سورة البقرة - آیت 14

وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَىٰ شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

ایسے لوگ جب ایمانداروں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ''ہم ایمان لا چکے ہیں۔'' اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں (کافر دوستوں) سے ملتے ہیں تو کہہ دیتے ہیں کہ (حقیقتاً تو) ہم تمہارے ہی ساتھ ہیں اور ان (ایمان والوں سے تو) محض مذاق کرتے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 14 تا 15 یہ قول ان کی ان باتوں میں سے ہے جس کا اظہار وہ اپنی زبانوں سے کرتے تھے درآنحالیکہ ان کے دل میں ایسا نہیں ہوتا تھا۔ کیونکہ جب یہ منافقین اہل ایمان کے پاس جاتے ہیں تو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ وہ ان کے طریقے پر گامزن ہیں اور ان کے ساتھ ہیں اور جب وہ اپنے شیطان سرداروں یعنی شریر رؤسا سے تنہائی میں ملتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں :” ہم تو درحقیقت تمہارے ساتھ ہیں ہم تو اہل ایمان کو یہ کہہ کر کہ، ہم تمہارے ساتھ ہیں، ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔“ ” ہم تو درحقیقت تمہارے ساتھ ہیں ہم تو اہل ایمان کو یہ کہہ کر کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں، ان کا مذاق اڑا رہے تھے۔“ یہ ہیں ان کے ظاہری اور باطنی احوال، بری چال کا وبال اسی پر پڑتا ہے جو یہ چال چلتا ہے۔ (اللہ یستھزی بھم ویمدھم فی طغیانھم یعمھون) ” اللہ ہنسی کرتا ہے ان سے اور بڑھاتا ہے ان کو ان کی سرکشی میں (اور) وہ سرگرداں پھرتے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ کا یہ استہزان کے اس استہزا کی جزا ہے جو وہ اللہ کے بندوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزایہ ہے کہ وہ ان کے بدبختی کے اعمال اور خبیث احوال کو ان کے سامنے مزین اور آراستہ کردیتا ہے چونکہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ان پر مسلط نہیں کیا اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ ہیں۔ قیامت کے روز ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزایہ ہوگا کہ وہ اہل ایمان کے ساتھ انہیں ظاہری روشنی عطا کرے گا۔ جب اہل ایمان اس روشنی میں چلیں گے تو منافقین کی روشنی بجھ جائے گی۔ وہ روشنی کے بجھ جانے کے بعد تاریکی میں متحیر کھڑے رہ جائیں گے۔ پس امید کے بعد مایوسی کتنی بری چیز ہے۔ (الحدید :17/58) ” وہ منافق اہل ایمان کو پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ! اہل ایمان جواب دیں گے کیوں نہ تھے مگر تم نے اپنے آپ کو فتنے میں ڈالا اور تم ہمارے بارے میں کسی برے وقت کے منتظر رہے اور تم نے اسلام کے بارے میں شک کیا۔ “ (ویمدھم) یعنی اللہ تعالیٰ ان کو زیادہ کرتا ہے (فی طغیانھم) یعنی ان کے فسق و فجور اور کفر میں (یعمھون) یعنی وہ حیران و سرگرداں ہیں، یہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا استہزا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی حقیقت احوال کو منکشاف کرتے ہوئے فرمایا :