سورة الحجر - آیت 51

وَنَبِّئْهُمْ عَن ضَيْفِ إِبْرَاهِيمَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

نیز آپ انھیں ابراہیم کے مہمانوں [٢٨] کا حال بتائیے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 51 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرماتا ہے : (ونبءھم عن ضیف ابراہیم) ” ان کو ابراہیم کے مہمانوں کی بابت خبر دیں“ یعنی اس عجیب قصے کے بارے میں ان کو آگاہ کیجیے، کیونکہ آپ کے ان کے سامنے انبیاء کرام کے قصے اور ان کے حالات بیان کرنے سے، ان کو عبرت حاصل ہوگی اور وہ ان کی پیروی کریں گے۔۔۔ خاص طور پر اللہ تعالیٰ کے خلیل ابراہیم کا قصہ، جن کے بارے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ان کی ملت کی پیروی کریں۔ حضرت ابراہیم کے مہمانوں سے مراد وہ مکرم فرشتے ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا مہمان بنا کر ان کو اعزاز بخشا۔ (اد دخلوا علیہ فقالوا سلماً) ” جب وہ آئے ان کے گھر میں تو کہا سلام“ یعنی انہوں نے ابراہیم کو سلام کیا اور ابراہیم نے ان کو سلام کا جواب دیا اور کہا (انا منکم وجدون) ” ہم تم لوگوں سے خائف ہیں۔“ اور خوف زدہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ جب فرشتے ابراہیم کے پاس آئے تو آپ نے ان کو مہمان سمجھا اور آپ جلدی سے گھر گئے اور ان کی مہمان نوازی کے لئے بھنا ہوا بچھڑا لے آئے اور ان کی خدمت میں پیش کردیا۔ جب آپ نے دیکھا کہ مہمانوں کے ہاتھ کھانے کی طرف نہیں بڑھ رہے تو آپ نے ان کو چور وغیرہ سمجھا اور خوف زدہ ہوگئے۔ (قالوا) فرشتوں نے ان سے کہا : (لاتوجل انا نبشرک بغلم علیم) ” ڈریں مت، ہم آپ کو ایک سمجھ دار لڑکے کی خوش خبری سناتے ہیں“ یہاں لڑکے سے مراد اسحاق ہیں۔ یہ بشارت اس بات کو متضمن ہے کہ وہ بچہ جس کی خوشخبری دی گی تھی، لڑکا تھا، لڑکی نہ تھا، یہاں ” علیم“ سیم راد ہے ” کثیر العلم“ (بہت علم و فہم والا) ایک اور آیت کریمہ میں یوں آتا ہے (آیت) ” اور ہم نے اسے اسحاق کی خوشخبری دی کہ وہ نبی اور صالح لوگوں میں سے ہوں گے۔ “ ابراہیم نے اس خوش خبری پر متعجب ہو کر کہا (ابشر تمونی) ” کیا تم مجھے (بیٹے کی) خوشخبری دیتے ہو۔“ (علی ان مسنی الکبر) ” جب کہ پہنچ چکا مجھ کو بڑھاپا“ بنا بریں وہ اولاد ہونے کے بارے میں ایک قسم کی مایوسی سے دو چار تھے (فبم تبشرون) ” پس کس وجہ سے تم مجھے خوشخبری دیتے ہو؟“ حالانکہ اولاد ہونے کے اسباب تو معدوم ہوچکے ہیں۔ (قالوا بشرنک بالحق) ” انہوں نے کہا، ہم نے آپ کو سچی خوش خبری سنائی ہے“ جس میں کوئی شک و شبہ نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے خاص طور پر۔۔۔ اے نبوت کے گھر والو ! تم پر اللہ کی رحمت اور برکتیں ہیں۔۔۔ تمہیں تو اللہ کے فضل و احسان کو نادرد ناممکن نہیں سمجھنا چاہئے۔ (فلا تکن من القنطین) ” پس آپ ناامیدوں میں سے نہ ہوں“ یعنی آپ ان لوگوں میں سے نہ جائیں جو بھلائی کے وجود کو مستبعد سمجھتے ہیں۔ بلکہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی عنایات و احسان کے امیدوار رہیے۔ ابراہیم نے جواب میں فرمایا : (ومن یقنط من رحمۃ ربہ الا الضآلون) ” رب کی رحمت سے ناامید گمراہ لوگ ہی ہوتے ہیں“ جو اپنے رب اور اس کی قدرت کاملہ سے لاعلم ہیں، لیکن جسے اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور علم عظیم سے نواز رکھا ہو، مایوسی اس تک راہ نہیں پا سکتی کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کے لئے اسباب و وسائل اور طریقوں کی کثرت کو خوب جانتا ہے۔ پھر جب فرشتوں نے حضرت ابراہیم کو بٹے کی بشارت دی تو انہوں نے جان لیا کہ ان کو نہایت اہم کام پر بھیجا گیا ہے۔