سورة طه - آیت 41

وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِي

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور میں نے تمہیں اپنے کام [٢٧] کا بنا لیا ہے۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 41 اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ بیان کرنے کے بعد کہ اس نے اپنے بندے اور رسول حضرت موسیٰ بن عمران کو دین، وحی، راسلت اور قبولیت دعا سے نوازا۔۔۔ اس نعمت کا ذکر فرمایا جو اس نے حضرت موسیٰ کو ان کی پرورش اور ان کو ایک مرحلے سے دوسرے مرحلے میں منتقل کرتے وقت عطا کی تھی، چنانچہ فرمایا : (ولقد مننا علیک مرۃ اخری) ” اور ہم نے تجھ پر احاسن کیا دوسری مرتبہ“ جب ہم نے تیری والدہ کی طرف الہام کیا کہ وہ تجھ کو رضاعت کے وقت، فرعون کے خوف سے، ایک صندوق میں ڈال دے، کیونکہ فرعون نے بنی اسرائیل کے بچوں کو ذبح کرنے کا حکم دے رکھا تھا، موسیٰ کی والدہ نے آپ کو چھپا دیا، انہیں حضرت موسیٰ کے بارے میں سخت خوف لاحق ہوا چنانچہ انہوں نے آپ کو ایک صندوق میں کھ کر دریا یعنیدریائے نیل میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ نے دریا کو حکم دیا کہ وہ اس صندوق کو کنارے پر لگا دے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مقدر کردیا کہ اس صندوق کو، اللہ تعالیٰ اور حضرت موسیٰ کا سب سے بڑا دشمن پکڑ لے اور اس کی اپنی اولاد کے ساتھ تربیت حاصل کرے اور جو کوئی اس کو دیکھے اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ اسی لئے فرمایا : (والقیت علیک محبۃ منی) ” اور میں نے ڈال دی تجھ پر محبت اپنی طرف سے۔“ یعنی جو کوئی آپ کو دیکھتا محبت کرنے لگتا تھا۔ (ولتضنع علی عینی) یعنی تاکہ تو میری آنکھوں کے اسمنے، میری حفاظت میں تربیت حاصل کرے اور رحیم و کریم اللہ کی سرپرستی سے بڑھ کر کس کی کفالت اور دیکھ بھال جلیل القدر اور کامل ہوسکتی ہے، جو اپنے بندے کو اس کے مصالح عطا کرنے اور ضرر رساں امور کو اس سے دور کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے؟ پس موسیٰ ایک حال سے دوسرے حال میں منتقل ہوتے، تو اللہ ہی ان کی مصلحت کے مطابق ان کی تدبیر فرماتا اور یہ اللہ تعالیٰ کی حسن تدبیر ہی تھی کہ جب موسیٰ دشمن کے قبضے میں چلے گئے تو ان کی والدہ سخت بے چین ہوگئیں اور ان کا دل رنجیدہ ہوگیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کو مضبوط نہ کیا ہوتا تو قریب تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کا بھید کھول دیتیں۔ اس حالت میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر تمام دودھ پلانے والیوں کا دوجھ حرام کردیا۔ انہوں نے کسی عورت کی چھاتی کو منہ نہ لگایا تاکہ معاملہ آخر کار ماں تک پہنچے اور ماں ان کو دودھ پلائے، بچہ ماں کے پاس رہے اور ماں مطمئن اور پرسکون ہو اور اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں۔ فرعون کے کارندے دودھ پلانے کو ایک ایک کر کے بچے کے پاس لائے مگر اس نے کسی کی چھاتی کو قبول نہ کیا۔ موسیٰ کی بہن آئی اور فرعون اور اس کے کارندوں سے کہنے لگی۔ (ھل ادلکم علی اھل بیت یکفلونہ لکم وھم لہ نصحون) (القصص :12/28) ” کیا میں تمہیں ایسے گھرانے کے متعلق نہ بتاؤں جو اس کی کفالت کریں اور اس کی خیر خواہی بھی کریں؟“ چنانچہ اس طرح ہم نے موسیٰ کو اس کی ماں کے پاس پہنچا دیا۔ (فرجعنک الی امک کی تقرعینھا ولاتحزن وقتلت نفاس) ” پھر ہم نے تجھے تیری ماں کی طرف لوٹایا، تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غم نہ کرے اور تو نے ایک جان کو قتل کردیا۔“ وہ مقتول قبطی تھا۔ ایک روز موسیٰ ایسے وقت شہر میں داخل ہوئے جب شہر کے لوگ غفلت میں تھے۔ آپ نے دیکھا کہ وہ شخص آپس میں لڑر ہے ہیں ان میں ایک موسیٰ کی قوم کا آدمی تھا اور دوسرا ان کی دشمن قوم یعنی قبطیوں سے تعلق رکھتا تھا۔ (افستغاثہ الذی من شیعتہ علی الذین من عدوہ فوکزہ موسیٰ فقضی علیہ) (القصص :15/28) ” جو شخص ان کی قوم سے تھا اس نے اس شخص کے خلاف موسیٰ کو مدد کے لئے پکارا جو اس کی دشمن قوم سے تھا، موسیٰ نے اس کو ایک گھوناس مارا اور اس کا کام تمام کردیا۔“ اسی پر موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کی، اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا۔ حضرت موسیٰ کو معلوم ہوا کہ دربار کے لوگ ان کو تلاش کر رہے ہیں تاکہ ان کو قتل کردیا جائے تو وہاں سے فرار ہوگئے۔ فنجینک من الغم) ” پس ہم نے تجھ کو نجات دی غم سے“ یعنی گناہ کی سزا اور قتل سے (وفتنک فتوناً) یعنی ہم نے تجھ کو آزمایا اور تجھ کو اپنے تمام احوال میں راست روپایا، یا ہم تجھ کو مختلف احوال و اطوار میں منتقل کرتے رہے یہاں تک کہ تو اپنے اس مقام کو پہنچ گیا جہاں تجھے پہنچنا۔ (فلبثت سنین فی اھل ھدین) ” پس تو اہل مدین میں کئی اسل رہا۔“ یعنی جب حضرت موسیٰ کو فرعون اور اس کے درباریوں نیق تل کرنے کا منصوبہ بنایا تو موسیٰ وہاں سے فرار ہو کر مدین پہنچ گئے اور وہاں انہوں نے نکاح کرلیا اور مدین میں آٹھ یا دس اسل رہے۔ (ثم جئت علی قدر یموسی) ” پھر تو آیا تقدیر کے مطابق اے موسیٰ !“ یعنی تو اس مقام پر اتفاقاً بغیر قصدوار اوہ بغیر ہماری تدبیر کے نہیں پہنچا بلکہ ہمارے لطف و کرم اور اندازے سے پہنچا ہے۔ یہ آیات کریمہ دلالت کرتی ہیں کہ موسیٰ کلیم اللہ پر اللہ تعالیٰ کی کامل نظر عنایت تھی۔ بناء بریں فرمایا،(واصطنعتک لنفسی) ” اور میں نے تجھ کو پسند کرلیا اپنی ذات کے لئے“ یعنی میں نے تجھ پر اپنی نعمتوں کا فیضان کیا اور تجھ کو اپنی خصوص توجہ اور تربیت سے نوازا تاکہ تو میرا خاص محبوب بندہ بن جائے اور ایسے مقام پر فائز ہوجائے جہاں تک کوئی شاذ و نادر شخص ہی پہنچتا ہے۔ مخلوق میں جب ایک دوست دوسرے دوست کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ اس کا دوست اپنے کمال مطلوب میں بلند ترین مقام پر پہنچ جائے تو وہ اس کو اس مقام پہ پہنچانے کے لئے انتہائی کوشش اور جدوجہد کرتا ہے۔۔۔ جب مخلوق کا یہ حال ہے تو آپ کا رب قادر و کریم کے بارے میں کیا خیال ہے، کہ وہ مخلوق میں سے جس کو اپنا محبوب اور دوست بنانے کے لئے چن لے اس کے ساتھ کیا کے گا؟