سورة الإسراء - آیت 17

وَكَمْ أَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُونِ مِن بَعْدِ نُوحٍ ۗ وَكَفَىٰ بِرَبِّكَ بِذُنُوبِ عِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

نوح کے بعد ہم نے کتنی ہی قومیں ہلاک کردیں [١٧] اور آپ کا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں سے خبردار رہنے اور دیکھنے کو کافی ہے۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت نمبر 17 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے۔ (من کان یرید العاجلتہ) ،، جو شخص دنیا کا خواہش مند ہو۔ ،، یعنی جو کوئی ختم اور زائل ہوجانے والی دنیا چاہتا ہے وہ اس کے لئے عمل اور کوشش کرتا ہے، اس کی ابتدایا انتہا کو فراموش کردیتا ہے تو اللہ تعالیٰ جلدی سے دنیا کے وہ ٹکڑے اور اس کا مال و متاع اسے عطا کردیتا ہے، جسے وہ چاہتا تھا اور اس کا ارادہ رکھتا تھا، جس کو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے لوح محفوظ میں لکھ دیا تھا۔ مگر یہ متاع دنیا فائدہ دینے والی ہے نہ ہمیشہ رہنے والی ہے۔ پھر آخرت میں اس کے لئے (جھنمہ یصلھا) ،، جہنم ہے جس میں وہ داخل ہوگا،، یعنی اس کے عذاب میں ڈالا جائے گا۔ (مذموماً مدحوراً) ،، مذموم اور راندہ ہو کر۔،، یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کی طرف سے مذمت، رسوائی اور فضیحت کی حالت میں ہوگا، وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے بہت دور ہوگا، اس کے لئے رسوائی اور عذاب کو جمع کردیا جائے گا۔ (ومن اراد الاخرۃ) ،، جو آخرت چاہتا ہے،، اس پر راضی ہے اور اسے دنیا کے مال و متاع پر ترجیح دیتا ہے۔ (وسعیٰ لھا سعیھا) ،، اور اس کے لیے اتنی کوشش کرتا ہے جتنی اسے لائق ہے۔،، یعنی جس کی طرف تمام کتب سماوی اور آثار نبوت نے دعوت دی ہے اور امکان بھر اس کے لئے جدوجہد کرتا ہے۔ (وھو مومن)،، اور وہ مومن بھی ہے۔،، یعنی وہ اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے۔ (فاولئیک کانا سعیھم مشکوراً) ،، پس یہی وہ لوگ ہیں جن کی کوشش مقبول ہے۔،، جو اللہ تعالیٰ کے ہاں نشو نما پا کر جمع ہوتی رہے گی۔ ان کا اجر و ثواب ان کے رب کے پاس ہوگا۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ دنیا کے حصے سے بھی محروم نہ ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ ہر ایک کو سامان زیست عطا کرتا ہے کیونکہ یہ اس کی عطا اور اس کا فضل و احسان ہے۔ (وما کانا عطاء ربک محظوراً) ،، اور تیرے تب کی عطاء و بخشش رکی ہوئی نہیں۔ ،، یعنی اللہ کی عطا کسی کے لئے ممنوع نہیں بلکہ تمام مخلوق اس کے فضل و کرم سے بہرہ ور ہو رہی ہے۔ (انظر کیف فضلنا بعضھم علی بعض) ،، دیکھو، کیسے ہم نے بعض کو بعض پر فضیلت دی،، یعنی کیسے ہم نے ان کو دنیا میں رزق کی کشادگی اور کمی، آسانی اور تنگی، علم اور جہالت، عقل اور سفاہت وغیرہ امور میں ایک دوسرے پر فضیلت دی ہے۔ (ولآخرۃ اکبرڑ درجت واکبر تفضیلاً) ،، اور آخرت کے گھر میں تو اور بڑے درجے ہیں اور بڑی فضیلت ،، دنیا کی لذتوں اور نعمتوں کو آخرت سے کسی لحاظ سے کوئی نسبت ہی نہیں۔ کتنے ہی لوگ بلند و بالا محلوں، مختلف انواع کی لذتوں، فرحتوں، خوبصورت چیزوں سے حظ اٹھتاے ہوں گے اور دوسری طرف وہ لوگ ہوں گے جن کو جہنم میں جھونک دیا گیا ہوگا، وہاں وہ درد ناک عذاب سے دو چار ہوں گے اور رب رحیم کی سخت ناراضی ان پر نازل ہوگی اور دنیا و آخرت کے لوگوں میں اس قدر تفاوت ہے کہ کسی کے لئے اس کا شمار کرنا ممکن نہیں ہے۔