سورة طه - آیت 73

إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ ۗ وَاللَّهُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

بلاشبہ ہم اپنے پروردگار پر ایمان لاچکے ہیں تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف کردے اور وہ جادو بھی جس پر تو نے ہمیں مجبور کردیا تھا۔ اور اللہ ہی بہتر اور سدا باقی رہنے والا ہے''

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 73 کلام حق دلوں کو ضرور متاثر کرتا ہے۔ جب جادو گروں نے حضرت موسیٰ کی بات سنی تو ان جادوگروں کے درمیان باہم نزاع اور جھگڑا برپا ہوگیا۔ ان کے درمیان نزاع کا سبب شاید یہ اشتباہ تھا کہ آیا موسیٰ حق پر ہیں یا نہیں؟ مگر اس وقت تک ان کے درمیان اس بارے میں کوئی فیصلہ نہ ہوسکا تھا۔۔۔ تاکہ اللہ تعالیٰ اس معاملے کو ظہور میں لے آئے جس کا وہ فیصلہ کرچکا ہے۔ (آیت) ” تاکہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔“ اس وقت انہوں نے آپس میں سرگوشیاں شروع کردیں کہ وہ ایک موقف پر متفق ہوجائیں تاکہ اپنے قول و فعل میں کامیابی سے ہمکنار ہوں اور لوگ ان کے دین کی پیروی کریں۔ وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” انہوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمہیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمہاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد یکے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادو گروں کو اس قول کی تلقین کی جس کاس اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا : (ویذھبا بطریقتکم المثلی) ” اور تمہارے بہترین طریقے کو ختم کردیں۔“ یعنی تمہارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ تمہارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمہارے جادو کو ختم کر دے جو تمہارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمہیں ریاست ملی ہوئی ہے۔ یہ جادو گروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ پر غالب آنے کے لئے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لئے انہوں نے ایک دوسرے سے کہا : (فاجمعوا کیدکم ) ” پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔“ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفقف ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کرلو (ثم ائتواصفاً) ” پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔“ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کرسکو اور دلوں میں تمہاری ہیبت بٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو ! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آگیا وہی فوز و فلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کی ادار و مدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف اسزشوں میں انہوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی اسزش مکمل ہوگئی اور ان کا قصد منحصر ہوگیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ (قالوا یموسی اما ان تلقی) ” انہوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال“ یعنی اپنا عصا (واما ان نکون اول من القی) ” یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں۔“ انہوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔ موسیٰ نے ان سے کہا : (بل القوا ) ” بلکہ تم ہی ڈالو۔“ پس انہوں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں پھینکیں (فاذا حبالھم وعصیھم یخیل الیہ) ” یکایک ان کی رسیاں اور لاٹھیاں (حضرت) مسوی کو یوں محسوس ہوئیں“ (من سحرھم) ان کے بہت بڑے جادو کے زور سے (انھا تسعی) ” کہ وہ دوڑ رہی ہیں۔ “ جب موسیٰ کو رسیاں اور لاٹھیاں اسپن بن کر چلتی ہوئی محسوس ہوئیں (فاو جس فی نفسہ خیفۃ موسی) تو موسیٰ اپنے دل میں ڈر گئے جیاس کہ طبیعت بشری کا تقاضا ہے، ورنہ حقیقت میں انہیں اللہ تعالیٰ کے وعدے اور اس کی نصرت کا پورا یقین تھا۔ (قلنا) ان کو ثابت قدم اور مطمئن رکھنے کے لئے ہم نے کہا : (لاتخف انک انت الاعلی) ” ڈر نہ، تو ہی غالب ہوگا“ یعنی تو ہی ان پر غالب رہے گا اور وہ ہارمان کر تیرے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے۔ (والق ما فی یمینک) یعنی اپنا عصا زمین پر پھنیک دے (تلقف ماصنعوا انما صنعوا کیدسحر ولا سفلع الاسحر حیث اتی) ” وہ نگل جائے گا وہ جو کچھ انہوں نے کیا ہے ان کا کیا ہوا، جادوگر کا کرتب ہے اور جادوگر جہاں سے بھی آئے، کامیاب نہیں ہوتا۔“ یعنی ان کی اسزش اور ان کی چال ان کے لئے بار آور نہ ہوگی اور اس سے انہیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہوگا کیونکہ یہ ان جادوگروں کا فریب اور شعبدہ بازی ہے جو لوگوں کو فریب دیتے ہیں۔ وہ باطل کا لبادہ اوڑھے ہوتے ہیں مگر ظاہر یہ کرتے ہیں کہ وہ حق پر ہیں۔ پس موسیٰ نے اپنا عصا زمین پر ڈال دیا اور وہ ان جادوگروں کے بناوٹی اسنپوں کو نگل گیا اور لوگ اس اسرے کرشمے کو دیکھ رہے تھے۔ تب جادوگروں کو یقینی طور پر معلوم ہو یا کہ یہ جادو نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ معجزہ ہے پس وہ فوراً ایمان لے آئے۔ (آیت) ” پس گر گئے جادو گر سجدے میں اور کہا ہم رب کائنات پر ایمان لے آئے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔“ پس اس بھرے مجمع میں حق ظاہر اور روشن ہوگیا اور مکر و فریب اور جادو باطل ہوگیا اور یہ چیز اہل ایمان کے لئے ایک واضح دلیل اور رحمت بن گئی اور معاندین حق پر حجت قائم ہوگئی۔ (قال) فرعون نے جادوگروں سے کہا : (امنتم لہ قبل ان اذ لکم) یعنی مجھ سے پوچھے اور میری اجازت کے بغیر تم نے ایمان لانے کا اقدام کیسے کرلیا؟ چونکہ وہ اپنے ہر معاملے میں فرعون کے مطیع تھے اور اس کا نہایت ادب کرتے تھے، اس لئے فرعون کو ان کا ایمان لانابڑا عجیب اس لگا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ اس معاملے میں بھی اس کی اطاعت کریں گے۔ اس دلیل اور برہان کو دیکھ لینے کے بعد فرعون اپنے کفر اور سرکشی میں بڑھتا ہی چلا گیا۔ یہ بات کہہ کر اس نے اپنی قوم کی عقل کو اپنی اس بات سے ماؤف کردیا اور یہ ظاہر کیا کہ موسیٰ کو جادوگروں پر جو غلبہ حاصل ہوا ہے اس کی وجہ یہ نہیں کہ حق موسیٰ کے ساتھ ہے بلکہ یہ موسیٰ اور جادوگروں کا گٹھ جوڑ ہے، انہوں نے فرعون اور اس کی قوم کو ان کی زمین سے باہر نکالنے کے لئے اسزش کی ہے۔ پس فرعون کی قوم نے مکرو فریب پر مبنی اس موقف کو سچ سمجھ کر قبول کرلیا۔ (فاستخف قومہ فاطاعوہ انھم کانوا قوماً فسقین) (الزخرف :30/73) ” اس نے اپنی قوم کی عقل کو ہلکا کردیا اور انہوں نے اس کی بات مان لی، بے شک وہ نافرمان لوگ تھے۔ “ فرعون کی یہ بات کسی آدمی کی سمجھ میں نہیں آسکتی جو رتی بھر عقل اور واقعہ کی معرفت رکھتا ہے۔ کیونکہ موسیٰ جب مدین سے تشریف لائے تو وہ تنہا تھے جب وہ مصر پہنچے تو وہ کسی جادوگر سے نہیں ملے بلکہ وہ فرعون اور اس کی قوم کو دعوت دینے کے لئے جلدی سے اس کے پاس پہنچ گئے اور اسے معجزات دکھائے۔ فرعون نے موسیٰ کے معجزات کا مقابلہ کرنے کا ارادہ کرلیا اور امکان بھر کوشش کی، چنانچہ ہر کارے بھیج کر تمام شہروں سے ماہر جادوگر اکٹھے کر لئے۔ اس نے جادوگروں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ موسیٰ پر غالب آگئے تو وہ انہیں بہت بڑا معاوضہ اور قدر و منلزت عطا کرے گا۔ چونکہ وہ بہت زیادہ لالچی تھے اس لئے انہوں نے موسیٰ پر غلبہ حاصل کرنے کے لئے مکرو فریب کے ہتھکنڈے استعمال کئے۔ کیا اس صورتحال میں یہ تصور کرنا ممکن ہے کہ جادو گروں اور موسیٰ نے فرعون کے خلاف اسزش کرلی ہو اور جو کچھ پیش آیا اس پر پہلے سے اتفاق کرلیا ہو۔ یہ محال ترین بات ہے۔ پھر فرعون نے جادوگروں کو دھمکی دیتے ہوئے کہا : (فلا قطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف) ” پس میں ضرور کاٹ دوں گا تمہارے ہاتھ اور تمہارے پیر الٹے سیدھے“ جیسے فاسد برپا کرنے والے محاربین کے ساتھ کیا جاتا ہے کہ ان کا دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے۔ (ولا وصلبنکم فی جذوع النخل) یعنی تمہاری رسوائی اور اس کی تشہیر کی خاطر تمہیں کھجور کے تنوں پر سولی دے دوں گا۔ (ولتعلمن اینا اشد عذاباً وابقی) ” اور تم جان لو گے کہ ہم میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور پائیدار ہے۔“ یعنی فرعن اور اس کے گروہ کا یہ گمان تھا کہ فرعون کا عذاب اللہ تعالیٰ کے عذاب سے زیادہ سخت، حقائق کو بدلنے اور بے عقل لوگوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے زیادہ دیرپا ہے، اس لئے جب جادوگروں نے حق کو پہچان لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو عقل دے دی جس کی بنا پر انہوں نے حقائق کا ادراک کرلیا تو انہوں نے جواب دیا۔ (لن نؤثرک علی ما جآئنا من البینت) ” ہم ہرگز تجھ کو ترجیح نہیں دیں گے ان دلیلوں پر جو ہمارے پاس آئیں۔“ جو اس حقیقت پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ اکیلا ہی رب ہے، وہ اکیلا ہی معظم اور معزز ہے اور اس کے سوا (دوسرے تمام) معبود باطل ہیں۔ تجھے ہم اس ہستی پر ترجیح دیں جس نے ہمیں پیدا کیا؟ یہ نہیں ہوسکتا۔ (فاقض ما انت قاض) ” پس تو جو کرسکتا ہے کرلے۔“ یعنی جن باتوں سے تو نے ہمیں ڈرایا ہے، ہاتھ پیر کاٹنے سے، سولی پر چڑھانے سے یا اور سخت سزا سے، وہ تو دے کر دیکھ لے۔ (انما تقضی ھذہ الحیوۃ الدنیا) تو ہمیں جس تعذیب کی دھمکی دیتا ہے اس کی غایت و انتہاء یہ ہے کہ تو صرف اس دنیا میں ہمیں عذبا دے سکتا ہے جو ختم ہوجانے والا ہے یہ عذاب ہمیں کوئی نقصان نہیں دے سکتا۔ اس کے برعکس اس شخص کے لئے اللہ تعالیٰ کا دائمی عذاب ہے جو اس کا انکار کرتا ہے۔ یہ گویا فرعون کے اس قول کا جواب ہے۔ (ولتعلمن اینا اشدعذاباً وابقی) جادوگروں کے اس کلام میں اس بات کی دلیل ہے کہ عقل مند کے لئے مناسب ہے کہ وہ دنیا کی لذتوں اور آخرت کی لذتوں، دنیا کے عذاب اور آخرت کے عذاب کے مابین موازنہ کرے۔ (انا امنا بربنا لیغفرلنا خطیناً) ” ہم اپنے رب پر ایمان لائے تاکہ وہ ہماری خطائیں بخش دے۔“ یعنی ہمارے کفر اور ہمارے گناہوں کو اسلئے کہ ایمان برئایوں کا کفارہ ہے اور توبہ پچھلے گناہوں کو مٹا دیتی ہے (وما اکرھتنا علیہ من السحر) ” اور اس جادو کو بھی معاف کر دے جس پر تو نے ہمیں مجبور کیا۔“ یعنی وہ جس سے ہم نے حق کا مقابلہ کیا۔ جادو گروں کا یہ قول دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے خود اختیاری سے جادو کا کام نہیں کیا تھا بلکہ فرعون نے ان کو ایسا کرنے پر مجبور کیا تھا۔ ظاہر ہوتا ہے، واللہ اعلم، کہ جب موسیٰ نے ان کو نصیحت کی جیاس کہ گزشتہ صفحات میں آپ کا یہ ارشاد گزر چکا ہے (ویلکم لاتفتروا علی اللہ کذباً فیسحتکم بعذاب) (طہ، 61/20) ” کم بختو ! اللہ پر بہتان طرازی نہ کرو، ورنہ وہ کسی عذاب کے ذریعے سے تمہاری جڑ کاٹ دے گا۔“ تو آپ کی نصیحت نے جادوگروں کو متاثر کیا اور ان کے دلوں میں جاگزین ہوگئی، اس لئے موسیٰ کی نصیحت کے بعد ان کے درمیان اختلاف اور تنازع پیدا ہوا لیکن فرعون نے ان جادوگروں کو اس مکر و فریب پر عمل پیرا ہونے پر مجبور کردیا، اسی لئیا نہوں نے جادو کے کرتب دکھانے سے پہلے فرعون کی بات دہرائی (ان ھذبن لسحرن یریدن ان یخرجکم من ارضکم بسحرھما) یہ کہ ہکر وہ اپنے کام کی طرف متوجہ ہوگئے جس پر فرعون نے ان کو مجبور کیا تھا۔ شاید یہی نکتہ تھا کہ باطل کے ذریعے سے حق کی معارضت کی ناپسندیدگی ان کے لدوں میں جاگزیں ہوگئی تھی۔۔۔ انہوں نے جو کام سر انجام دیا وہ انہوں نے اغماض برتتے ہوئے سر انجام دیا۔۔۔ اسی نکتہ نے ان کے دلوں کو متاثر کیا، اس کے سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان کو ایمان اور توبہ کی توفیق عطا فرمائی۔ انہوں نے کہا تو نے جو اجر و منزلت اور عزت و جاہ کا ہم سے وعدہ کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ثواب بہتر ہے اور فرعون کے اس قول کی نسبت اللہ تعالیٰ کا ثواب اور احاسن باقی رہنے والا ہے۔ (ولتعلمن اینا اشدعذاباً وابقی) فرعون کی مرادیہ تھی کہ اس کا عذبا زیادہ سخت اور باقی رہنے والا ہے۔ قرآن کریم میں جہاں کہیں فرعون کے ساتھ موسیٰ کا ذکر آیا ہے۔ وہاں جادوگروں کے واقعے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ فرعون نے جادوگروں کے ہاتھ پاؤں کاٹنے اور سولی دینے کی دھمکی دی تھی مگر یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے اپنی اس دھمکی پر عمل کیا تھا اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں اس کی تصریح آئی ہے۔ اس دھمکی پر عمل ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی حتمی بات کہنا دلیل پر موقف ہے (جو موجود نہیں) واللہ تعالیٰ اعلم مگر اس نے اپنے اقتدار کے بل بوتے پر ان کو جو دھمکی دی تھی، وہ اس پر عمل کی دلیل ہے۔ کیوں کہ اگر یہ واقعہ نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرما دیتا۔ ناقلین کا اس پر اتفاق ہے۔