سورة مريم - آیت 54

وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِسْمَاعِيلَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَكَانَ رَسُولًا نَّبِيًّا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

نیز اس کتاب میں اسماعیل کا قصہ بیان کیجئے۔ وہ وعدے کے سچے اور [٥١] رسول نبی تھے۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 54 یعنی قرآن کریم میں اس عظیم نبی (حضرت اسماعیل) کا ذکر کیجیے جس سے عربی قبیلے کی نسلی چلی جو سب سے افضل اور جلیل قبیلہ ہے، جس سے اولاد آدم کے سردار، حضرت محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے۔ (انہ کان صادق الوعد) یعنی وہ جو بھی وعدہ کرتے تھے اسے پورا کرتے تھے۔ اس میں وہ تمام وعدے شامل ہیں جو اللہ تعالیٰ سے کئے گئے اور وہ جو بندوں سے کئے گئے۔۔۔ اسی لئے جب ان کے والد نے ان کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنے آپ سے صبر کرنے کا وعدہ کیا، چانچہ انہوں نے اپنے والد سے کہا (ستجدنی ان شآء اللہ من الصبرین) (الصفت :102/38) ” اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔“ انہوں نے یہ وعدہ پورا کر دکھایا اور اپنے والد کو پورا اختیار دیا کہ وہ ان کو ذبح کریں، جو کہ سب سے بڑی مصیبت ہے جو اناسن کو پہنچ سکتی ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو راسلت اور نبوت سے متصف کیا جو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندے پر سب سے بڑا احاسن ہے۔۔۔ اور انہیں مخلوق کے بلند طبقے میں سے کیا۔ (وکان یا مراھلہ بالصلوۃ والزکوۃ) ” اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوۃ کا حکم دیتے تھے۔“ یعنی اپنے گھر والوں پر اللہ کا حکم نافذ کرتے تھے۔ پس انہیں نماز کا حکم دیتے جو معبود کے لئے اخلاص کو متضمن ہے اور زکوۃ کا حکم دیتے جو بندوں کے ساتھ احاسن کرنے کو متضمن ہے۔ یوں انہوں نے اپنے آپ کو بھی درجہ کمال پر پہنچایا اور دوسروں کو بھی کامل بنایا، بالخصوص ان کو جو لوگوں میں سے سب سے زیادہ ان کے نزدیک خاص تھے اور وہ ان کے اہل خانہ تھے کیونکہ وہ دوسروں کے مقابلے میں ان کی دعوت و تبلیغ کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ (وکان عند ربہ مرضیاً) اور اس کا سبب یہ تھا کہ انہوں نے اپنے رب کی مرضیات کے سامنے سرتسلیم خم کردیا اور ایسے امور سر انجام دینے میں کوشاں رہے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوجائے۔ اس نے ان کو اپنے خاص بندوں اور اولیاء مقربین میں سے کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوگئے اور وہ اپنے رب سے راضی ہوگئے۔