سورة طه - آیت 12

إِنِّي أَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ ۖ إِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

میں تمہارا پروردگار ہوں۔ اس وقت تم طویٰ کے مقدس میدان میں ہو۔ لہذا جوتے اتار لو

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 12 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے استفہام تقریری کے طور پر اور اس قصہ مذکورہ کی تعظیم اور عظمت کی خاطر، فرماتا ہے : (وھل اتک حدیث موسی) ” کیا آپ کے پاس موسیٰ کی بات آئی؟“ یعنی جناب موسیٰ کی اس حالت کا قصہ، جو ان کی اسدت کی بنیاد اور ان کی نبوت کی ابتدا تھی کہ انہیں بہت دور سے آگ نظر آئی اور وہ راستے سے بھٹک گئے تھے اور سردی محسوس کر رہے تھے اور ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہ تھی جس سے وہ اپنے سفر میں گرمی حاصل کرسکیں۔ (فقال لاھلہ امکثوا انی انست ناراً) ” تو انہوں نے اپنے گھر والوں سے کہا، ذرا ٹھہرو میں نے آپ دیکھی ہے“ اور یہ آگ کو وہ طور کے دائیں جانب تھی۔ (لعلی اتیکم منھا بقیس) ” شاید میں تمہارے پاس اس میں سے ایک انگارا لاؤں۔“ تاکہ تم اس سے آگ تاپ سکو (اوجد علی النار ھدی) یا اس آگ کے پاس مجھے کوئی ایسا شخص مل جائے جو مجھے راستہ بتا دے۔ موسیٰ کا مقصود تو حسی روشنی اور حسی ہدیات تھا۔ مگر انہوں نے وہاں معنوی نور یعنی نور وحی پا لیا۔ جس سے قلوب و ارواح روشن ہوتے ہیں اور انہیں حقیقی ہدایت یعنی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل ہوئی جو نعمتوں بھری جنت کو جاتی ہے۔ حضرت موسیٰ ایک ایسی چیز سے بہرہ ور ہوئے جو ان کے کسی حاسب اور خواب و خیال میں بھی نہ تھی۔ (فلما اتھا) یعنی جب حضرت موسیٰ اس آگ کے پاس پہنچے جو انہوں نے دور سے دیکھی تھی۔۔۔ جو دلالت کرتا ہے (آیت) (١) ” اس کا حجاب نور ہے۔ ایک روایت میں ہے : آگ۔ اگر وہ اس حجاب کو ہٹا دے تو اس کے چہرے کا جلال حد نگاہ تک ہر چیز کو بھسم کر ڈالے۔“ جب موسیٰ وہاں پہنچے تو اس میں سے آواز آئی یعنی اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کو ندادی جیاس کہ ارشاد فرمایا : (ونادینہ من جانب الطور الایمن وقربنہ نجیاً (مریم :52/19) ” ہم نے اسے کوہ طور کی دائیں جانب سے پکارا اور سرگوشی کرنے کے لئے اس کو قریب کیا۔ “ (انی انا ربک فاخلع نعلیک انک بالواد المقدس طوی) اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ وہ موسیٰ کا رب ہے اور حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مناجات کے لئے تیار اور اس کا اہتمام کرلیں اور اپنے جوتے اتار دیں کیونکہ وہ مقدس، پاک اور قابل تعظیم وادی میں ہیں۔ اگر وادی کی تقدیس کے لئے کوئی اور چیز نہ ہوتی تب بھی حضرت موسیٰ کلیم اللہ کو مناجات کے لئے چن لینا ہی کافی تھا۔ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو جوتے اتارنے کا اس لئے حکم دیا تھا کیونکہ وہ گندھے کی کھال سے بنے ہوئے تھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم