سورة النحل - آیت 61

وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِم مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِن دَابَّةٍ وَلَٰكِن يُؤَخِّرُهُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُّسَمًّى ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کو ان کے ظلم کی بنا پر پکڑنے لگتا تو زمین پر کوئی جاندار مخلوق باقی نہ رہ جاتی [٥٨] لیکن وہ ایک معین عرصہ تک ڈھیل دیئے جاتا ہے پھر جب وہ مدت آجاتی ہے تو (اللہ کا عذاب ان سے) گھڑی بھر کے لئے بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت : (61) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ظالموں کی افترا پردازی بیان کرنے کے بعد اپنا کامل حلم و صبر ذکر کرتے ہوئے فرمایا (ولو یؤاخذ اللہ الناس بظلمھم) ” اگر پکڑے اللہ لوگوں کو ان کی بے انصافی پر“ بغیر کسی کمی یا زیادتی کے (ما ترک علیھا من دابۃ) ” نہ چھوڑے وہ زمین پر ایک بھی چلنے والا“ یعنی معصیت کا ارتکاب کرنے والوں کے علاوہ چوپایوں اور حیوانات میں سے بھی کچھ نہبچتا‘ کیونکہ گناہوں کی نحوست کھیتوں اور نسل کو ہلاک کردیتی ہے۔ (ولکن یوخرھم) ” لیکن وہ ان کو ڈھیل دیتا ہے“ یعنی انہیں جلدی سزا نہیں دیتا‘ بلکہ ایک مقرر مدت یعنی قیامت کے روز تک موخر کردیتا ہے (فاذاجاء اجلھم یا یستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون) ” پو جب ان کا مقرر وقت آجائے گا‘ تو پیچھے سرک سکیں گے ایک گھڑی نہ آگے سرک سکیں گے“ اس لئے جب تک انہیں مہلت کا وقت حاصل ہے‘ اس سے پہلے کہ وہ وقت آن پہنچے جب کوئی مہلت نہ ہوگی‘ انہیں ڈر جانا چاہئے۔