سورة طه - آیت 1

ه

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

طٰہ

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 1 (طہ) اس کا شمار من جملہ حروف مقطعات سے ہے جن کے ساتھ بہت سی سورتوں کی ابتداء ہوتی ہے اور واضح رہے کہ یہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اسم گرامی نہیں ہے۔ (ما انزلنا علیک القرآن لتشقی) ” نہیں اتارا ہم نے آپ پر قرآن اس لئے کہ آپ مشقت میں پڑیں۔“ یعنی آپ کی طرف وحی بھیجنے، قرآن نازل کرنے اور آپ کو شریعت عطا کرنے کا مقصد یہ نہیں کہ آپ کسی سختی میں مبتلا ہوں،(ایاس نہیں کہ) شریعت میں کوئی تکلیف ہو جو مکلفین پر شاق گزرے اور عمل کرنے والوں کے قوی اس پر عمل کرنے سے عاجز ہوجائیں۔ وحی، قرآن اور شریعت کو تو رحیم و رحمان نے نازل کیا ہے اور اسے سعادت اور فوز و فلاح کا راستہ قرار دیا، اسے انتہائی سہل رکھا، اس کے تمام راستوں اور دروازوں کو آسان بنایا اور اسے قلب و روح کی غذا اور بدن کی راحت قرار دیا۔ فطرت سلیم اور عقل مستقیم نے اسے قبول کر کے اس کے سامنے سرتسلیم خم کردیا کیوکہ فطرت سلیم اور عقل مستقیم کو علم ہے کہ یہ دنیا و آخرت کی بھلائی پر مشتمل ہے اس لئے فرمایا : (الا تذکرۃ لمن یخشی) یہ اس لئے نازل کیا تاکہ اس سے وہ شخص نصیحت پکڑے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ پس وہ جلیل ترین مقاصد کی خاصر اس کے اندر دی گئی ترغیب سے نصیحت پکڑتا اور اس کی وجہ سے اس پر عمل کرتا ہے اور اس کے اندر شقاوت و خسران سے جو ڈرایا گیا ہے، اس سے ڈرتا اور شریعت کے احکام جمیلہ سے نصیحت پکڑتا ہے جن کا حسن و جمال، مجمل طور پر عقل میں جاگزیں ہے اور وہ ان تفاصیل کے مطابق ہیں جو اس کی عقل و فطرت میں موجود ہیں، اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کو (تذکرہ) کہا ہے۔ کسی چیز کا ” تذکرہ“ موجود ہوتا ہے البتہ اناسن خود اس سے غافل ہوتا ہے یا اس کی تفاصیل مستحضر نہیں ہوتیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس ” تذکرہ“ (یاد دہانی) کو اس شخص کے ساتھ مختص کیا ہے (لمن یخشی) ” جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرنے والا شخص اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا اور وہ شخص فائدہ اٹھا بھی کیسے سکتا ہے جو جنت پر ایمان رکھتا ہے نہ جہنم پر اور اس کے قلب میں ذرہ بھر بھی خوف الٰہی موجود نہیں؟ یہ ایسی بات ہے جو کبھی نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (سیذکر من یخشی، ویتجنبھا الاشقی، الذی یصلی النار الکبری) (الاعلی :12-10/88) ” جو اللہ کا خوف رکھتا ہے وہی اس سے نصیحت پکڑتا ہے اور بدبخت (اور بے خوف اناسن) اس سیپ ہلو تہی کرتا ہے، وہ جو بہت بڑی دھکتی ہوئی آگ میں جھونکا جائے گا۔ “ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس قرآن عظیم کی جلالت شان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خلاق ارض و سماء کی طرف سے نازل کردہ کتاب ہے جو تمام ائنتا کی تدبیر کرتا ہے۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کو حد درجہ اطاعت اور محبت و تسلیم کے ساتھ قبول کرو اور انتہائی حد تک اس کی تعظیم کرو۔ (اللہ تعالیٰ نے بہت دفعہ (خلق) اور (امر) کو مقرون ( ساتھ ساتھ) بیان کیا ہے جیاس کہ اس آیت کریمہ میں بھی ہے اور جیاس کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں ہے : (الا لہ الخلق والامر) (الاعراف :35/8) ” آگاہ رہو کہ تخلیق بھی اسی کی اور حکم بھی اسی کا ہے۔“ جیاس کہ فرمایا : (آیت) ” اللہ ہی تو ہے جس نے استوں آسمان پیدا کئے اور ویسی ہی (است) زمینیں، ان میں امر الٰہی نازل ہوتا ہے۔“ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق کائنات، حکم دینے والا اور روکنے والا ہے۔ پس جس طرح اس کے سوا کوئی خالق نہیں، اسی طرح مخلوق پر اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی لازم کرنے والا نہیں۔ ان کے خالق کے سوا کوئی حکم دے سکتا ہے نہ روک سکتا ہے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اس کے خلاق میں اس کی تدبیر کوفی و قدیر جاری و اسری ہے اور اس کے امر میں دینی و شرعی تدبیر کار فرما ہے۔ پس جیسے اس کی تخلیق اس کی حکمت کے دائرے سے باہر نہیں نکلتی، اس نے کوئی چیز عبث پیدا نہیں کی۔ پس اسیر طح اللہ تعالیٰ صرف اسی چیز کا حکم دیتا ہے جو عدل و احاسن پر مبنی ہو اور صرف عدل و احاسن اور حکمت کے تقاضے کے مطابق ہی کسی چیز سے روکتا ہے۔ جب یہ حقیت واضح ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ ہی تمام کائنات کا خالق اور مدبر ہے، وہی حکم دینے والا اور روکنے والا ہے تو اس نے اپنی عظمت اور کبریائی کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے فرمایا : (الرحمٰن علی العرش) ” رحمٰن عرش پر“ جو تمام کائنتا سے بلند، تمام کائنات سے بڑا اور تمام کائنتا سے وسیع ہے (استوی) ” مستوی ہے“ یہاں استواء سے مراد وہ استواء ہے جو اس کے جلال کے لائق اور اس کی عظمت و جمال سے مناسبت رکھتا ہے۔ پس وہ عرش پر مستوی اور کائنات پر حاوی ہے۔ (لہ ما فی السموت وما فی الارض وما بینھما) ” اسی کے لئے ہے جو آسمان میں ہے اور جو زمین ” میں ہے اور جو ان دونوں کے درمیان ہے۔“ تمام ملائکہ، جن و انس، حیوانات، جمادات اور نباتات (وماتحت الثری) ” اور جو کچھ سطح زمین کے نیچے ہے“ سب اللہ تعالیٰ کی ملکیت اور تمام لوگ اس کے بندے ہیں جو اس کے دست تدبیر اور اس کی قضا و قدر کے تحت مسخر ہیں۔ اقتدار الٰہی میں ان کا کوئی حصہ نہیں اور وہ خود اپنی ذات کے لئے کسی نفع و نقصان، موت و حیات اور دوبارہ اٹھائے جانے پر کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ (وان تجھر بالقول فانہ یعلم السر) ” اور اگر آپ اونچی بات کہیں تو وہ تو جانتا ہے سری بات کو بھی۔“ یعنی پوشیدہ کلام کو (واخفی) ” اور سری سے بھی زیادہ مخفی بات کو۔“ یعنی خفی سے خفی تر بات، جو اناس نکے دل میں ہوتی ہے اور ابھی نطق زبان پر نہیں آئی ہوتی۔ یا (السر) سے مراد وہ خیال ہے جو اناسن کے دل میں آتا ہے اور (اخفی) سے مراد وہ خیال ہے جسے ابھی دل میں آنا ہے اور ابھی تک نہیں آیا۔ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ کب وہ خیال اپنے وقت پر اپنی صفت کے ساتھ دل میں داخل ہوگا۔ معنی یہ ہے کہ علم الٰہی، چھوٹی بڑی اور ظاہر و باطن تمام اشیاء کا احاطہ کئے ہوئے ہے، اس لئے آپ بلند آواز سے بولیں یا آہستہ آواز سے، علم الٰہی کی نسبت سے سب برابر ہے۔ جب یہ بات متحقق ہوگئی کہ وہ کمال مطلق کا مالک ہے، اپنی تخلیق کے عموم کی وجہ، اپنے امرو نہی اور اپنی رحمت کے عموم کی وجہ سے، اپنی عظمت کی وسعت اور اپنے عرش پر بلند ہونے کی وجہ سے اور اپنی بادشاہی اور اپنے علم کے عموم کی وجہ سے، تو اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ صرف وہی عبادت کا مستحق ہے اور اسی کی عبادت حق ہے جس کو شریعت اور عقل و فطرت واجب ٹھہرتای ہے اور غیر اللہ کی عبادت باطل ہے۔ اس لئے فرمایا : (اللہ لا الہ الا ھو) یعنی کوئی معبود حق ہے نہ کوئی قابل عبادت جس کے سامنے محبت، تذلل، خوف، امید اور انابت کا اظہار کیا جائے اور اس کو پکارا جائے مگر صرف اللہ ہی (لہ الآسمآء الحسنی) ” اسی کے لئے ہیں اچھے نام“ یعنی اس کے بہت سے نام ہیں جو بہت اچھے ہیں۔ اس کے ناموں کا حسن یہ ہے کہ وہ نام تمام تر مدح پر دلالت کرتے ہیں۔ ان ناموں میں سے کوئی نام ایسا نہیں جو مدح و حمد پر دلالت نہ کرتا ہو۔ ان ناموں کا حسن یہ بھی ہے کہ وہ محض اعلام (نام) نہیں بلکہ وہ نام اور اوصاف ہیں۔ ان کا حسن یہ بھی ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی کامل صفات پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کامل، عام اور جلیل ترین ہے اور ان کا حسن یہ بھی ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اسے ان ناموں سے پکاریں کیونکہ یہ ایک وسیلہ ہیں جو بندوں کو اللہ کے قریب کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان ناموں کو پسند کرتا ہے اور ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو ان ناموں کو پسند کرتے ہیں اور جو انہیں یاد کرتے ہیں اور ان لوگوں سے بھی محبت کرتا ہے جو ان کے معانی کی تحقیق کرتے ہیں اور ان ناموں کے ذریعے سے اس کی عبادت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : (وللہ الاسمآء الحسنی فاد عوہ بھا) (الاعراف :180/8) ” اللہ کے اچھے اچھے نام ہیں اسے انہی ناموں سے پکارو۔ “