سورة الكهف - آیت 74

فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُّكْرًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

چنانچہ وہ دونوں پھر چل کھڑے ہوئے تاآنکہ ایک لڑکے کو ملے [٦٤] جسے (خضر نے) مار ڈالا۔ موسیٰ نے کہا : ''تم نے تو ایک بے گناہ شخص کو مار ڈالا، جس نے کسی کا خون نہ کیا تھا یہ تو تم نے بہت ناپسندیدہ کام کیا'

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 74 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی موسیٰ اور بھلائی اور طلب علم میں ان کی شدید رغبت کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے کہ انہوں نے اپنے خادم سے فرمایا جو سفر و حضر میں ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتا تھا اور وہ یوشع بن نون تھے جن کو بعد میں اللہ تعالیٰ نے نبوت سے سرفراز فرمایا : (آیت) ” جب تک میں دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں۔“ یعنی میں سفر کرتا رہوں گا خواہ مسافت کتنی ہی طویل اور مشقت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو یہاں تک کہ میں دونوں دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں۔ یہ وہ جگہ ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی طرف وحی کی تھی کہ وہاں آپ کو اللہ تعالیٰ کا علم رکھنے والے بندوں میں سے ایک بندہ ملے گا جس کے پاس ایسا علم ہے جو آپ کے پاس نہیں۔ (او امضی حقباً) ” خواہ برسوں چلتا رہوں۔“ یعنی طویل مسافت تک چلتا چلا جاؤں گا۔ معنی یہ ہے کہ مسوی نے شوق اور رغبت کی بنا پر اپنے نوجوان خادم سے یہ بات کہی اور یہ ان کا عزم جاز تھا جس کی بنا پر انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔ (فلما بلغا) ” پھر جب دونوں پہنچے“ یعنی حضرت موسیٰ اور ان کا خادم (مجمع بینھما نسیاً حوتھما) ” دونوں دریاؤں کے ملاپ تک، تو بھول گئے اپنی مچھلی“ ان کے ساتھ مچھلی تھی جو ان کے لئے زاد راہ تھی جسے وہ تناول کرتے تھے، اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے ساتھ وعدہ فرمایا تھا کہ جہاں یہ مچھلی غائب ہوجائے گی وہیں وہ بندر رہتا ہے جس کے پاس جانے کا آپ قصد رکھتے ہیں۔ مچھلی نکل کر دریا میں چلی گئی یہ ایک معجزہ تھا۔ مفسرین نے کہا ہے کہ وہ مچھلی جسے انہوں نے زاد راہ کے طور پر لیا تھا، و جب اس مقام پر پہنچے تو اسے دریا کی نمی پہنچی اور وہ اللہ کے حکم سے کھسک کر دریا میں چلی گئی اور زندہ ہو کر دیگر حیوانات میں شامل ہوگئی۔ جب موسیٰ اور ان کا نوجوان خادم اس سنگم سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا : (آیت) ” لا ہمارے پاس ہمارا کھانا، تحقیق ہم نے پائی اس سفر میں تکلیف“ یعنی ہم اس سفر سے، جو اس سنگھ سے متجاوز سفر تھا، تھک گئے ہیں ورنہ اتنا طویل سفر جو انہوں نے دونوں دریاؤں کے سنگم تک کیا، اس میں نہیں تھکے تھے۔ یہ ایک علامت اور نشانی تھی جو موسیٰ کے لئے دلیل تھی کہ انہوں نے اپنا مقصد پا لیا ہے، نیز اس منزل پر پہنچنے کے شوق نے ان کے لئے سفر کو آسان بنا دیا، جب وہ اس مقام سے آگے بڑھ گئے تو انہوں نے تھکاوٹ محسوس کی۔ جب موسیٰ نے اپنے خادم سے یہ بات کہی تو اس نے جواب دیا : (آیت) ” کیا دیکھا آپ نے جب ہم نے جگہ پکڑی اس پتھر کے پاس، سو میں بھول گیا مچھلی، اور یہ شیطان ہی نے مجھے اس کا ذکر کرنے سے بھلا دیا۔“ کیونکہ وہ بھول جانے کا سبب بنا۔ (آیت) اور پکڑا اس نے اپنا راستہ دریا میں عجیب طرح“ یعنی جب مچھلی دریا میں چلی گئی تو یہ چیز عجائبات میں سے تھی۔ جب موسیٰ کے خادم نے یہ بات کہی۔۔۔ اور اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے وعدہ کیا ہوا تھا کہ جہاں مچھلی غائب ہوجائے گی، وہیں حضرت خضر کو پائیں گے۔۔۔ تو موسیٰ نے کہا : (ذلک ما کنا نبع) ” یہی تو ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے۔“ یعنی یہی جگہ مطلوب تھی۔ (فارتدا) ” پھر الٹے پھرے وہ دونوں“ یعنی واپس لوٹے (علی اثار ھما قصصا) ” اپنے پاؤں کے نشان پہچانتے ہوئے“ یعنی اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پہنچے جہاں مچھلی بھول گئے تھے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو انہوں نے وہاں ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ پایا اور وہ خضر تھے، وہ ایک صالح شخص تھے اور صحیح مسلک یہ ہے کہ وہ نبی نہ تھے۔ (تینہ رحمۃ من عندنا) ” جس کو ہم نے اپنے پاس سے رحمت دی تھی۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی خاص رحمت سے نوازا تھا جس کی وجہ سے وہ بہت زیادہ علم اور حسن عمل سے بہرہ ور تھے۔ (وعلمنہ من لدنا علماً) ” اور سکھایا تھا اس کو اپنے پاس سے ایک علم۔“ حضرت خضر کو وہ علم عطا کیا گیا تھا جو موسیٰ کو عطا نہیں کیا گیا تھا۔ اگرچہ موسیٰ بہت سے امور میں سے ان سے زیادہ علم رکھتے تھے خاص طور پر علوم ایمانیہ اور علوم اصولیہ، کیونکہ حضرت موسیٰ اولوالعزم رسولوں میں سے تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے علم و عمل کے ذریعے سے تمام مخلوق پر فضیلت سے نوازا تھا۔ جب موسیٰ حضرت خضر سے ملے تو از راہ ادب و مشاورت اور اپنا مقصد بیان کرتے ہوئے ان سے کہا : (آیت) ” یعنی کیا میں آپ کی پیروی کروں کہ آپ مجھے وہ علم سکھا دیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے، تاکہ اس کے ذریعے سے میں رشد و ہدیات کی راہ پا سکوں اور اس علم کے ذریعے سے ان تمام قضیوں میں حق کو پہچان سکوں؟ خضر کو اللہ تعالیٰ نے الہام و کراتم سے نوازا ہوا تھا جس کی وجہ سے انہیں بہت سی چیزوں کے اسرار نہاں کی، جو دوسرے لوگوں پر مخفی تھے حتی کہ موسیٰ پر بھی مخفی تھے، اطلاع ہوجاتی تھی۔ خضر نے موسیٰ سے کہا کہ میں ایسا کرنے سے انکار نہیں کرتا لیکن (لن تستطیع معی صبراً) ” آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر پائیں گے۔“ یعنی آپ کو میرے ساتھ رہنے اور میری پیروی کرنے کی قدرت حاصل نہیں کیونکہ آپ ایسے امور ملاحظہ کریں گے جن کا ظاہر برا اور باطن اس کے برعکس ہوگا۔ بناء بریں خضر نے فرمایا : (وکیف تصبر علی مالم تحط بہ خبراً) ” اور کیوں کر صبر کریں گے آپ ایسی چیز پر کہ جس کا سمجھنا آپ کے بس میں نہیں۔