سورة النحل - آیت 114

فَكُلُوا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللَّهُ حَلَالًا طَيِّبًا وَاشْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

پس اللہ نے جو تمہیں حلال اور پاکیزہ رزق دیا ہے وہی کھاؤ اگر واقعی تم اس کی بندگی کرنے والے ہو [١١٧] تو اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : (114-118) اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ رزق میں سے حیوانات‘ غلہ جات اور میوہ جات وغیرہ کھائیں۔ (حللا طیبا) ” حلال اور پاکیزہ“ یعنی اس رزق کو اس حالت میں کھائی کہ وہ مذکورہ دو اوصاف سے متصف ہو یعنی یہ ان چیزوں میں سے نہ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے حرام ٹھہرایا ہے اور نہ ہو رزق کسی غصب کے نتیجے میں حاصل ہوا ہو۔ پس بغیر کسی اسراف اور زیادتی کے اللہ تعالیٰ کے رزق سے فائدہ اٹھاؤ (واشکروانعمت اللہ) ” اور اللہ کی نعمت کا شکرا دا کرو“ قلب کے ذریعے سے اس نعمت کا اعتراف کر کے‘ اس نعمت پر اللہ تعالیٰ کی حمت و ثناء کر کے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں صرف کر کے (ان کنتم ایاہ تعبدون) ” اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔“ یعنی اگر تم اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مخلص ہو تو صرف اسی کا شکر ادا کرو اور نعمتیں عطا کرنے ولاے کو فراموش نہ کرو۔ (انما حرم علیکم) ” اس نے تم پر صرف حرام کردیا ہے۔“ اللہ تعالیٰ نے تمہاری پاکیزگی کی خاطر ضرر رساں چیزوں کو تم پر حرام ٹھہرا دیا ہے۔ (المیتۃ) ” مردار۔“ یعنی ان چیزوں میں ایک مردار ہے اس میں ہر وہ جانور داخل ہے جس کی موت مشروع طریقے سے ذبح کے بغیر واقع ہوئی ہو۔ ٹڈی اور مچھلی کا مرار اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔ (والدم) ” اور خون“ یعنی بہایا ہوا‘ (جو ذبح کے وقت بہتا ہے) اور وہ خون جو ذبح کرنے کے بعد رگوں اور گوشت میں باقی رہ جائیے اس میں کوئی حرج نہیں۔ (ولحم الخنزیر) ” اور خنزیر کا گوشت“ یہ اس کی گندگی اور ناپاکی کی وجہ سے حرام ہے اور یہ حکم اس کے گوشت‘ اس کی چربی اور اس کے تمام اجزاء کو شامل ہے۔ (وما اھل بغیر اللہ بہ) ” اور جس پر نام پکارا جائے اللہ کے سوا کسی اور کا۔“ مثلاً وہ جانور جو بتوں اور قبروں وغیرہ پر ذبح کیا جائے کیونکہ اس کا مقصد شرک ہے۔ (فمن اضطر) ” پس جو شخص مجبور ہوجائے“ ان محرمات میں سے کسی چیز کے استعمال کرنے پر‘ یعنی ضرورت اسے اس کے استعمال پر مجبور کر دے اور اسے ڈر ہو کہ اگر وہ یہ حرام چیز نہیں کھائے گا تو مر جائے گا تو اس حرام چیز کو کھا لینے میں کوئی گناہ نہیں۔ (غیر باغ ولا عاد) ” نہ سرکشی کرنے والا ہو اور نہ زیادتی کرنے والا“ یعنی جب وہ مجبور نہ ہو تو حرام چیز کھانے کا ارادہ رکھتا ہو نہ حلال کو چھوڑ کر حرام کی طرف جاتا ہو اور نہ ضرورت سے زیادہ حرام چیز کو استعمال میں لاتا ہو۔ یہ وہ محرمات ہیں جن کو اضطراری حالت میں اللہ تعالیٰ نے حلال کردیا ہے۔ (ولا تقولوالما تصف السنتکم الکذب ھذا حلل وھذا حرام) ” اور نہ کہو تم جن کو تمہاری زبانیں جھوٹ نہ بنا لیں کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے“ یعنی اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتے اور افترا پردازی کرتے ہوئے خود اپنی طرف سے حلال اور حرام کے ضابطہ نہ بناؤ۔ (لتفتروا علی الہ الکذب ان الذین یفترون علی اللہ الکذب لایفلحون) ” تاکہ تم اللہ پر بہتان باندھو۔ بے شک جو اللہ پر بہتان باندھتے ہیں وہ فلاح نہیں پائیں گے“ دنیا میں نہ آخرت میں اللہ تبارک و تعالیٰ ان کو ضرور ذلیل و رسوا کرے گا‘ اگر انہوں نے اس دنیا سے فائدہ اٹھایا بھی (متاع قلیل) ” تو یہ بہت ہی قلیل متاع ہے“ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے (ولھم عذاب الیم) ” اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے“ پس اللہ تالیٰ نے اپنے فضل و احسان کی بنا پر ہمیں گندگی سے بچانے کے لئے ہمارے لئے صرف ناپاک چیزوں کو حرام کیا ہے لیکن یہودیوں پر اللہ تعالیٰ نے ان کے ظلم کی سزا کے طور پر طیبات کو حرام ٹھہرا دیا تھا جو ان کے لئے حلال تھیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الانعام میں ان الفاظ میں اس کا ذکر فرمایا ہے۔ (وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر ومن البقر والغنم حرمنا علیھم شحو مھما الا ما حملت ظھورھما او الھوایا او ما اختلط بعظم ذلک جزینھم ببغیھم و انا لصدقون) (الانعام :146/6) ” اور یہودیوں پر ہم نے ناخم والے جانور حرام کردیئے‘ گائے اور بکری کی چربی بھی حرام ٹھہرا دی سوائے اس چربی کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی انتڑیوں یا ہڈی کے ساتھ لگی ہوئی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کو ان کی سرکشی کی سزا دی تھی اور بے شک ہم سچے ہیں۔ “