردار کردیا کہ فرعون اپنی قوم کے ساتھ ان کا تعاقب کرے گا، چنانچہ تمام بنی اسرئایل اپنے اہل و عیال سمیت، رات کے پہلے پہر، مصر سے نکل کھڑے ہوئے۔ جب صبح ہوئی تو مصریوں نے دیکھا کہ شہر میں (بنی اسرائیل میں سے) کوئی بلانے والا ہے، نہ جواب دینے والا تو ان کا دشمن فرعون سخت غضبناک ہوا۔ اس نے تمام شہروں میں ہر کارے بھجوا دیئے تاکہ وہ لوگوں کو اکٹھا کریں اور ان کو بنی اسرائیل کے تعاقب پر آمادہ کریں تو وہ ان کو پکڑ کر ان پر اپنا غصہ نکال سکے، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے امر کو نافذ کرنے پر غالب ہے۔ پس فرعونی لشکر جمع ہوگیا تو وہ اسے لے کر بنی اسرائیل کے تعاقب میں روانہ ہوگیا ( فلماترآ الجمعن قال اصحاب موسیٰ انا لمدرکون) (الشعراء) ” جب دونوں گروہوں نے ایک دوسرے کو دیکھا تو (حضرت) موسیٰ کے ساتھیوں نے کہا لو ہم پکڑے گئے“۔ ان پر خوف طاری ہوگیا، سمندر ان کے سامنے تھا اور فرعون (اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ) ان کے پیچھے تھا اور وہ غیض و غضب سے لبریز تھا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہایت مطمئن اور پرسکون اور انہیں اپنے رب کے وعدے پر پورا بھروسہ تھا، چنانچہ انہوں نے کہا : (کلا ان معی رب سیھدین) (الشعراء) ” ہرگز نہیں ! میرے ساتھ میرا رب ہے وہ مجھے ضرور کوئی راہ دکھائے گا“۔ پس اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی کہ وہ اپنا عصا سمندر پر ماریں۔ انہوں نے اپنا عصا سمندر پر مارا تو وہ پھٹ گیا اور اس میں بارہ راستے بن گئے اور پانی بلند پہاڑ کی مانند راستوں کے دائیں بائیں کھڑا ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان تمام راستوں کو خشک کردیا جن سے پانی دور ہٹ گیا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو تسلی دیتے ہوئے حکم دیا کہ وہ فرعون سے ڈریں نہ سمندر میں غرق ہونے سے دریں۔ پس وہ سمندر میں بنے ہوئے راستوں پر چل پڑے۔ فرعون اپنے لشکر کے ساتھ ساحل سمندر پر پہنچا تو وہ ان راستوں پر ان کے پیچھے سمندر میں گھس گیا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم مکمل طور پر سمندر سے باہر آگئی اور فرعون اور اس کا لشکر پورے کا پورا سمندر میں داخل ہوگیا تو اللہ تعالیٰ نے سمندر کو حکم دیا تو سمندر کی موجوں نے ان پر تھپیڑے مارنے شروع کردیئے (راستے کے دونوں طرف کی موجیں آپس میں مل گئیں) اور سمندر نے ان کو ڈھانپ لیا اور تمام لشکر ڈوب گیا اور ان میں سے ایک بھی نہ بچا، جبکہ بنی اسرائیل اپنے دشمنوں کو ڈوبتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی آنکھوں کے سامنے ان کے دشمن کو ہلاک کر کے ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کیا۔ اور یہ کفر، ضلالت، بدراہی اور اللہ تعالیٰ کے راستے سے عدم اعتناء کا انجام ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (واضل فرعون قومہ) ” اور گمراہ کردیا فرعون نے اپنی قوم کو“۔ یعنی فرعون نے کفر کو مزین اور موسیٰ (علیہ السلام) کی دعوت کا استخفاف کر کے اور اس کو برا کہہ کر اپنی قوم کو گمراہ کیا اور کبھی بھی ان کو راہ راست نہ دکھائی۔ وہ انہیں گمراہی اور بدراہی کے گھاٹ پر لے گیا، پھر انہیں عذاب اور ہلاکت کے گڑھے میں دھکیل دیا۔