سورة مريم - آیت 67

أَوَلَا يَذْكُرُ الْإِنسَانُ أَنَّا خَلَقْنَاهُ مِن قَبْلُ وَلَمْ يَكُ شَيْئًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

کیا انسان کو یہ یاد نہیں رہا کہ اس سے پہلے ہم نے اسے پیدا کیا جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت 67) یہاں (الانسان) سے مراد ہر وہ شخص ہے جو زندگی بعد موت کا منکر ہے اور وہ مرنے کے بعد زندہ کئے جانے کو بعید سمجھتا ہے، چنانچہ وہ نفی، عناد اور کفر کی وجہ سے استفہامیہ اسلوب میں کہتا ہے : (ء اذا ما مت لسوف اخرج حیاً) یعنی میرے مرنے کے بعد، جبکہ میں بوسیدہ ہوچکا ہوں گا، اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ کیسے زندہ کرے گا؟ ایسا نہیں ہوسکتا اور اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ یہ اس کی عقل فاسد، برے مقصد، اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور کتابوں کے ساتھ اس کے عناد کے مطابق ہے۔ اگر اس نے تھوڑا اس بھی غور و فکر کیا ہوتا تو اسے معلوم ہوجاتا کہ اس کا دوبارہ زندہ کئے جانے کو بعید سمجھنا بہت بڑی حماقت ہے۔ بناء بریں اللہ تبارک و تعالیٰ نے زندگی بعد موت کے امکان پر ایسی قطعی برہان اور واضح دلیل بیان فرمائی ہے جسے ہر شخص جانتا ہے۔ (اولا یذکر الاناسن انا خلقنہ من قبل ولم یک شیاً) کیا وہ اس طرف التفات نہیں کرتا اور اپنی پہلی حالت کو یاد نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا۔ پس جو ہستی اسے عدم سے وجود میں لانے کی قدرت رکھتی ہے جبکہ وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا، کیا وہ ہستی اسے اس کے ریزہ ریزہ ہوجانے کے بعد دوبارہ پیدا کرنے کی اور اس کے بکھر جا نیکے بعد اس کو دوبارہ اکٹھا کرنے کی قدرت نہیں رکھتی؟ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ (وھو الذی یبدوا الحق ثم بعیدہ وھو اھون علیہ) (الروم :28/30) ” وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے اور ایسا کرنا اس کے لئے آسان تر ہے۔ “ اور اللہ تعالیٰ کے ارشاد (اولا یذکر الاناسن) میں لطیف ترین پیرائے میں عقلی دلیل کے ذریعے سے غور و فکر کرنے کی دعوت دی گئی ہے اور جو کوئی اس کا انکار کرتا ہے، اس کا انکار پہلی حالت کے بارے میں اس کی غفلت پر مبنی ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اگر وہ اس کو یاد کر کے اپنے ذہن میں حاضر کرنے کی کوشش کرے تو وہ ہرگز انکار نہیں کرے گا۔