سورة طه - آیت 17

وَمَا تِلْكَ بِيَمِينِكَ يَا مُوسَىٰ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور اے موسیٰ ! یہ تمہارے داہنے [١٣] ہاتھ میں کیا ہے؟

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 17 جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کے سامنے اساس ایمان کا ذکر کیا تو ارادہ فرمایا کہ وہ ان کے سامنے اساس ایمان کو اچھی طرح واضح کر دے اور انہیں اپنی نشانیاں دکھائے جن سے ان کا دل مطمئن اور آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور دشمن کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی تایلد سے ان کے ایمان کو تقویت حاصل ہو، اس لئے فرمایا : (وما تلک بیبیک یموسی) ” اے موسیٰ! تیرے دائیں ہاتھ میں کیا ہے؟“ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد اس کے باوجود تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر زیادہ اہتمام کی بنا پر استفہام کے اسلوب میں کلام فرمایا۔ موسیٰ نے جواب میں عرض کیا : ھی عصای اتوکوا علیھا واھش بھا علی غنمی) ” یہ میری لاٹھی ہے میں اس پر ٹیک لگاتا ہوں اور اپنی بکریوں کے لئے پتے جھاڑتا ہوں۔“ اس میں اللہ تعالیٰ نے دو فوائد ذکر فرمائے ہیں۔ (١) آدمی کے لئے فائدہ، وہ چلنے پھرنے اور کھڑے ہونے میں اس کا سہارا لیتا ہے اور اسے اس سے مدد حاصل ہوتی ہے۔ (٢) بہائم کے لئے فائدہ، آدمی اس کے ذریعے سے اپنی بھیڑ بکریوں کو چراتا ہے۔ جب وہ اپنے مویشیوں کو درختوں کے پاس چراتا ہے تو اس سے درختوں کے پتے جھاڑتا ہے، یعنی یہ عصا درخت پر مارتا ہے تاکہ پتے جھڑیں اور ان کو بکریاں چر لیں۔ یہ حضرت موسیٰ کا حسن خلق ہے جس کے آثار یہ ہیں کہ وہ بہائم و حیوانات کے ساتھ بھی اچھا سلوک کرتے تھے اور ان کے ساتھ حسن رعایت سے پیش آتے تھے، نیز یہ بات کی دلیل ہے کہ حضرت موسیٰ پر اللہ تعالیٰ کی عنیات تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں چن کر اپنے لئے مخصوص کرلیا تھا اللہ تعالیٰ کی رحمت اور حکمت اس تخصیص کا تقاضا کرتی تھی۔ (ولی فیھا مارب اخری) ” اور میرے لئے اس میں دوسرے مقاصد بھی ہیں۔“ یعنی ان مذکورہ دو مقاصد کے علاوہ، دیگر مقاصد، یہ موسیٰ کا ادب تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان سے سوال کیا کہ ان کے دائیں ہاتھ میں کیا ہے۔۔۔ یہ سوال عصا کے عین کے بارے میں ہے یا اس کی منفعت کے بارے میں، اس میں دونوں احتمالات ہیں۔۔۔ موسیٰ نے اس کے عین اور منفعت، یعنی دونوں احتمالات کے مطابق جواب دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے ارشاد فرمایا : (القھا یموسی، فالقھا فاذا ھی حیۃ تسعی) ” اے موسیٰ ! اسے زمین پر ڈال دے، تو انہوں نے ڈال دیا، پس وہ دوڑتا ہوا اسنپ بن گیا۔“ اللہ تعالیٰ کے حکم سے یہ عصا ایک بہت بڑے اسنپ میں تبدیل ہوگیا اور موسیٰ خوف کھا کر بھاگ اور پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ اس اسنپ کا وصف یہ بیان فرمایا کہ وہ حرکت کرتا تھا یہ ایک ہم کے ازالے کے لئے تھا جو ممکن تھا کہ کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ یہ سب تخیل کی کارفرمائی ہے اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔ پس کے حرکت کرنے نے اس دہم کا ازالہ کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے فرمایا : (خذھا ولاتخف) ” اسے پکڑ لے اور مت ڈر“ یعنی اس سے تجھ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی۔ (سنعیدھا سیرتھا الاولی) یعنی ہم اسے اس کی اصلی ہئیت اور صفت کی طرف لوٹا دیں گے جو عصا کی ہوتی ہے۔ موسیٰ نے ایمان اور تسلیم و رضا سے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی اور اسپن کو پکڑ لیا اور اسنپ اسی جانے پہچانے عصا میں تبدیل ہوگیا۔ یہ (پہلا) معجزہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسرے معجزے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا : (واضمم یدک الی جناحک) یعنی اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال اور اپنے بازو کو اپنے ساتھ لگا لے جو اناسن کے پر ہیں۔ (تخرج بیضآء من غیر سوآء) یعنی بغیر کسی عیب اور برص وغیرہ کے، سفید، چمکتا ہوا نکلے گا۔ (ایۃ اخری) یہ دوسرا معجزہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (فذنک برھانن من ربک الی فرعون و ملاۂ انھم کانوا قوماً فسقین) (القصص :32/28) ” تیرے رب کی طرف سے یہ دو معجزے ہیں، فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔ “ (لنریک من ایتنا الکبری) یہ مذکور افعال۔۔۔ یعنی عصا کا اسنپ بن جانا اور ہاتھ کا دیکھنے والوں کے لئے سفید چمکدار ہوجانا۔۔۔ صرف اس لئے سر انجام دیئے ہیں تاکہ ہم تجھ کو اپنی بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ کروائیں، جو تیری راسلت کی صحت اور جو کچھ تو لے کر آیا ہے اس کی حقیقت پر دلالت کرتی ہیں اور یوں تجھ کو اطمینان قلب حاصل ہوگا، تیرے علم میں اضافہ ہوگا اور تو اللہ تاعلیٰ کی حفاظت اور نصرت کے وعدے پر بھروسہ کرے گا، نیز یہ نشانیاں ان لوگوں کے سامنے حجت اور دلیل ہوں گی جن کی طرف تجھ کو مبعوث کیا جا رہا ہے۔