سورة الحجر - آیت 45

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

(بخلاف اس کے) پرہیزگار لوگ باغوں اور چشموں میں ہوں گے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 45 اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں یہ ذکر فرمایا کہ آخرت میں اس کے دشمنوں یعنی ابلیس کیپ یرو کاروں کو کیا سخت عذاب اور سزا دی جائے گی وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کو کس فضل عظیم اور دائمی نعمتوں سے نوازے گا۔ چنانچہ فرمایا : (ان المتقین) ” بے شک پرہیز گار“ جو شیطان کی اطاعت، اس کے وسوسوں، گناہوں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچتے ہیں (فی جنت وعیون) ” باغتا اور چشموں میں ہوں گے“ جن میں درختوں کی تمام اقسام ہوں گی اور اس میں ہر قوت اور ہر قسم کے پکے ہوئے پھل ہوں گے۔ جنت میں داخل ہوتے وقت ان سے کہا جائے گا (ادخلوھا بسلم امنین) ” داخل ہوجاؤ اس میں سلامتی سے ہر نقصان سے محفوظ“ یعنی موت، نیند، تھکن سے، وہاں حاصل نعمتوں میں سے کسی نعمت کے منقطع ہونے، یا ان میں کمی واقع ہونے سے، بیماری، حزن و غم اور دیگر تمام کدورتوں سے مامون و محفوظ (ونزعنا مافی صدورھم من غل) ” اور نکال ڈلایں گے ہم ان کے سینوں سے کینہ“ پس ان کے دل ہر قسم کے کینہ اور حسد سے سلامت، پاک صاف اور آپس میں محبت کرنے والے ہوں گے (اخوانا علی سرر متقبلین) ” وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر تختوں پر ایک دوسرے کے سامنے بٹیھے ہوں گے۔“ یہ آیت کریمہ ان کے آپس میں ایک دوسرے کی زیارت کرنے، ان کو اکٹھے ہونے اور ان کے آپس میں حسن ادب پر دلالت کرتی ہے نیز یہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ جنت میں ایک دوسرے سے پیٹھ پھیر کر نہیں بلکہ سجے تخوں پر تکیے لگا کر، موتی اور مختلف قسم کے جواہرات جڑے ہوئے بچھونوں پر، ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے۔ (لایمسھم فیھا نصب) ” نہیں پہنچے گی وہاں ان کو کوئی تھکاوٹ“ انہیں ظاہیر تھکاوٹ لاحق ہوگی، نہ باطنی، اور یہ اس وجہ سے ہوگا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے انہیں ایسی حیات کاملہ سے نوازا ہوگا جو آفات کا اثر قبول نہیں کرے گی۔ (وما ھم منھا بمخرجین) ” اور نہ وہاں وہاں سے نکالے جائیں گے۔“ یعنی وہ کسی بھ وقت جنت سے نکالے نہیں جائیں گے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے فیصلوں، یعنی جنت اور جہنم کا ذکر فرمانے کے بعد، جو ترغیب و ترہیب کا موجب ہیں، اپنے ان اوصاف کا ذکر فرمایا جو جنت و جہنم کے موجب ہیں۔ چنانچہ فرمایا : (نبی عبادی) ” میرے بندوں کو بتا دو۔“ یعنی میرے بندوں کو نہایت جزم کے ساتھ خبر دیجیے جس کی تائید دلائل کرتے ہوں کہ (انی انا الغفور الرحیم) ” میں بہت بخشنے والا نہایت مہربان ہوں۔“ کیونکہ جب بندے اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ اور اس کی مغفرت کی معرفت حاصل کرلیں گے تو ان اسباب کے حصول میں کشواں ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کاملہ تک پہنچاتے ہیں، گناہوں کے ارتکاب سے رک کر ان سے توبہ کریں گے، تاکہ وہ اس کی مغفرت کے مستحق قرار پائیں اور وہ امید کے اس حال تک نہ پہنچ جائیں کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کی گرفت سے مامون سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے بارے میں جرأت کا رویہ رکھیں۔ نیز انہیں اس بات سے بھی آگاہ کردیجیے !(وان عذا بی ھو العذاب الالیم) ” میرا عذاب، وہ درد ناک عذاب ہے“ درحقیقت اللہ تعالیٰ کے عذاب کے سوا دوسرا عذاب کوئی عذاب ہی نہیں، اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوئی اندازہ کیا جاسکتا ہے نہ اس کی کنہ تک پہنچا جاسکتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں، کیونکہ جب انہیں اس حقیقت کی معرفت حاصل ہوگی کہ (فیومئذ لایعذب عذابہ احد، ولایوثق وثاقہ احد) (الفجر :26-25/89) ” اس روز نہ کوئی اللہ کے عذاب کی مانند کوئی عذاب دے گا اور نہ اللہ کی گرفت کی مانند کوئی گرفت کرسکے گا۔“ تب وہ ڈریں گے اور ہر اس سبب سے دور رہیں گے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب بنتا ہے۔ بندہ مومن کے لائق یہی ہے کہ اس کا قلب دائمی طور پر خوف اور امید، رغبت اور رہبت کے درمیان رہے۔ جب بندہ اپنے رب کی بے پایاں رحمت، اس کی مغفرت اور اس کے جود و احسان کی طرف نظر کرے تو اس کا قلب امید اور رغبت سے لبریز ہوجائے اور جب وہ اپنے گناہوں اور اپنے رب کے حقوق کے بارے میں اپنی تقصیر پر نظر ڈالے تو اس کے دل میں خوف اور رہبت پیدا ہوا اور وہ گناہوں کو چھوڑ دے۔