سورة الإسراء - آیت 56

قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُم مِّن دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

آپ ان سے کہئے : ان کو پکارو جنہیں تم اللہ کے سوامعبود سمجھتے ہو' وہ تم سے تکلیف' کو نہ ہٹا سکتے ہیں [٦٩] اور نہ بدل سکتے ہیں۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت نمبر (56 (قل) ” کہہ دیجیے۔“ یعنی مشرکین سے ان کے اعتقاد کی صحت پر دلیل طلب کرتے ہوئے کہہ دیجیے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں‘ جن کی یہ اسی طرح عبادت کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے‘ جن کو یہ اسی طرح پکارتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کو پکارتے ہیں۔۔۔ کہ اگر وہ سچے ہیں تو (ادعوا الذین زعمتم ) ” پکارو تم ان کو جن کو تم گمان کرتے ہو“ یعنی جن کے بارے میں تم اس زعم میں مبتلا ہو کہ وہ معبود ہیں (من دونہ ” اللہ کو چھوڑ کر“ پس غور کرو کہ آیا وہ تمہیں کوئی نفع دے سکتے ہیں یا تمہیں کسی نقصان سے بچا سکتے ہیں۔) من دونہ ) ” اللہ کو چھوڑ کر“ پس غور کرو کہ آیا وہ تمہیں کوئی نفع دے سکتے ہیں یا تمہیں کسی نقصان سے بچا سکتے ہیں۔ (فلا یملکون کشف الضر عنکم ) ” سو وہ نہیں اختیار رکھتے تم سے تکلیف دور کرنے کا“ یعنی یہ خود ساختہ معبود‘ فقر اور سختی وغیرہ کو بالکل دور نہیں کرسکتے۔ ( ولا تحویلا) ” اور نہ بدلنے کا“ اور نہ یہ باطل معبود کسی سختی کو کسی ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف منتقل ہی کرسکتے ہیں۔ پس جب ان باطل معبودوں کے یہ اوصاف ہیں تو تم اللہ کے سوا انہیں کس لیے پکارتے ہو؟ یہ کسی کمال کے مالک ہیں نہ افعال نافعہ کے۔ تب ان بے بس اور بے اختیار ہستیوں کے معبود بنانا عقل و دین کی کمی اور رائے کی سفاہت ہے۔ تعجب کی بات تو یہ ہے کہ جب انسان سفاہت میں پڑے رہنے کی وجہ سے اس کا عادی ہوجاتا ہے اور اس کو اپنے گمارہ آباء واجداد سے اخذ کرتا ہے تو اسی سفاہت کو انتہائی درست رائے اور عقل مندی سمجھنے لگتا ہے اور اس کے برعکس اللہ واحد کے لیے۔۔۔ جو تمام ظاہری اور باطنی نعمتیں عطا کرنے والا ہے۔۔۔۔ اخلاص کو سفاہت خیال کرتا ہے۔ یہ کتنا تعجب خیز معاملہ ہے‘ جیسا کہ مشرکین کا قول ہے : (اجعل الا لھۃ الھا واحدا ان ھذا لشیء عجاب (آ : (5/38:) کیا اس نے بہت سے معبودوں کو ایک معبود بنا دیا ہے یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔ “ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مشرکین اللہ کے سوا جن لوگوں کی عبدت کرتے ہیں وہ ان سے بے خبر ہیں‘ وہ خود اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ مشرکین اللہ کے سوا جن لوگوں کی عبادت کرتے ہیں وہ ان سے بے خبر ہیں‘ وہ خود اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں اور اس کی طرف وسیلہ کے متلاشی ہیں۔ فرمایا : (اولک الذی یدعون ) ” وہ لوگ جن کو یہ پکارتے ہیں“ یعنی انبیاء و صالحین اور فرشتے (یبتغون الی ربھم الوسیلۃ ایھم اقرب ) ” وہ ڈھونڈھتے ہیں اپنے رب کی طرف وسیلہ کہ کون زیادہ نذدیک ہے“ یعنی اپنے رب کے قرب کے حصول کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور مقدور بھر ایسے اعمال میں اپنی پوری کوشش صرف کرتے ہیں جو ان کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرنے والے ہیں (و یرجون رحمۃ ہ و یخفون عذابہ ) ” اور اس کی رحمت کی امید رکھتے اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔“ پس وہ ہر اس کام سے اجتناب کرتے ہیں جو عذاب کا موجب ہے۔ (ان عذاب ربک کان محذورا) ” آپ کے رب کا عذاب ڈرنے کے لائق ہے“ اس لیے ضروری ہے کہ ان تمام اسباب سے بچا جائے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں۔ خوف‘ امید اور محبت‘ یہ تین امور جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ان مقربین کا وصف قرار دیا ہے‘ ہر بھلائی کی اساس ہیں۔ جس نے ان تینوں امور کی تکمیل کرلی‘ اس کے تمام امور مکمل ہوگئے اور اگر قلب ان امور سے خلی ہے تو وہ تمام بھلائیوں سے محروم ہوجائے گا اور برائیاں اس کو گھیر لیں گی اور اللہ تعالیٰ نے محبت الہٰی کی علامت یہ بتائی ہے کہ بندہ ہر اس کام میں جدو جہد کرتا ہے جو قرب الہٰی کا ذریعہ ہے اور اپنے تمام اعمال میں اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص‘ خیر خواہی اور حتی المقدوران کو بہترین طریقے سے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر کے اس کے قرب کے حصول کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کرتا ہے۔ ان تمام امور کے بغیر اگر کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ محبت کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ جھوٹا ہے۔