سورة النحل - آیت 13

وَمَا ذَرَأَ لَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهُ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَذَّكَّرُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

نیز اس نے تمہارے لئے زمین میں رنگ برنگ کی کئی چیزیں پیدا کی ہیں۔ اس میں بھی ان لوگوں کے لئے نشانی ہے جو [١٣] سبق حاصل کرتے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 13 یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ نے مختلف انواع کے جو حیوانات، نباتات اور شجر وغیرہ پیدا کئے ہیں، جن کے رنگ ایک دوسرے سے مختلف اور جن کے فوائد بہت متنوع ہیں اور ان کو بندوں کے استفادے کے لئے زمین پر پھیلایا ہے، یہ سب اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت، بے پایاں احسان اور بے حساب فضل و کرم کی نشانیاں ہیں، نیز اس حقیقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (لقوم یذکرون) ” ان لوگوں کے لئے نشانی ہیں جو سوچتے ہیں“ یعنی وہ لوگ جو اپنے حافظے میں علم نافع کو محفوظ رکھتے ہیں، پھر ان امور پر غور و فکر کتے ہیں جن پر غور و فکر کرنے کی اللہ تعالیٰ نے دعوت دی ہے یہاں تک کہ وہ اس حقیقت تک پہنچ جاتے ہیں جس پر یہ علم دلالت کرتا ہے۔