سورة مريم - آیت 65

رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهِ ۚ هَلْ تَعْلَمُ لَهُ سَمِيًّا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

وہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب چیزوں کا مالک ہے لہذا اسی کی بندگی کیجئے اور اسی کی بندگی پر ڈٹ [٦١] جائے کیا آپ (کوئی اور بھی) اس کا ہم نام [٦٢] جانتے ہیں۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیات 65 ایک دفعہ جبرئیل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر دیر سے نازل ہوئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جبرئیل سے فرمایا ’ آپ جتنی بار ہمارے پاس آتے ہیں، کاش اس سے زیادہ ہمارے پاس آئیں“ آپ نے یہ بات جبرئیل کی طرف اشتیاق اور اس کی جدائی سے وحشت محسوس کرتے ہوئے کہی تاکہ اس کے نزول سے اطمینان قلب حاصل ہو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جبرئیل کی زبانی فرمایا : (وما نتنزل الا بامر ربک) ” ہم تو اپنے رب کے حکم ہی سے اترتے ہیں“ یعنی اس معاملے میں ہمیں کوئی اختیار نہیں اگر ہمیں نازل ہونے کا حکم دیا جاتا ہے تو ہم اس کے حکم کی تعمیل کرتے ہیں ہم اس کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کرسکتے جیاس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (لایعصون اللہ مآ امرھم ویفعلون مایومرون) (التحریم :6/66) ” اللہ جو حکم ان کو یدتا ہے، وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔“ ہم کو مامور و محکوم بندے ہیں۔ (لہ مابن ایدینا وما خلفنا وما بین ذلک) ” اسی کیلئے ہے جو ہمارے سامنے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان میں ہے۔“ یعنی وہی ہے جو ہر زمان و مکان میں، امور ماضی، امور حاضر اور امور مستقبل کا مالک ہے اور جب یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ تمام معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ اختیار میں ہیں، تو ہم محض اس کے بندے اور اس کی دست تدبیر کے تحت ہیں، اس لئے تمام معاملہ ان دو باتوں کے مابین ہے۔ ١۔ آیا حکمت الٰہی اس فعل کا تقاضا کرتی ہے، کہ وہ اسے نافذ فرمائے؟ ٢۔ یا حکمت الٰہی اس فعل کا تقاضا نہیں کرتی؟ کہ وہ اسے مؤخر کر دے؟ اس لئے فرمایا : (وما کان ربک نسیاً) ” اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں ہے۔“ یعنی آپ کا رب آپ کو فراموش کر کے مہمل نہیں چھوڑے گا۔ جیاس کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ما ودعا ربک وما قلی) الضحی :3/93) ” آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رب نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو چھوڑا ہے نہ وہ آپ سے نارضا ہے۔“ بلکہ وہ اپنے بہترین قوانین جمیلہ اور تدابیر جلیلہ کے مطباق، آپ کے لئے احکام جاری کرتے ہوئے آپ کے تمام امور کو درخواعتنا رکھتا ہے، یعنی جب ہم وقت معتاد سے تاخیر سے نازل ہوتے ہیں تو یہ چیز آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مزدہ نہ کرے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس تاخیر کا ارادہ کیا ہے کیونکہ اس میں اس کی حکمت ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے احاطہ علم اور عدم نسیان کی علت بیان کترے ہوئے فرمایا : (رب السموت والارض) ” وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا۔“ پس زمین اور آسمان میں اس کی ربوبیت، اور ان کا بہترین اور کامل ترین نظا مکے مطابق رواں دواں رہنا، جس میں غفلت کا کوئی شائبہ ہے نہ ان میں کوئی چیز بے فائدہ ہے اور نہ کوئی چیز باطل ہے۔۔۔ اس حقیقت پر قطعی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر چیز کو شامل ہے، لہٰذا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے آپ کو اس میں شمغول نہ کریں بلکہ آپ ان امور میں اپنے آپ کو مغشول کریں جو آپ کو کوئی فائدہ دیتے ہیں اور جن کا فائدہ آپ کی طرف لوٹتا ہے اور وہ ہے اکیلے اللہ تعالیٰ کی عبادت جس کا کوئی شریک نہیں۔ (واصطبر لعبادتہ) یعنی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی عبادت پر کار بند رکھئے اس میں کوشاں رہئے اور مقدور بھر اس کاو کامل ترین طریقے سے قائم کیجیے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغولیت عبادت گزار کو تمام تعلقات اور شہوات کے ترک کرنے میں تسلی کا باعث ہوتی ہے۔ جیاس کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” ان کی اس دنیا شان و شوکت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھیے جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو عطا کی ہے، تاکہ ہم اس کے ذریعے سے انہیں آزمائیں اور آپ کے رب کا عطا کردہ رزق بہتر اور ہمیشہ رہنے والا ہے، اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دیتے رہیے اور اور خود بھی اس کے پابند رہیے۔ “ (ھل تعلم لہ سمیاً) کیا آپ تمام مخلوق میں اس کی کوئی ہم نام، کوئی مشابہت اور مماثلت رکھنے وال یہستی جانتے ہیں؟ یہ استفہام نفی کا معنی دیتا ہے جو عقلاً معلوم ہے، یعنی آپ کسی ایسی ہستی کو نہیں جانتے جو اللہ تعالیٰ کی برابری کرنے والی اس کے مشابہ اور مماثل ہو۔ کیونکہ وہ رب ہے اور دوسرے مربوب، وہ خلاق ہے اور دیگر تمام مخلوق، وہ ہر لحاظ سے بے نیاز ہے اور دیگر تمام ہر لحاظ سے بالذات محتاج ہیں، وہ کامل ہے جو ہر لحاظ سے کمال مطلق کا مالک ہے دیگر تمام ناقص ہیں کسی میں کوئی کمال نہیں سوائے اس کے جو اللہ تعالیٰ نے اسے عطا کردیا۔ پس یہ اس حقیقت پر برہان قاطع ہے کہ اللہ تعالیٰ اکیلا عبودیت کا مستحق ہے۔ اس کی عبادت حق اور ماسوا کی عبادت باطل ہے، اس لئے اس نے صرف اپنی عبادت کرنے اور اس پر پابند رہنے کا حکم دیا اور اس کی علت یہ بتلائی کہ وہ اپنے کمال، اپنی عظمت اور اسمائے حسنیٰ میں منفرد ہے۔