سورة الإسراء - آیت 41

وَلَقَدْ صَرَّفْنَا فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ لِيَذَّكَّرُوا وَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا نُفُورًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

ہم نے اس قرآن میں (حقائق کو) مختلف طریقوں سے بیان کیا تاکہ لوگ کچھ ہوش کریں مگر ان میں نفرت [٥١] ہی بڑھتی گئی

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت نمبر 41 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے قرآن مجید میں اپنے بندوں کے لئے مختلف انواع کے احکام واضح کر کے بیان کئے ہیں اور اپنی دعوت کی حقانیت پر بہت سے دلائل اور براہین بیان کئے ہیں اور انہیں وعظ و نصیحت کی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں جس سے انہیں فائدہ ہو اور اسے اپنا لائحہ عمل بنائیں اور جس سے نقصان ہو اسے چھوڑ دیں۔ مگر اکثر لوگ باطل سے محبت اور حق کے خلاف بغض رکھنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی آیات سے بدک کر دور بھاگتے ہیں حتیٰ کہ وہ باطل کے لئے تعصب میں مبتلا ہوگئے۔ انہوں نے آیات الٰہی کو سنا نہ ان کی کوئی پروا کی۔ جس موضوع پر اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ دلائل و براہین بیان کئے، وہ توحید ہے جو تمام اصولوں کی اساس ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے اور اس کی ضد سے روکا ہے اور اس پر بہت سے عقلی اور نقلی دلائل بیان کئے ہیں جو کوئی ان میں سے کسی پر توجہ دیتا ہے تو اس کے قلب میں کوئی شک و شبہ نہیں رہتا۔ ان دلائل میں سے ایک عقلی دلیل یہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے یہاں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے (قل) یعنی ان مشرکین سے کہہ دیجئے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور بھی معبود بنا لئے ہیں۔ (لو کان معہ الھتہ کما یقولون) ،، اگر اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں،، یعنی ان کے زعم اور افترا پردازی کے مطابق (اذا لا بتغو الیٰ ذی العرش سبیلاً) ،، تو نکالتے صاحب عرض کی طرف کوئی راستہ،، یعنی وہ عبادت، انابت، تقرب اور وسیلے کے ذریعے سے ضرور اللہ تعلایٰ کی طرف کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس وہ شخص جو اپنے آپ کو اپنے رب کی عبودیت کا نہایت شدت سے محتاج سمجھتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے سوا دوسری ہستیوں کو معبود کیسے قرار دے سکتا ہے؟ کیا یہ سب سے بڑا ظلم اور سب سے بڑی سفاہت نہیں ہے؟ اس معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد جیسی ہے۔ (آیت) (نبی اسرائیل : 57/17) ،، جن لوگوں کو یہ پکارٹے ہیں وہ تو خود اللہ کے ہاں تقرب کے حصول کا وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ کون اس کے قریب تر ہے۔،، اور اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کی مانند ہے۔ (آیت) (الفرقان : 18/17/25) ،، اور جس روز وہ ان لوگوں کو اکٹھا کرے گا اور ان کو بھی جن کی یہ اللہ کو چھوڑ کر پوجا کرتے ہیں، پھر ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا؟ یا وہ خود گمراہ ہوگئے تھے؟ وہ جواب دیں گے تیری ذات پاک ہے ہمارے لئے یہ مناسب نہ تھا کہ ہم تجھے چھوڑ کر کسی اور کو اپنا مولا بنائیں۔،، اور یہ احتمال بھی ہے کہ اس آیت کے معنی یہ ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ پر غالب آنے کے لئے کوشش کرتے اور کوئی راستہ تلاش کرتے۔ پس یا تو وہ اس پر غالب آجاتے اور جو غالب آجاتا وہی رب اور الٰہ ہوتا لیکن جیسا کہ انہیں علم ہے اور وہ اقرار کرتے ہیں کہ ان کے خود ساختہ معبود جن کو یہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، مقہور و مجبور اور مغلوب ہیں انہیں کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں، ان کا یہ حال ہوتے ہوئے پھر ان کو انہوں نے معبود کیوں بنایا ہے؟ تب اس معنی کے مطابق یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مشابہ ہے۔ (آیت) (المومنون : 91/23) ،، اللہ نے کوئی بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی اپنی مخلوق لے کر الگ ہوجاتا پھر تمام ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش کرتے۔۔ فرمایا : (سنبحنہ و تعالیٰ) ،، وہ پاک اور بلند ہے۔،، یعنی اللہ تعالیٰ مقدس اور منزہ ہے اس کے اوصاف عالیشان ہیں۔ (عما یقولون) ،، ان سے جو وہ کہتے ہیں،، یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے اور ان کے اس کا ہمسر بنا لینے سے پاک ہے (علواً کبیراً) ،، بہت بلند۔ ،، پس وہ عالی قدر اور عظیم الشان ہے اور اس کی کبریائی ظاہر ہے اس کی کبرائی برداشت نہیں کرسکتی کہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہو۔ جو کوئی اس بات کا قائل ہے وہ صاف گمراہ اور بہت بڑا ظالم ہے۔ اس کی عظمت کے سامنے بڑی بڑی مخلوقات نہایت عاجز اور اس کی کبریائی کے سامنے بہت حقیر ہیں۔ ساتوں آسمان اور جو کچھ ان کے اندر موجود ہے اور ساتوں زمینیں اور جو کچھ ان کے اوپر ہے، سب اللہ تعالیٰ کے قبضہ، قدرت میں ہے۔ (آیت) (الزمر : 67/39) ،، قیامت کے روز تمام زمین اس کی مٹھی میں ہوگی اور تمام آسمان اس کے دائیں ہاتھ میں لپٹے ہوئے ہوں گے۔،، تمام عالم علوی اور عالم سفلی اپنی ذات کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ کا محتاج ہے اور یہ احتیاج کسی وقت بھی ان سے جدا نہیں ہوتی یہ فقرو احتیاج ہر لحاظ سے‘ تخلیق‘ رزق اور تدبیر کی احتیاج ہے نیز یہ اضطراری طور پر بھی فقرو احتیاج جدا نہیں ہوتی یہ فقرو احتیاج ہر لحاظ سے‘ تخلیق‘ رزق اور تدبیر کی احتیاج ہے نیز یہ اضطرای طور پر بھی فقرو احتیاج ہے کہ ان کا کوئی معبود و حبوب ہو جس کا وہ تقرب حاصل کریں اور ہر حال میں اس کی پناہ لیں۔ بنا بریں فرمایا (تسبح لہ السموت السبع والارض ومن فیھن وان من شیء) ” اس کی تسبیح بیان کرتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہے اور نہیں ہے کوئی چیز۔“ یعنی حیوان ناطق‘ حیوان غیر ناطق‘ درخت‘ نباتات‘ جمادات‘ زندہ اور مردہ (الا یسبح بحمدہ ) ” مگر تسبیح بیان کرتی ہے اس کی خوبیوں کے ساتھ“ اپنی زبان حال اور زبان مقال سے (الا یسبح بحمدہ) مگر تسبیح بیان کرتی ہے اس کی خوبیوں کے ساتھ“ اپنی زبان حال اور زبان مقال سے (ولکن لا تفقھون تسبیحھم ) ” لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے“ یعنی تم باقی تمام مخلوقات کی تسبیح نہیں سمجھتے جن کی زبان تمہاری زبان سے مختلف ہے۔ مگر اللہ علام الغیوب ان سب کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ (انہ کان حلیم غفورا ) ” بے شک وہ بردبار اور بڑا بخشنے والا ہے“ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو بھی فوراً سزا نہیں دیتا جو اس کے بارے میں ایسی بات کہتا ہے کہ اس کی اس بات سے آسمان پھٹ جائیں اور پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہو کر گر پڑیں۔ مگر اللہ تعالیٰ انہیں مہلت دیتا ہے‘ انہیں نعمتوں سے نوازتا ہے‘ ان سے درگزر کرتا ہے‘ ان کو رثق عطا کرتا ہے اور ان کو اپنے دروازے پر بلاتا ہے تاکہ وہ اس گناہ عظیم سے توبہ کریں اور وہ ان کو ثواب جزیل عطا کرے اور ان کے گناہ بخش دے۔ اگر اس کا حلم اور مغفرت نہ ہوتی تو آسمان زمین پر گر پڑتے اور زمین کی پیٹھ پر ایک جاندار بھی زندہ نہ بچتا۔