سورة مريم - آیت 12

يَا يَحْيَىٰ خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ ۖ وَآتَيْنَاهُ الْحُكْمَ صَبِيًّا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

(اللہ تعالیٰ نے یحییٰ کو بچپن میں ہی حکم دیا ہے کہ) ''اے یحییٰ ! کتاب (تورات) پر مضبوطی سے عمل پیرا ہوجاؤ'' اور ہم نے اسے بچپن میں ہی قوت فیصلہ [١٣] عطا کردی تھی۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 12 گزشتہ کلام، حضرت یحییٰ (علیہ السلام) کی ولادت، ان کے شباب اور ان کی تربیت پر دلالت کرتا ہے۔ جب حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اس عمر کو پہنچ گئے جس عمر میں خطاب سمجھ میں آجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا کہ وہ قوت یعنی کوشش اور اجتہاد کے ساتھ کتاب اللہ کو پکڑے رکھیں یعنی اس کے الفاظ کی حفاظت، اس کے معانی کے فہم اور اس کے اوامرونواہی پر عمل میں پوری کوشش اور اجتہاد سے کام لیں۔۔۔. یہ ہے کتاب اللہ کو کامل طور پر پکڑنا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کی، انہوں نے کتاب اللہ کی طرف توجہ کی، اسے حفظ کیا اور اس کا فہم حاصل کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی ذہانت و فطانت عطا کی جو کسی اور میں نہ تھی اس لئے فرمایا : (واتینہ الحکم صبیا) ہم نے اسے بچپن ہی سے احکام الٰہی اور ان کی حکمتوں کی معرفت سے نوازا، نیز (وحنانا من لدنا) ” اور شفقت اپنی طرف سے“ یعنی رحمت اور رافت عطا کی جس کی بنا پر ان کے تمام امور آسان ہوئے، ان کے احوال کی اصلاح ہوئی اور ان کے تمام اعمال درست ہوئے۔ (وزکوٓ) ” اور ستھرائی“ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں گناہوں اور آفات سے پاک کیا۔ پس ان کا قلب پاک اور ان کی عقل صیقل ہوگئی اور یہ چیز تمام اوصاف مذمومہ اور اخلاق قبیحہ کے زائل ہونے اور اوصاف محمودہ اور اخلاق حسنہ میں اضافے کو متضمن ہیں۔ (وکان تقیا) ” اور تھے وہ پرہیز گار“ یعنی مامورات کی تعمیل کرنے والے اور محظورات کو ترک کرنے والے تھے اور جو کوئی مومن اور متقی ہے وہ اللہ کا ولی اور اہل جنت میں سے ہوتا ہے وہ جنت جو متقین کے لئے تیار کی گئی ہے اور مومن متقی کو دنیاوی اور اخروی ثواب حاصل ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ پر مرتب کر رکھا ہے۔ (وبرا بوالدیہ) ” اور تھے وہ نیکی کرنے والے اپنے ماں باپ کے ساتھ“ نیز یحییٰ (علیہ السلام) اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے والے یعنی ان کی نافرمانی کرنے والے اور ان کے ساتھ برائی سے پیش آنے والے نہ تھے بلکہ وہ قول و فعل کے ذریعے سے اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرنے والے تھے۔ (ولم یکن جبارا عصیا) ” اور نہ تھے وہ سرکش، خود سر“ یعنی وہ تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روگرانی کرنے والے نہ تھے اور وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بندوں سے بڑا سمجھتے تھے نہ اپنے والدین سے بلکہ وہ متواضع، عاجز، مطیع اور ہمیشہ اللہ کی بارگاہ میں جھکنے والے تھے۔ پس وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرنے والے تھے، اس لئے ان کو اپنے تمام احوال میں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی حاصل تھی۔ (وسلم علیہ یوم ولد و یوم یموت و یوم یبعث حیا) ” اور سلام ہو ان پر جس دن پیدا ہوئے اور جس دن مریں گے اور جس دن اٹھ کھڑے ہوں گے زندہ ہو کر“ اور یہ ارشاد ان تینوں احوال میں شیطان، اس کے شر اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے سلامتی کا تقاضا کرتا ہے، نیز اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ جہنم اور اس کی ہولناکیوں سے محفوظ اور اصحاب دارالسلام میں سے ہیں۔۔۔. اللہ تعالیٰ کی بے شمار رحمتیں ہوں آپ پر، آپ کے والد پر اور تمام انبیاء و مرسلین پر۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان کے متبعین میں شامل کرے، وہ بڑا سختی اور نہایت کرم کرنے والا ہے۔