سورة النحل - آیت 76

وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَّجُلَيْنِ أَحَدُهُمَا أَبْكَمُ لَا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ وَهُوَ كَلٌّ عَلَىٰ مَوْلَاهُ أَيْنَمَا يُوَجِّههُّ لَا يَأْتِ بِخَيْرٍ ۖ هَلْ يَسْتَوِي هُوَ وَمَن يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ ۙ وَهُوَ عَلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

نیز اللہ ایک اور مثال بیان کرتا ہے : دو آدمی ہیں جن میں سے ایک گونگا (بہرا) ہے کسی بات [٧٧] کی قدرت نہیں رکھتا، وہ اپنے مالک پر بوجھ بنا ہوا ہے، مالک اسے جہاں بھیجتا ہے وہ بھلائی سے نہیں آتا۔ کیا ایسا شخص اس دوسرے کے برابر ہوسکتا ہے جو انصاف کے ساتھ حکم دیتا ہے اور سیدھی راہ پر گامزن ہے؟

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : (77) یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے عیب کا علم رکھنے میں منفرد اور یکتا ہے‘ پس چھپی ہوئی باطن کی باتیں اور اسرار نہاں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا‘ قیامت کی گھڑی کا علم بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ چنانچہ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ قیامت کب آئے گی۔ جب قیامت کی گھڑی نمایاں ہو کر سامنے آجائے گی تو یہ (الاکلمح البصر اوھواقرب) ” آنکھ جھپکنے یا اس سے بھی کم وقت میں آجائے گی۔“ پس لوگ اپنی قبروں سے اٹھ کھڑے ہوں گے اور محشر کی طرف دوڑیں گے اور جو لوگمہلت چاہیں گے ان کے لئے مہلت کا وقت ختم ہوجائے گا۔ (ان اللہ علی کل شیء قدیر) ” بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔“ الہ تعالیٰ کی قدرت کے سامنے‘ ہر چیز کو شامل ہے‘ مردوں کو زندہ کرنا کوئی انوکھی بات نہیں۔