سورة النحل - آیت 110

ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ هَاجَرُوا مِن بَعْدِ مَا فُتِنُوا ثُمَّ جَاهَدُوا وَصَبَرُوا إِنَّ رَبَّكَ مِن بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

پھر جن لوگوں نے مصائب اٹھانے کے بعد ہجرت [١١٤] کی پھر جہاد کیا اور صبر کرتے رہے تو آپ کا پروردگار بلاشبہ ان (آزمائشوں) کے بعد انھیں معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : (110-111) یعنی بلا شبہ آُ کا رب جس نے اپنے مخلص بندوں کی‘ اپنے لطف و احسان کے ذریعے سے تربیت کی اس شخص کے لئے بہت غفور و رحیم ہے جو اس کی راہ میں ہجرت کرتا ہے‘ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کی خاطر اپنا گھر بار اور مال اسباب سب چھوڑ دیتا ہے‘ دین کی وجہ سے اسے ستایا جاتا ہے تاکہ وہ کفر کی طرف دوبارہ لوٹ آئے‘ مگر وہ ایمان پر ثابت قدم رہتا ہے اور اپنے یقین کو بچا لیتا ہے‘ پھر وہ اپنے ہاتھ اور زبان سے اللہ تعالیٰ کے دشمنوں کے خلاف جہاد کرتا ہے تاکہ ان کو اللہ کے دین میں داخل کرے اور وہ ان عبادات پر صبر کرتا ہے جو اکر لوگوں پر بہت شاق گزرتی ہیں۔ یہ سب سے بڑے اسباب ہیں جن کے ذریعے سب سے بڑے عطیات اور بہترین مواہب حاصل ہوتے ہیں اور وہ عطیات و مواہب یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو بخش دیتا ہے اور ہر امر مکروہ کو اس سے دور کردیتا ہے اور وہ اپنی عظیم رحمت سے اسھ ڈھانپ لیتا ہے جس سے بندوں کے احوال صحیح اور ان کے دینی اور دنیاوی امور درست ہوتے ہیں۔ پس قیامت کے روز ان کے لئے رحمت ہے۔ (یوما تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا) ” جس دن آئے گا ہر نفس جھگڑا کرتا ہوا اپنی طرف سے“ یعنی ہر شخص (نفسی نفسی) پکارے گا اور اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا‘ پس اس روز بندہ ذرہ بھر نیکی کے حصول کا بھی محتاج ہوگا۔ (وتوفی کل نفس ماعملت) ” اور پورا ملیل گا ہر نفس کو جو اس نے کمایا“ یعنی نیک یا بد جو بھی عمل کیا ہوگا (وھم لا یظلمون) ” اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے۔“ یعنی ان کے گناہوں میں اضافہ کیا جائے گا نہ ان کی نیکیوں میں کمی کی جائے گی۔ (فالیوم لاتظلم نفس شیئا ولا تجزون الا ماکنتم تعملون) (یسن : 54/36) ” آج کسی جان پر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں ویسی ہی جزا دی جائے گی جیسے تم عمل کرتے رہے ہو۔ “