سورة النحل - آیت 3

خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ بِالْحَقِّ ۚ تَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور جو کچھ یہ لوگ شرک کر رہے ہیں اللہ اس سے [٥] بلندتر ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 3 اس سورۃ مبارکہ کو ” سورۃ النعم“ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کیونکہ اس کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کے اصول اور اس کے قواعد بیان کئے ہیں اور اس کے آخر میں وہ امور بیان کئے ہیں جو ان کی تکمیل کرتے ہیں، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرمایا کہ اس نے زمین اور آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا تاکہ بندے اس کے ذریعے سے ان کے خالق کی عظمت اور اس کی صفات کمال پر استدلال کریں تاکہ انہیں معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو اپنے ان بندوں کے رہنے کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی عبادت اس طرح کرتے ہیں جس طرح اس نے اپنی شرائع میں ان کو حکم دیا ہے جن کو اس نے اپنے رسولوں کی زبان پر نازل فرمایا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو مشرکین کے شرک سے منزہ قرار دیا۔ فرمایا : (تعلی عما یشرکون) ” یہ لوگ جو شریک بناتے ہیں وہ اس سے بالاتر ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے شرک سے پاک اور بہت بڑا ہے۔ وہی معبود حقیقی ہے جس کے سوا کسی اور کی عبادت، کسی اور سے محبت اور کسی اور کے سامنے عاجزی کا اظہار مناسب نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کا ذکر کرنے کے بعد زمین و آسمان کی مخلوق کا ذکر فرمایا اور اشرف المخلوقات یعنی انسان سے اس کی ابتدا کی، چنانچہ فرمایا : (خلق الانسان من نطفۃ) ” اس نے انسان کو ایک بوند سے پیدا کیا“ اللہ تعالیٰ اس نطفہ کی تدبیر کرتا رہا اور اس کو نشو و نما دیتا رہا یہاں تک کہ وہ ظاہری اور باطنی طور پر کامل اعضاء کے ساتھ کامل انسان بن گیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو بے شمار نعمتوں سے نوازا یہاں تک کہ اس کی تکمیل ہوگئی تو اپنے آپ پر فخر کرنے لگا اور خودپسندی کا شکار ہوگیا۔ فرمایا : (فاذا ھو خصیم مبین) ” پھر جبھی ہوگیا وہ علانیہ جھگڑا کرنے والا۔“ اس میں اس معنی کا بھی احتمال ہے کہ وہ اپنے رب کی مخالفت کرنے لگا، اسکا انکار کرنے لگا، اس کے انبیاء و رسل سے جھگڑنے لگا اور اس کی آیات کی تکذیب کرنے لگا۔ اس نے اپنی تخلیق کے اولین مراحل اور اس کی نعمتوں کو فراموش کردیا اور ان نعمتوں کو نافرمانی میں استعمال کیا اور اس معنی کا احتمال بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آدمی کو نطفہ (بوند) سے پیدا کیا، پھر سا کو ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل کرتا رہا یہاں تک کہ وہ ایک کلام کرنے والا، ذہین، صاحب رائے، عقل مند انسان بن گیا تو جھگڑے اور بحث کرنے لگ گیا۔ پس بندے کو اپنے رب کا شکر ادا کرنا چاہئے جس نے اسے اس حالت تک پہنچایا۔ جس حالت تک پہنچنا کسی طرح بھی اس کی قدرت اور اختیار میں نہ تھا۔ (والانعام خلقھا لکم) ” اور چوپایوں کو بھی اس نے تمہارے لئے پیدا کیا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ نے چوپایوں کو تمہاری خاطر، تمہارے فوائد اور مصالح کی خاطر تخلیق فرمایا۔ ان کے جملہ بڑے بڑیفوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے (لکم فیھادف) ” ان میں تمہارے لئے گرمی ہے“ جو تم ان کی صوف، ان کی پشم، ان کے بالوں سے لباس، بچھونے اور خیمے بنا کر حاصل کرتے ہو۔ (ومنافع) اس کے علاوہ تمہارے لئے دیگر فوائد ہیں (ومنھا تاکلون) ” اور ان (جانوروں) میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔“ (ولکم فیھا جمال حین تریحون وحین تسرحون) ” اور تمہارے واسطے ان میں خوبصورتی ہے جب شام کو چرا کر لاتے ہو اور جب چرانے لے جاتے ہو“ یعنی شام کے وقت ان مویشیوں کے گھر لوٹنے اور آرام کرنے اور صبح کے وقت چرنے کے لئے باہر جانے میں تمہارے لئے خوبصورت ہے۔ ان چوپایوں کی خوبصورتی کا ان کے لئے کوئی فائدہ نہیں کیونکہ یہ تم ہی ہو جو ان مویشیوں کو، اپنے لباس، اپنی اولاد اور اپنے مال کو اپنے جمال کا ذریعہ بناتے ہو اور یہ چیزیں تمہیں اچھی لگتی ہیں۔ (وتحمل اثقالکم) ” اور وہ تمہارے بوجھ اٹھاتے ہیں۔