سورة الحجر - آیت 86

إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْخَلَّاقُ الْعَلِيمُ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

بلاشبہ آپ کا پروردگار ہی سب کا پیدا کرنے والا اور سب کچھ جاننے والا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 86 یعنی ہم نے زمین و آسمان کو عبث اور باطل پیدا نہیں کیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے دشمن سمجھتے ہیں۔ (الا بالحق) بلکہ ہم نے زمین و آسمان کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے، جو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔ زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے اندر ہے اس حقیبقت پر دلالت کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کا خالق ہے نیز زمین و آسمان اللہ کی قدرت کاملہ، بے پایاں رحمت، حکمت اور اس کے علم محیط پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ وہ ہستی ہے جس کے سوا کوئی دوسری ہستی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ (وان الساعۃ لاتیۃ) ” اور قیامت بے شک آنے والی ہے“ اور اس گھڑی کے آنے میں کوئی شک نہیں، کیونکہ ابتدا میں زمین و آسمان کی تخلیق، مخلوقات کو دوسری مرتبہ پیدا کرنے کی نسبت زیادہ مشکل ہے۔ (فاصفح الصفح الجمیل)’ دپس درگزر کریں اچھی طرح درگزر کرنا“ یعنی ان سے اس طرح درگزر کیجیے کہ اس میں کسی قسم کی اذیت نہ ہو بلکہ اس کے برعکس برائی کرنے والے کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئیے، اس کی تقصیر کو بخش دیجیے، تاکہ آپ اپنے رب سے بہت زیادہ اجرو ثواب حاصل کریں۔ کیونکہ ہر آنے والی چیز قریب ہوتی ہے۔ اس آیت کریمہ کے جو معانی میں نے یہاں ذکر کئے ہیں مجھ پر اس سے بہتر معانی ظاہر ہوئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جس کام کا حکم دیا گیا ہے وہ ہے نہایت اچھے طریقے سے درگزر کرنا، یعنی وہ اچھا طریقہ جو بغض، کینہ اور قولی و فعلی اذیت سے پاک ہو۔ اس طرح درگزر کرنا نہ ہو جو احسن طریقے سے نہیں ہوتا اور یہ ایسا درگزر کرنا ہے جو صحیح مقام پر نہ ہو۔ اس لئے جہاں سزا دینے کا تقاضا ہو وہاں عفو اور درگزر سے کام نہ لیا جائے، مثلاً زیادتی کرنے والے ظالموں کو سزا دینا، جن کو سزا کے سوا کوئی اور طریقہ درست نہیں کرسکتا۔۔۔ یہ ہے اس آیت کریمہ کا معنی۔ (ان ربک ھو الخلق) بے شک آپ کا رب تمام کائنات کا پیدا کرنے والا ہے۔ (العلیم) اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ اس کی مخلوقات اور اس کے احاطہ علم یعنی تمام کائنات میں سے کوئی چیز اسے بے بس نہیں کرسکتی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر اپنی نوازشوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔ (ولقد اتینک سبعاً من المثانی) ” ہم نے دیں آپ کو سات آیتیں، دہرائی جانے والی“ صحیح ترین تفسیر یہ ہے کہ اس سے مراد (السبع الطوال) ” سات لمبی سورتیں“ یعنی البقرہ، آل عمران، النساء، المائدہ، الانعام، الاعراف، الانفال اور التوبہ ہیں۔ یا اس سے مراد سورۃ فاتحہ ہے۔ پس (والقرآن العظیم) کا عطف، عام کا عطف خاص پر، کے باب سے ہوگا۔ کیونکہ ان بار بار پڑھی جانے والی سورتوں میں توحید، علوم غیب اور احکام جلیلہ کا ذکر کیا گیا ہے اور ان مضامین کو بار بار دہرایا گیا ہے اور ان مفسرین کے قول کے مطباق جو سورۃ فاتحہ کو (السبع المثانی) کی مراد قرار دیتے ہیں، معنی یہ ہے کہ یہ سات آیتیں ہیں جو ہر رکعت میں دہرائی جاتی ہیں اور جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن عظیم اور اس کے ساتھ ” سبع مثانی“ عطا کیں تو گویا اللہ تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بہترین عطیے سے نواز دیا جس کے حصول میں لوگ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر رغبت رکھتے ہیں اور مومنین جس پر سب سے زیادہ خوشی محسوس کرتے ہیں۔ فرمایا : (آیت)’ دکہہ دیجیے کہ یہ اللہ کے فضل و کرم اور اس کی رحمت کے سبب سے ہے، پس اس پر انہیں خوش ہونا چاہئے۔ یہ ان تمام چیزوں سے بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کر رہے ہیں۔ “ بنا بریں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” آپ ان چیزوں کی طرف نظر نہ ڈالیں جو ہم نے ان میں سے کئی قسم کے لوگوں کو برتنے کے لئے دیں“ یعنی یہ چیزیں آپ کو اتنی زیادہ اچھی نہ لگیں کہ آپ کے فکر و نظر کو شہوات دنیا میں مشغول کردیں جن سے دنیا پرست خوش حال لوگ متمعتع ہو رہے ہیں اور ان کی وجہ سے جاہل لوگ دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو جو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا ہے اس کے ذریعے سے بے نیاز رہیے۔ (ولا تحزن علیھم) ” اور ان پر غم نہ کھائیں“ کیونکہ ان سے کسی بھلائی کی امید اور کسی فائدہ کی توقع نہیں ہے۔ پس اہل ایمان کی صورت میں آپ کو بہترین نعم البدل اور افضل ترین عوض عطا کردیا گیا ہے۔ (واحفض جناحک للمومنین) ” اور مومنوں کے لئے اپنے بازو جھکائے رکھیں“ یعنی ان کے ساتھ نرم رویہ رکھیے اور ان کے ساتھ حسن اخلاق، محبت، تکریم اور مودت سے پیش آئیے۔ (وقل انی انا النذیر المبین) ” اور کہہ دیجیے، میں تو کھول کر ڈرانے والا ہوں“ یعنی لوگوں کو ڈرانے، رسالت کی ادائیگی، قریب اور بعید، دوست اور دشمن کو بلیغ کی ذمہ داری آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عائد ہے اسے پورا کیجیے۔ جب آپ نے یہ ذمہ داری ادا کردی تو ان کا حساب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ہے نہ آپ کا حساب ان کے ذمہ ہے۔ (کما انزلنا علی المقتسمین) ” جیسا کہ (عذاب) بھیجا ہم نے ان بانٹنے والوں پر“ یعنی (آپ ان کو اسی طرح عذاب سے ڈرا رہے ہیں) جیسے ہم نے اس چیز کو جھٹلانے والوں پر، جسے لے کر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوئے، اور لوگوں کو اللہ کے راست یسے روکنے میں کوشاں رہنے والوں پر، عذاب نازل کیا۔ (الذین جعلوا القرآن عضین) ” جنہوں نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔“ یعنی جنہوں نے قرآن کو مختلف اصناف، اعضا اور جزا میں تقسیم کر رکھا ہے اور اپنی خواہشات نفس کے مطابق اس میں تصرف کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض (قرآن کے متعلق) کہتے ہیں کہ یہ جادو ہے۔، بعض کہتے ہیں کہ یہ کہانت ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ افتراء پردازی ہے اور اس قسم کے دیگر اقوال جو ان جھٹلانے والے کفار نے پھیلا رکھے ہیں جو محض اس مقصد کے لئے قرآن میں جرح و قدح کرتے ہیں تاکہ لوگوں کو ہدایت کے راستے سے روک سکیں۔ (فوربک لنسئلنھم اجمعین)’ دپس قسم ہے آپ کے رب کی، ہم ضرور ان سب سے پوچھیں گے“ یعنی ان تمام لوگوں سے جنہوں نے اس قرآن میں جرح و قدح کی، اس میں عیب چینی اور اس میں تحریف کر کے اس کو بدل ڈالا (عما کانوا یعملون) ” ان کاموں کے بارے میں جو وہ کرتے رہے۔“ یعنی ہم ان سے ان کے اعمال کے بارے میں ضرور پوچھیں گے۔ یہ ان کے لئے سب سے بڑی ترہیب اور ان کے اعمال پر زجر و توبیخ ہے۔