سورة مريم - آیت 80

وَنَرِثُهُ مَا يَقُولُ وَيَأْتِينَا فَرْدًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جن باتوں کے متعلق یہ کہہ رہا ہے (مال اور اولاد) ان کے وارث [٧٣] تو ہم ہوں گے اور یہ اکیلا ہی ہمارے پاس آئے گا۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 80 کیا اس کافر کی حالت پر تعجب نہیں ہوتا جس نے اللہ تعالیٰ کی آیات کے انکار کو اپنے بہت بڑے دعوے کے ساتھ یکجا کردیا ہے کہ اس کو آخرت میں بھی مال و اولاد سے نوازا جائے گا، یعنی وہ اہل جنت میں سے ہوگا۔ اس کا یہ دعویٰ سب سے زیادہ تعجب انگیز امور میں سے ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والا ہوتا اور پھر یہ دعویٰ کرتا تو معاملہ آسان تھا۔ یہ آیت کریمہ اگرچہ کسی معین کافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے تاہم یہ ہر کافر کو شامل ہے جو اس زعم میں مبتلا ہے کہ وہ حق پر ہے اور وہ اہل جنت میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو توبیخ و تکذیب کے طور پر فرماتا ہے : (اطلع الغیب) ” کیا وہ غیب پر مطلع پر گیا ہے؟“ یعنی کیا اس کے علم نے غیب کا احاطہ کر کرھا ہے حتی کہ اسے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ کیا کچھ ہوگا جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ قیامت کے روز اسے مال و اولاد سے نوازا جائے گا (ام اتخذ عند الرحمٰن عھداً) ” یا اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے“ کہ وہ ان چیزوں کو حاصل کرے گا جن کا اس نے دعویٰ کیا ہے۔۔۔ یعنی کچھ بھی ایسے نہیں ہوگا۔ تب معلوم ہوا کہ وہ شخ اللہ تعالیٰ پر بہتان طرازی کرتا ہے اور ایسی بات کہتا ہے جس کے بارے میں اسے خود بھی علم نہیں۔ اس تقسیم اور تردید کی غرض و غایت، الزامی جواب اور مخالف پر حجت قائم کرنا ہے۔ کیونکہ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اسے آخرت میں اللہ تعالیٰ کے ہاں بھلائی حاصل ہوگی اسے مندرجہ ذیل امور میں سے ایک ضرور حاصل ہے۔ (١) یا تو اس کا یہ قول، امور مستقبل کے بارے میں علم غیب سے صادر ہوا مگر ہم یقینی طور پر جانتے ہیں کہ غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ وحدہ کو ہے۔ مستقبل میں پیش آنے والے امور کو کوئی نہیں جانتا سوائے اس کے رسولوں میں سے جسے اللہ تعالیٰ مطلع کر دے۔ (٢) یا اس نے اللہ تعالیٰ کے ہاں، اپنے ایمان باللہ اور اتباع رسل کے ذریعے سے عہد لے رکھا ہے، جن کے پیروکاروں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہوا ہے کہ وہ آخرت میں نجات یافتہ اور کامیاب لوگ ہوں گے۔ جب ان دونوں امور کی نفی ہوگئی تو معلوم ہوا کہ دعویٰ باطل ہے، اس لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (کلا سنکتب مایقول) ” ہرگز نہیں، وہ جو کہتا ہے ہم لکھ رکھیں گے“ یعنی اصل معاملہ یوں نہیں جس طرح وہ دعویٰ کرت ہے کیونکہ اس کا قائل امور غیبیہ کی اطلاع نہیں رکھتا، اس لئے کہ وہ کافر ہے۔ اس کے پاس نبوت کا علم ہے نہ اس نے رحمٰن سے عہد لے رکھا ہے کیونکہ وہ کافر ہے اور ایمان سے محروم ہے۔ بلکہ اس کے اس جھوٹ کے برعکس وہ جہنم کا مستحق ہے۔ اس کا یہ قول لکھ لیا گیا ہے اور اللہ کے ہاں محفوظ ہے، اسے اس کی سزا ملے گی اور اس کو عذاب میں مبتلا کیا جائے گا، اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ونمدلہ من العذاب مداً) ” اور ہم اس کے لئے عذاب بڑھائے چلے جائیں گے۔“ یعنی جس طرح یہ اپنی گمراہی میں بڑھتا گیا اسی طرح ہم اس کو دیئے جانے والے مختلف اقاسم کے عذاب میں اضافہ کریں گے۔ (ونزثہ مایقول) ” اور ہم وارث ہوں گے اس کے جس کی بابت وہ کہہ رہا ہے۔“ یعنی ہم اس کے مال اور اولاد کے وارث ہوں گے، چنانچہ وہ مال، اہل و عیال اور اعوان و انصار کے بغیر اس دنیا سے آخرت کے گھر کی طرف منتقل ہوگا (ویاتینا فرداً) ” اور آئے گا وہ ہمارے پاس اکیلا ہی۔“ پس وہ بدترین عذاب کا اسمنا کرے گا جو اس جیسے ظالم لوگوں کی سزا ہے۔