سورة مريم - آیت 22

فَحَمَلَتْهُ فَانتَبَذَتْ بِهِ مَكَانًا قَصِيًّا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

چنانچہ مریم کو اس [٢٣] بچے کا حمل ٹھہر گیا اور وہ اس حالت میں ایک دور کے مکان میں علیحدہ جا بیٹھیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 22 جب حضرت مریم علیھا السلام کو حمل ٹھہر گیا تو وہ فضیحت اور رسوائی کے خوف سے لوگوں سے دور چلی گئیں (مکانا قصیا) ” دور جگہ“ جب بچہ جننے کا وقت قریب آیا تو زچگی کی تکلیف نے ان کو کھجور کے نیچے پناہ لینے پر مجبور کردیا۔ جب حضرت مریم علیھا السلام کو زچگی کی تکلیف برداشت کرنا پڑی، کھانے پینے کی عدم موجودگی کی تکلیف کا اسمنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ لوگوں کی تکلیف دہ باتوں اور طعنوں سے دلی صدمہ پہنچا اور انہیں خوف ہوا کہ کہیں صبر کا دامن ان کے ہاتھ سے نہ چھوٹ جائے۔۔۔. تو انہوں نے تمنا کی کہ کاش وہ اس حادثہ سے پہلے ہی مر گئی ہوتیں، ان کو بھلا دیا جاتا اور ان کا کہیں تذکرہ تک نہ ہوتا۔ حضرت مریم علیھا السلام کی یہ تمنا ان کی گھبراہٹ کی بنا پر تھی اور اس آرزو اور تمنا میں ان کے لئے کوئی بھلائی تھی نہ مصلحت۔ بھلائی اور مصلحت تو صرف تقدیر کے مطابق اس چیز میں تھی جو انہیں حاصل ہوئی۔ اس وقت فرشتے نے ان کے دل کو تسلی دی اور اسے ثبات عطا کیا اور فرشتے نے ان کو نیچے سے پکارا۔ شاید یہ جگہ، جہاں سے فرشتے نے پکارا تھا، حضرت مریم علیھا السلام کی جگہ سے زیادہ نیچے تھی۔ فرشتے نے کہا : مت گھبرا اور نہ غم کر (قد جعل ربک تحتک سریا) ” تمہارے رب نے تمہارے نیچے ایک چشمہ جاری کردیا ہے۔“ یعنی تیرے نیچے نہر جاری کردی ہے جس سے تو پانی پئے گی۔ (وھزی الیک بجذع النخآ تسقط علیک رطبا جنبا) ” اور ہلا اپنی طرف کھجور کا تنا، اس سے گریں گی تجھ پر پکی کھجوریں“ یعنی تازہ لذیذ اور فائدہ بخش کھجوریں۔ (فکلی) یعنی کھجوریں کھا (واشربی) ” اور اس نہر کا) پانی پی۔“ (وقری عینا) ”( اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو دیکھ دیکھ کر) اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر“۔ یہ زچگی کی تکلیف سے سلامتی اور لذیذ و خوشگوار ماکول و مشروب کی فراہمی کے پہلو سے، حضرت مریم علیھا السلام کے لئے اطمینان تھا۔ رہی لوگوں کی باتیں اور ان کے طعنے، تو فرشتے نے حضرت مریم علیھا السلام کو حکم دیا کہ وہ جب کسی آدمی کو دیکھیں تو اشارے سے اسے بتائیں : (انی نذرت للرحمن صوما) ” میں نے نذر مانی ہے رحمٰن کے لئے روزے کی“ یعنی خاموش رہنے کی۔ (فلن اکلم الیوم انسیا) ” پس میں آج بات نہیں کروں گی کسی آدمی سے“ یعنی ان سے بات چیت نہ کرنا، تاکہ تم ان کی باتوں سے بچ سکو۔ ان کے ہاں معروف تھا کہ خاموشی ایک عبادت مشروعہ ہے۔ ان کو اپنی طرف سے اس معاملے کی نفی کے سلسلے میں لوگوں سے گفتگو نہ کرنے کا حکم اس لئے دیا گیا تھا کہ لوگ اس کو تسلیم نہیں کریں گے اور نہ اس میں کوئی فائدہ ہے، نیز یہ کہ ان کی برٓت کا اظہار پنگوڑے کے اندر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ذریعے سے ہونا ان کی برٓت کی سب سے بڑی شہادت بن جائے کیونکہ عورت کا شوہر کے بغیر کسی بچے کو جنم دینا اور پھر اس کا یہ دعویٰ کرنا کہ یہ بچہ کسی مرد کے چھوئے بغیر ہے، سب سے بڑا دعویٰ ہے۔ اگر اس دعویٰ کی تائید میں متعدد گواہ بھی موجود ہوں تب بھی اس دعوے کو تسلیم نہیں کیا جاسکتا، اس لئے اس خارق عادت واقعہ کی تائید کے لئے، اسی جیاس ایک اور خارق عادت واقعہ پیش آیا اور وہ ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا اپنی انتہائی چھوٹی عمر میں کلام کرنا، بناء بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا :