سورة مريم - آیت 88

وَقَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمَٰنُ وَلَدًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ رحمن کی اولاد ہے۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 88 یہ ان لوگوں کے قول کی قباحت کا بیان ہے جو عناد اور انکار پر جمے ہوئے ہیں اور اس عزم باطل میں مبتلا ہیں کہ رحمٰن نے اپن ابیٹا بنایا ہے۔ جیاس کہ نصاریٰ کہتے ہیں (المسیح ابن اللہ) التوبۃ30/9) ” مسیح اللہ کا بیٹا ہے“ یہودی کہتے ہیں (عزیز ابن اللہ) (التوبۃ:30/9) ” عزیز اللہ کا بیٹا ہے“ اور مشرکین کہتے ہیں ” فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں۔“ اللہ تعالیٰ ان کی باتوں سے بہت بلند اور بڑا ہے۔ (لقد جئتم شیاء ادا) یعنی تم نے بدترین بات کہی ہے۔ یہ اتنی بڑی بات ہے کہ (تکاد السموت) قریب تھا کہ آسمان اپنی عظمت اور صلابت کے باوصف (یتفطرن منہ) اس قول سے پھٹ جاتے۔ (وتنشق الارض) اور زمین پھٹ کر ریزہ ریزہ ہوجاتی۔ (وتحر الجبال ھداً) اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو کر برابر ہوجاتے۔ (ان دعوا للرحمٰن ولداً) ” اس بنا پر کہ انہوں نے رحمٰن کی اولاد ٹھہرائی۔“ یعنی اس بدترین دعویٰ کی بنا پر ان تمام مخلوقات کی حالت یہ ہوتی جو ان آیات میں ذکر کی گئی ہے۔ جب کہ حال یہ ہے (وما ینبغی للرحمٰن) رحمان کے یہ لائق نہیں ہے اور نہ یہ ہو ہی سکتا ہے (ان یتخذ ولداً) ” کہ وہ اولاد بنائے۔“ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے لئے بیٹا بنانا اس میں نقص اور احتیاج پر دلالت کرتا ہے جب کہ وہ بے نیاز اور حمید ہے، نیز بٹا اپنے باپ کی جنس سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا کوئی شبیہ ہے نہ مثیل اور نہ اس کی نظیر ہے۔ (ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمٰن عبداً) ” آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں، وہ سب رحمٰن کے غلام بن کر آنے والے ہیں۔“ یعنی ذلیل اور مطیع ہو کر بغیر کسی نافرمانی کے رحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوں گے، فرشتے، جن و انس سب اللہ کے مملوک اور اس کے دست تصرف کے تحت ہیں، اقتدار میں ان کا کوئی حصہ ہے نہ تدبیر کائنات میں ان کا کوئی اختیار ہے۔۔۔ جب اس کی شان اور اس کے اقتدار کی عظمت یہ ہو، تب اس کا بیٹا کیسے ہوسکتا ہے؟ (لقد احصھم وعدھم عداً) اس کا علم زمین اور آسمانوں کی تمام خلائق کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو اور ان کے اعمال کو شمار کر رکھا ہے وہ گمراہ ہوتا ہے نہ بھولتا ہے اور کوئی چیز اس سے چھپی ہوئی نہیں ہے۔ (وکلھم اتیہ یوم القیمۃ فرداً) ” ہر ایک اس کے پاس قیامت کے دن اکیلا ہی آئے گا۔“ یعنی اولاد، مال و دولت اور اعوان و انصار اس کے ساتھ نہ ہوں گے۔ اس کے ساتھ اس کے عمل کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کے اعمال کا بدلہ دے گا اور اس سے پورا پورا حاسب لے گا۔ اگر اعمال اچھے ہوں گے تو جزا بھی اچھی ہوگی اور اگر اعمال برے ہوں گے تو ان کی جزاب ھی بری ہوگی۔ جیاس کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : (ولقد جئتمونا فرادی کما خلقنکم اول مرۃ) (الانعام :93/6) ” تم اسی طرح ہمارے پاس تن تنہا آئے ہو جس طرح پہلی مرتبہ ہم نے تمہیں اکیلا پیدا کیا تھا۔ “