سورة الإسراء - آیت 105

وَبِالْحَقِّ أَنزَلْنَاهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ۗ وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا مُبَشِّرًا وَنَذِيرًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ اتارا ہے اور حق کے ساتھ [١٢٤] ہی یہ نازل ہوا ہے اور ہم نے آپ کو محض بشارت دینے والا اور ڈرانے والا (بنا کر) بھیجا ہے۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت نمبر (105: یعنی ہم نے اس قرآن کو حق کے ساتھ‘ اپنے بندوں کے لیے امرو نہی اور ان کے عذاب و عقاب کی خاطر نازل کیا ہے (و بالحق نزل) ” اور حق کے ساتھ اترا“ یعنی یہ قرآن صدق و عدل اور شیطان مردود کے ہر وسوسہ سے محفوظ نازل ہوا (وما ارسلنک الا مبشرا ) ” اور نہیں بھیجا ہم نے آپ کو مگر خوشخبری دینے والا بنا کر“ یعنی ان لوگوں کو دنیاوی اور اخروی ثواب کی خوشخبری دینے کے لیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی (ونذیرا) ” اور ڈرانے والا“ یعنی انہیں دنیاوی اور اخروی عذاب سے ڈرانے کے لیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور اس سے ان امور کا بیان لازم آتا ہے جو تبشیر و انذار پر مبنی ہیں۔