“ یعنی آپ کسی ایسے معاملے میں کیسے صبر کرسکتے ہیں جس کے ظاہر و باطن کا آپ کو علم ہے نہ اس کے مقصد و مآل کا۔ موسیٰ نے کہا : (ستجدنی ان شآء اللہ صابرا ولا اعصی لک امرا) ” اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور آپ کے کسی حکم کی نافرمانی نہیں کروں گا۔“ جس چیز کے بارے میں امحتان تھا، اس کے سامنے آنے سے پہلے یہ حضرت موسیٰ کے عزم کا اظہار تھا۔ عزم ایک الگ چیز ہے اور صبر کا وجود ایک دوسری چیز ہے، اس لئے جب وہ امر واقع ہوا تو موسیٰ اس پر صبر نہ کرسکے۔ اس وقت خضر نے حضرت موسیٰ سے کہا : (آیت)’ دپس اگر میرے ساتھ رہنا ہے تو مت پوچھنا مجھج سے کسی چیز کی بابت، جب تک کہ میں شروع نہ کروں آپ کے سامنے اس کا ذکر“ یعنی مجھ سے کوئی سوال کرنے میں پہل کرنا نہ میرے کسی فعل پر مجھ پر کوئی نکیر کرنا جب تک کہ میں خود آپ کو مناسب وقت پر اس کے حال کے بارے میں نہ بتا دوں۔ یہ گویا حضرت خضر نے ان سے وعدہ کیا کہ وہ بالاخر حقیقت حال سے انہیں آگاہ کریں گے۔ (فانطلقا حتی اذا رکبا فی السفینۃ خرقھا) ” پس وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ جب وہ کشتی میں سوار ہوئے، تو اس کو پھاڑ ڈالا“ یعنی حضرت خضر نے اس کشتی کا ایک تختہ اکھاڑ دیا اور اس کے پیچھے ایک مقصد تھا جس کو وہ عنقریب بیان کریں گے۔ موسیٰ اس پر صبر نہ کرسکے کیونکہ ظاہری طور پر یہ ایک برا فعل تھا۔ خضر نے کشتی میں عیب ڈال دیا تھا جو کشتی میں سوار لوگوں کے ڈوبنے کا باعث ہوسکتا تھا۔ اس لئے موسیٰ نے کہا : (آیت) ” کیا آپ نے اس کو پھاڑ دیا تاکہ ڈبو دیں اس کے لوگوں کو، البتہ کی آپ نے ایک چیز انوکھی“ یعنی آپ نے بہت برا کام سر انجام دیا ہے۔ اس بولنے کا سبب موسیٰ کا عدم صبر تھا خضر نے ان سے کہا : (الم اقل انک لن تستطیع معی صبراً) ” کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر کرنے کی طاقت نہیں رکھیں گے“ یعنی بالکل اسی طرح واقع ہوا جیسا میں نے آپ سے کہا تھا۔ یہ موسیٰ سے بھول کر صادر ہوا تھا، اس لئے انہوں نے کہا : (لاتواخذنی بمانسیت ولاتھقنی من امری عسراً) ” میری بھول پر آپ مجھے نہ پکڑیں اور نہ ڈلایں مجھ پر میرا کام مشکل“ یعنی مجھے مشکل میں نہ ڈالئے، میرے ساتھ نرمی کیجیے کیونکہ بھول میں مجھ سے ایسا ہوا ہے۔ پہلی مرتبہ میری گرفت نہ کیجیے۔ پس انہوں نے اقرار اور عذر کو اکٹھا کردیا۔ اے خضر ! اپنے ساتھی پر سختی کرنا آپ کے شایان شان نہیں، چنانچہ حضرت خضر نے ان سے درگزر کیا۔ (فانطلقا حتی اذا لقیا غلماً) ” پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ ایک بچے کو ملے“ یعنی چھوٹا سا بچہ (فقتلہ) ” پس (خضر نے) اس کو قتل کر ڈالا“ اس پر موسیٰ سخت نارضا ہوئے۔ جب خضر نے اسے چھوٹے سے بچے کو قتل کردیا جس سے کوئی گناہ صادر نہیں ہوا تو موسیٰ کی حمیت دینی نے جوش مارا اور کہنے لگے : (اقتلت نفساً زکیۃ بغیر فنس لقد جئت شیاء نکراً) ” کیا آپ نے ایک ستھری جان بغیر عوض کسی جان کے مار ڈالی، بے شک آپ نے ایک نامعقول کام کیا۔“ چھوٹے سے معصوم بچے کے قتل جیسا برا کام اور کون سا ہوسکتا ہے، جس کا کوئی جرم نہیں اور نہ اس نے کسی کو قتل کیا ہے۔