سورة الكهف - آیت 39

وَلَوْلَا إِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَاءَ اللَّهُ لَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ ۚ إِن تَرَنِ أَنَا أَقَلَّ مِنكَ مَالًا وَوَلَدًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جب تو اپنے باغ میں داخل ہوا تو یہ کیوں نہ کہا : ''ماشاء اللہ [٣٩] لاقوہ الا باللہ (وہی ہوتا ہے جو چاہتا ہے اور اللہ کی توفیق کے بغیر کسی کا کچھ زور نہیں) بھلا دیکھو ! اگر میں مال اور اولاد میں تم سے کمتر ہوں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 39 یعنی صاحب ایمانشخص نے اس کافر سے کہا کہ تو اگرچہ کثرت مال و اولاد کی بنا پر مجھ پر فخر جتاتا ہے اور تو سمجھتا ہے کہ میں مال و اولاد کے لحاظ سے تجھ سے کم تر ہوں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور جو امید اللہ تعالیٰ کی نواشز اور احسان پر رکھی جاسکتی ہے وہ اس دنیا و مافیہا سے بہتر ہے جس کو حاصل کرنے کے لئے لوگ ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ (آیت) ” پس امید ہے کہ میرا رب مجھے تیرے باغ سے بہتر عطا کرے گا اور بھیجے گا اس پر“ یعنی اس باغ پر جس کی بنا پر تو نے سرکشی کا رویہ اختیار کیا اور اس باغ نے تجھے دھوکے میں مبتلا کردیا ،(حسباناً من السمآء) ” عذاب آسمان سے“ یعنی طوفانی بارش یا اور کسی قسم کا عذاب (فتصبح)’ دپس اس سبب سے وہ ہوجائے“ (صعیداً زلقاً) ” میدان صاف“ کہ اس کے تمام درخت جڑوں سے اکھڑ جائیں، اس کا پھل تلف ہوجائے، اس کی کھیتی تباہ ہوجائے اور اسکا فائدہ مفقود ہو کر رہ جائے۔ (او یصبح مآؤھا) ” یا ہوجائے پانی اس کا“ یعنی باغ کے پانی کا سرچشمہ (غوراً) ” زمین میں اور گہرا“ (فلن تستطیع لہ طلبا) ” پس ہرگز نہیں لا سکے گا تو اسے ڈھونڈ کر“ یعنی اتنی گہرائی میں چلا جائے کہ تم کھدائی کے آلات کے ذریعے سے بھی وہاں تک نہ پہنچ سکو۔ اس صاحب ایمان شخص نے صرف اللہ تعالیٰ کی خاطر غضبناک ہو کر اس کے باغ کے لئے بد دعا کی تھی کیونکہ اس باغ نے اس کو دھوکے اور سرکشی میں مبتلا کردیا تھا اور وہ اس باغ پر مطمئن ہو کر رہ گیا تھا۔ اس بد دعا کا مقصد یہ تھا کہ شاید وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کی رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آئے اور اپنے بارے میں وہ خوب غور و فکر کرے۔ پس اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کی دعا قبول فرمائی۔ (واحیط بثمرہ) ” اور سمیٹ لیا گیا اس کا سارا پھل“ یعنی اس کے پھل پر عذاب نازل ہوگیا، اس نے اس کا احاطہ کر کے اس کو تباہ کردیا اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ چھوڑا۔ پھل کا احاطہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ اس کے باغ کے تمام درخت، ان کا تمام پھل اور زمین میں کاشت کی ہوئی تمام فصل سب کچھ تبا ہوگیا۔ پس وہ بے حد نادم ہوا اور اسے سخت افسوس ہوا۔ (فاصبح یقلب کفیہ علی ماانفق فیھا) ” پس رہ گیا وہ اپنے ہاتھوں کو پھیرتا ہوا، اس مال پر جو اس نے اس باغ میں لگایا تھا“ یعنی اس نے اپنے ابغ پر جو دنیاوی اخراجات کئے تھے وہ سب ضائع ہوگئے اور وہ کف افسوس ملتا رہ گیا اور اس کا کوئی عوض باقی نہ رہا، نیز وہ اپنے شرک اور اپنی بدی پر بھی پشیمان وہا، اس لئے وہ کہنے لگا : (ویقول یلیتنی لم اشرک بربی احداً) ” کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا۔ “ اللہ تاعلیٰ نے فرمایا : (آیت) اور نہ ہوئی اس کی کوئی جماعت کہ وہ اس کی مدد کرے اور نہ ہوا وہ خود بدلہ لینے والا“ یعنی جب اس کے باغ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا تو ہر چیز اس کے ہاتھوں سے نکل گئی جس پر وہ فخر کیا کرتا تھا جس کے زعم پر کہا کرتا تھا : (انا اکثر منک مالا وعزنفراً) یہ اعوان و انصار اس سے کچھ بھی عذاب دور نہ کرسکے جبکہ اسے ان کی سخت ضرورت تھی اور وہ خود بھی اپنی مدد نہ کرسکا اور وہ اس عذاب سے کیسے بچ سکتا تھا اور اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر کے مقابلے میں کون اس کی مدد کرسکتا تھا جس کا فیصلہ جب اللہ تعالیٰ جاری فرما دیتا ہے تو زمین و آسمان کے تمام رہنے والے ملکر بھی اس میں سے کسی چیز کو زائل کرنا چاہیں تو وہ اس کی قدرت نہیں رکھتے۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے لطف و کرم سے بعید نہیں کہ اس شخص نے جس کے باغ پر آفت نازل ہوئیتھی، اپنے احوال کی اصلاح کرلی ہو، وہ اپنے رشد و ہدایت کی طرف لوٹ آیا ہو اور اس کا تمام تکبر اور اس کی سرکشی ختم ہوگئی ہو۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اس نے اپنے شرک پر ندامت کا اظہار کیا تھا اور یہ بھی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے تمرد اور سرکشی کو دور کر کے اس کو دنیا ہی میں سزا دے دی ہو کیونکہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ بھلائی چاہتا ہے تو اسے اس دنیا ہی میں سزا دے دیتا ہے۔ عقل و وہم اللہ تعالیٰ کے فضل کا احاطہ نہیں کرسکتے اور اس کا انکار صرف وہی شخص کرسکتا ہے جو ظالم اور سخت جاہل ہے۔ (آیت) ” وہاں سب اختیار اللہ برحق کا ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے“ یعنی اس حال میں جس میں اللہ تعالیٰ اس شخص کو سزا دینے کا حکم جاری کرتا ہے جس نے سرکشی اختیار کی اور دنیاوی زندگی کو ترجیح دی اور عزت و تکریم اس شخص کے لئے جس نے ایمان لا کر نیک عمل کئے، اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا رہا اور دوسروں کو اس کی طرف دعوت دیتا رہا اس بنا پر واضح ہوگیا کہ حقیقی ولایت کا مالک صرف اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ پر ایمان لا کر تقویٰ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کا ولی اور دوست ہے، وہ اسے مختلف اقسام کی کرامات کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے اور اس کو شر اور تمام آفتوں سے بچاتا ہے۔ جو اپنے رب پر ایمان نہیں رکھتا اور نہ اسے اپنا والی اور سرپرست بناتا ہے، وہ دنیا و دنیا میں خسارہ اٹھاتا ہے۔۔۔ پس اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ دنیاوی اور اخروی ثواب بہترین ثواب ہے جس پر امیدوں کو مرتکز ہونا چاہئے۔ اس عظیم قصے میں اس شخص کے حال میں جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی نعمتیں عنایت کیں، مگر ان نعمتوں نے اسے آخرت سے غافل کر کے سرکش بنا دیا اور وہ ان میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے لگا۔۔۔ لوگوں کے لئے عبرت ہے کہ ان نعمتوں کا انجام زوال اور اضمحلال ہے اگر بندہ ان نعمتوں سے تھوڑا فائدہ اٹھاتا ہے تو طویل عرصے تک محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بندہ مومن کے لئے مناسب یہی ہے کہ جب اسے اپنے مال اور اولاد میں سے کچھ اچھا لگے تو وہ اس نعمت کو نعمت عطا کرنے والے کی طرف منسوب کرے اور یہ کہے : (ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ) تاکہ وہ شکر گزار بنے اور اللہ تعالیٰ کی نعمت کی بقا کے لئے سبب بنے والا بنے۔ اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : (آیت) ” کیوں نہ، جب تو داخل ہوا اپنے باغ میں، کہا تو نے، جو چاہے اللہ سو وہ ہو۔ طاقت نہیں مگر جو دے اللہ۔ “ ان آیات کریمہ میں لذات دنیا اور اس کی شہوات کے بدلے میں ان بہتر چیزوں کے ذریعے تسلی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں۔ فرمایا : (ان ترن انا اقل منک مالا وولدا، فعسی ربی ان یوتین خیرامن جنتک) ان آیات کریمہ سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ مال اور اولاد اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں مددگار نہ بنیں تو وہ کوئی فائدہ نہیں دیتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : (آیت) ” تمہارا مال اور تمہاری اولاد نہیں، جو تمہیں ہم سے قریب کرتی ہو مگر وہی قریب ہوتا ہے جو ایمان لائے اور نیک کام کرے۔“ اس سے یہ بھی مستفاد ہوتا ہے کہ جس شخص کا مال اس کی سرکشی، کفر اور اس کے لئے اخروی خسارے کا سبب ہو اس مال کے تلف ہونے کی دعا کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر جبکہ وہ اس مال کی بنا پر اپنے آپ کو اہل ایمان سے افضل سمجھتا ہو اور ان پر فخر کا اظہار کرتا ہو۔ ان آیات کریمہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰکی ولایت اور عدم ولایت، اس وقت ظاہر ہوگی جب غبار چھٹ جائے گا، جزا و سزا ثابت ہوگی اور علم کرنے والے اپنا اجر پا لیں گے : (ھنالک الولایۃ للہ الحق ھو خیر ثواباً وخیر عقباً) ” اس وقت معلوم ہوگا کہ کار سازی تو اللہ برحق کے اختیار میں ہے، اسی کا انعام بہتر ہے اور اسی کا دیا ہوا بدلہ اچھا ہے۔ “