سورة النحل - آیت 16

وَعَلَامَاتٍ ۚ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور کچھ نشانیاں [١٦] بھی بنا دیں اور بعض لوگ ستاروں سے [١٧] راستہ معلوم کرلیتے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 16 اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (والقی) ” اور رکھ دیئے اس نے“ اللہ تعالیٰ نے بندوں کی خاطر (فی الارض رواسی) ” زمین میں بوجھ“ اس سے مراد بڑے بڑے پہاڑ ہیں تاکہ زمین مخلوق کے ساتھ ڈھلک نہ جائے اور تاکہ زمین پر کھیتی باڑی کرسکیں، اس پر عمارتیں بنا سکیں اور اس پر چل پھر سکیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت کا کرشمہ ہے کہ اس نے زمین پر دریاؤں کو جاری کردیا، وہ ان دریاؤں کو دور دراز زمین سے بہا کر اس زمین تک لاتا ہے جو ان کے پانی کی ضرورت مند ہے تاکہ وہ خود ان کے مویشی اور کھیت سیراب ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے کچھ دریا سطح زمین پر اور کچھ دریا سطح زمین کے نیچے جاری کئے، لوگ کنوئیں کھودتے ہیں یہاں تک کہ وہ زیر زمین بہنے والے دریاؤں تک پہنچ جاتے ہیں تب وہ رہٹ اور دیگر آلات کے ذریعے سے، جن کو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے مسخر کردیا ہے۔۔۔ ان زمینی دریاؤں (کے پانی) کو باہر نکالتے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بے کراں رحمت ہی ہے کہ اس نے زمین میں تمہارے لئے راستے بنا دیئے جو دور دراز شہروں تک لے جاتے ہیں۔ (لعلکم تھتدون) شاید کہ تم ان راستوں کے ذریعے سے اپنی منزل مقصود کو پالو، حتی کہ تم ایسا علاقہ بھی پاؤ گے جو پہاڑوں کے سلسلے سے گھرا ہوا ہے، مگر اللہ تعالیٰ نے ان پہاڑوں میں لوگوں کے لئے درے اور راستے بنا دیئے ہیں۔