سورة الإسراء - آیت 101

وَلَقَدْ آتَيْنَا مُوسَىٰ تِسْعَ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ ۖ فَاسْأَلْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذْ جَاءَهُمْ فَقَالَ لَهُ فِرْعَوْنُ إِنِّي لَأَظُنُّكَ يَا مُوسَىٰ مَسْحُورًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

ہم نے موسیٰ[١١٩] کو تو واضح آیات دی تھیں تو بنی اسرائیل سے پوچھ لیجئے کہ جب موسیٰ ان کے پاس آئے تو فرعون نے ان سے کہا'': موسیٰ ! میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ تجھ پر جادو [١٢٠] کردیا گیا ہے۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت نمبر (101 یعنی اے رسول ! کہ جس کی آیات و معجزات کے ذریعے سے تائید کی گئی ہے۔۔۔ آپ پہلے رسول نہیں ہیں جس کی لوگوں نے تکذیب کی ہم نے اپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پہلے موسیٰ بن عمران (علیہ السلام) کو رسول بنا کر فرعون اور اس کی قوم کی طرف مبعوث کیا‘ ہم نے انہیں عطا کیے (تسع ایت بینت ) ” نو معجزات“ جو شخص حق کا قصد رکھتا ہے اس کے لیے ان میں ایک ہی معجزہ کافی ہے۔۔۔ جیسے اژدہا‘ عصا‘ طوفانً‘ طوفان‘ ٹڈی دل‘ جوئیں‘ مینڈ‘ خون‘ یدبیضا اور سمندر کا پھٹ جانا۔ اگر آپ کو اس بارے میں کوئی شک ہے (فسعل بنی اسرائیل اذا جاء کم فقال لہ فرعون ) ” تو آپ بنی اسرائیل سے پوچھ لیں جب آئے موسیٰ ان کے پاس تو ( ان معجزات کے باوجود) فرعون نے کہا : (انی لا ظنک یموسی مسحورا) ” اے موسیٰ ! میں سمجھتا ہوں‘ تجھ پر ضرور جادو کردیا گیا ہے۔“ (قال) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا : اے فرعون ! (لقد علمت ) ”ٌجھے علم ہے“ ( ما انزل ھو لاء) ” نہیں نازل کیا ان معجزات کو“ (الا رب السموت والارض بصائر ) ” مگر آسمان و زمین کے رب نے سمجھانے کو“ اپنی طرف سے بندوں کے لیے پس تیرا یہ قول حقیقت پر مبنی نہیں۔ تیرا یہ قول اپنی قوم میں ابہام پیدا کرنے اور حق و صواب کی راہ سے ہٹانے کے لیے ہے۔ ( وانی لا ظنک یفرعون مثبورا) ” اے فرعون ! میں خیال کرتا ہوں کہ تو ہلاک ہوجائے گا۔“ یعنی اے فرعون ! میں سمجھتا ہوں کہ تو سخت مبغوض‘ مذموم‘ دھتکارا ہوا اور اللہ کے عذاب میں پھینکا جانے والا ہے۔ (فاراد) پس فرعون نے ارادہ کیا (ان یستفزھم من الارض) ”” پس ہم نے اس کو اور اس کے ساتھویں کو سب کو غرق کردیا“ اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو ان کی زمینوں اور گھروں کا وارث بنا دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ان کو اس زمین (مصر) سے نکال دے۔“ یعنی بنی اسرائیل کو سر زمین مصر سے نکال کر جلا وطن کر دے (فاغرقنہ و من معہ جمیعا) ” پس ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو سب کو غرق کردیا“ اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل کو ان کی زمینوں اور گھروں کا وارث بنا دیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ( وقلنا من بعدہ لنبی اسرآئیل اسکنو الارض فاذا جاء وعدالاخرۃ جئنا بکم لفیفا) ” اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا‘ رہو تم زمین میں‘ پس جب آخرت کا وعدہ آئے گا‘ تو ہم تم سب کو سمیٹ کرلے آئیں گے“ یعنی تم سب کو لے کر آئیں گے اور پھر ہر عمل کرنے والے کو اس عمل کی جزا دیں گے۔