“ یعنی یہ چوپائے تمارے بھاری بھاری بوجھ اٹھاتے ہیں بلکہ وہ تمہیں بھی اٹھاتے ہیں۔ (الی بلدلم تکونوا بلغیہ الابشق الانفس) ” ان شہروں تک کہ تم نہ پہنچتے وہاں، مگر جان مار کر“ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان جانوروں کو تمہارے مطیع بنا دیا۔ ان میں سے بعض پر تم سواری کرتے ہو اور بعض جانوروں پر تم جو چاہتے ہو بوجھ لادتے ہو اور دور دراز شہروں اور ملکوں تے لے جاتے ہو۔ (ان ربکم لرؤف رحیم) ” بے شک تمہارا رب بڑا شفقت کرنے والا، نہایت مہربان ہے“ اس نے تمہہارے لئے ان تمام چیزوں کو مسخر کردیا جن کی تمہیں ضرورت اور جن کی تمہیں حاجت تھی۔ پس ہر قسم کی حمد و ثنا کا وہی مستحق ہے، جیسا کہ اس کے جلال، اس کی عظمت سلطنت اور اس کے بے پایاں جود و کرم کے لائق ہے۔ (والخیل والبغال والحمیر) ” اور گھوڑے، خچر اور گدھے“ یعنی ہم نے ان تمام چوپایوں کو تمہارے قابو میں دے دیا (لترکبوھا وزینۃ) ” تاکہ تم ان پر سوار ہو اور زینت کے لئے“ یعنی کبھی تو تم انہیں سواری کی ضرورت کے لئے استعمال کرتے ہو اور کبھی خوبصورتی اور زینت کی خاطر تم انہیں پالتے ہو۔ یہاں ان کو کھانے کا ذکر نہیں کیا کیونکہ خچر اور گدھے کا گوشت حرام ہے۔ گھوڑوں کو بھی غالب طور پر کھانے کے لئے استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے برعکس اس کو کھانے کی غرض سے ذبح کرنے سے منع کیا گیا ہے، اس ڈر سے کہ کہیں ان کی نسل منقطع نہ ہوجائے۔ ورنہ صحیحین میں حدیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑے کا گوشت کھانے کی اجازت دی ہے۔ (ویخلق مالا تعلمون) ” اور پیدا کرتا ہے جو تم نہیں جانتے“ نزول قرآن کے بعد بہت سی ایسی چیزیں وجود میں آئیں جن پر انسان بحر و بر اور فضا میں سواری کرتے ہیں اور جنہیں وہ اپنے فوائد اور مصالح کے لئے اپنے کام میں لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اعیان کے ساتھ ان کا ذکر نہیں کیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں صرف ایسی ہی چیزوں کا ذکر فرماتا ہے جن کو اس کے بندے جانتے ہیں یا جن کی نظیر کو وہ جانتے ہوں اور جس کی نظیر ان کے زمانے میں دنیا میں موجود نہ ہو اور اللہ تعالیٰ اس کا تذکرہ کرتا تو لوگ اس چیز کو نہ پہچان سکتے اور یہ نہ سمجھ سکتے کہ اس سے کیا مراد ہے؟ لہٰذا اللہ تعالیٰ صرف جامع اصول ذکر فرماتا ہے جس میں وہ تمام چیزیں داخل ہیں جنہیں لوگ جانتے ہیں اور جنہیں لوگ نہیں جانتے۔ جیسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت کی نعمتوں کے بارے میں ان چیزوں کا نام لیا ہے جن کو ہم جانتے ہیں اور جن کی نظیر کا مشاہدہ کرتے ہیں، مثلاً کھجور، انگور اور انار وغیرہ اور جس کی کوئی نظیر ہم نہیں جانتے، اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کا ذکر مجمل طور پر اپنے اس ارشاد میں کیا ہے۔ (فیھما من کل فاکھۃ زوجن) (الرحمن :52/55) ” ان میں سب میوے دو دو قسم کے ہوں گے۔“ اسی طرح یہاں بھی صرف انہی سواریوں کا ذکر کیا گیا ہے جن سے ہم متعارف ہیں، مثلاً گھوڑے، خچر، گدھے، اونٹ اور بحری جہاز ورغیرہ اور باقی کو اس نے اس قول (ویخلق مالا تعلمون) میں مجمل رکھا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں حسی راستے کا ذکر فرمایا، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ عنایت فرمائی کہ وہ اس راستے کو اونٹوں اور دیگر سواریوں کے ذریعے سے طے کرتے ہیں۔۔۔ وہاں اس معنوی راستے کا بھی ذکر فرمایا جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے، چنانچہ فرمایا : (وعلی اللہ قصد السبیل) ” اور اللہ تک پہنچتا ہے سیدھا راستہ“ یعنی صراط مستیم جو قریب ترین اور مختصر ترین راستہ ہے اور اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ رہا عقائد و اعمال میں ظلم کا راستہ تو اس سے مراد ہر وہ راستہ ہے جو صراط مستقیم کی مخالفت کرتا ہے یہ راستہ اللہ تعالیٰ سے منقطع کر کے شقاوت کے گڑھے میں گرا دیتا ہے۔ پس ہدایت یافتہ لوگ اپنے رب کے حکم سے صراط مستقیم پر گامزن رہتے ہیں اور صراط مستقیم سے بھٹکے ہوئے لوگ ظلم وجور کے راستوں کو اختیار کرتے ہیں (ولو شآء لھدئکم اجمعین) ” اور اگر وہ چاہے تو سب کو ہدایت دے دے“ مگر اللہ تعالیٰ بعض کو اپنے فضل و کرم سے ہدایت عطا کرتا ہے اور بعض کو اپنے عدل و حکمت کی بنا پر گمراہ کرتا ہے۔