سورة الحجر - آیت 24

وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَقْدِمِينَ مِنكُمْ وَلَقَدْ عَلِمْنَا الْمُسْتَأْخِرِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور ہمیں یقینا ان لوگوں کا بھی علم ہے جو تم سے آگے نکل گئے اور جو پیچھے رہنے [١٥] والے ہیں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 26 اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارے باپ حضرت آدم پر اپنی نعمت اور اپنے احسان کا ذکر کرت اہے، حضرت آدم کا اپنے دشمن ابلیس کے ساتھ جو معاملہ ہوا اس کو بھی بیان کرتا ہے اور اس ضمن میں ہمیں ابلیس کے شر اور فتنہ سے ڈراتا ہے، چنانچہ فرمایا : (ولقد خلقنا الانسان) ” ہم نے انسان کو پیدا کیا۔“ یعنی آدم کو پیدا کیا (من صلصال من حما مسنون) ” کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے“ یعنی خمیر شدہ گارے سے پیدا کیا جس میں خشک ہونے کے بعد کھنکھناہٹ کی آواز پیدا ہوجاتی ہے۔ جیسے پکی ہوئی ٹھیکری کی آواز۔ (الحما المسنون) اس گارے کو کہتے ہیں، جس کا رنگ اور بو، طویل عرصے تک پڑا رہنے کی وجہ سے بدل گئے ہوں۔ (والجآن) ” اور جنوں کو۔“ اس سے مراد جنوں کا باپ، یعنی ابلیس ہے (خلقنہ من قبل)’ دپیدا کیا ہم نے اس کو پہلے“ یعنی تخلیق آدم سے پہلے (من نار السموم) ” لوکی آگ سے“ یعنی نہایت سخت حرارت والی آگ سے، پس جب اللہ تعالیٰ نے آدم کی تخلیق کا ارادہ فرمایا تو فرشتوں سے کہا : آیت) ” میں کھنکھناتے سڑے ہوئے گارے سے ایک انسان بنانے لگا ہوں۔ پس جب میں اس کو ٹھیک ٹھاک کر لوں“ یعنی جب میں اس کے جسد کی تکمیل کرچکوں (ونفخت فیہ من روحی فقعوا لہ سجدین) ” اور اپنی روح اس میں پھونک دوں، تو سب اس کو سجدہ کرتے ہوئے گڑ پڑنا۔“ پس انہوں نے اپنے رب کے حکم کی تعمیل کی۔ (فسجد المآئکۃ کلھم اجمعون) ” پس تمام فرشتوں نے سجدہ کیا“ یہاں تاکید کے بعد تاکید کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ یہ اسلوب اس حقیقت پر دلالت کرے کہ فرشتوں میں سے کوئ ایک فرشتہ بھی سجدہ کرنے سے پیچھے نہیں رہا تھا اور یہ سجدہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعظیم اور آدم کی تکریم کے لئے تھا، کیونکہ حضرت آدم وہ کچھ جانتے تھے جس کا فرشتوں کو علم نہیں۔ (الا ابلیس ابی ان یکون مع السجدین) “ ” مگر ابلیس نے اس بات سے انکار کردیا کہ وہ سجدہ کرنے والوں کے ساتھ ہو“ یہ شیطان یک آدم اور ان کی اولاد کے ساتھ پہلی عداوت ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” اے ابلیس ! تجھے کیا ہے کہ تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہ ہوا، اس نے کہا، میں اس انسان کو سجدہ نہیں کروں گا جس کو تو نے کھنکتے، سڑے ہوئے گارے سے پیدا کیا ہے“ پس شیطان مردود نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں تکبر، حضرت آدم اور ان کی اولاد کے خلاف عداوت کا اظہار کیا اور اپنے عناصر ترکیبی پر خود پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا ” میں آدم سے بہتر ہوں۔“ (قال) اللہ تبارک و تعالیٰ نے شیطان کے کفر و استکبار پر سخت گرفت کرتے ہوئے فرمایا : (فاخرج منھا فانک رجیم) ” پس تو نکل جا یہاں سے، بے شک تو مردود ہے“ یعنی تو دھتکارا ہوا اور ہر بھلائی سے دور کردیا گیا ہے۔ (وان علیک اللعنۃ) ” اور تجھ پر لعنت ہے“ یعنی تو مذمت اور ملامت کا مستحق اور اللہ کی رحمت سے دور ہے۔ (الی یوم الدین) ” جزا کے دن تک“ اس آیت اور اس جیسی دیگر آیات میں دلیل ہے کہ شیطان اپنے کفر پر قائم اور بھلائی سے دور رہے گا۔ (قال رب فانظرنی)’ شیطان نے کہا ’ اے رب مجھے ڈھیل دے“ یعنی مجھے مہلت دے (الی یوم یبعثون، قال فانک من المنظرین، الی یوم الوقت المعلوم) ” قیامت کے دن تک، اللہ نے کہا، تجھ کو ڈھیل دی، اسی مقرر وقت کے دن تک“ اللہ تعالیٰ کا شیطان کی دعا کو قبول کرلینا اس کے حق میں اکرام و تکریم نہیں، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے شیطان اور بندوں کے لئے ابتلاء اور امتحان ہے، تاکہ دشمن میں سے اس کا وہ سچا بندہ الگ ہوجائے جو اس کی اطاعت کرتا ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں شیطان مردود سے بہت ڈرایا ہے اور کھول کھول کر بیان کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے کیا چاہتا ہے۔ (قال رب بما اغویتنی لا زینن لھم فی الارض) ” شیطان نے کہا، اب رب، جیسے تو نے مجھے گمراہ کیا ہے، میں بھی ان سب کو بہاریں دکھلاؤں گا زمین میں“ یعنی میں ان کے سامنے دنیا کو آرساتہ کروں گا، میں ان کو اس بات پر آمادہ کروں گا کہ وہ دنیا کو آخرت پر ترجیح دیں یہاں تک کہ وہ ہر گناہ کرنے لگ جائیں گے۔ (ولا غوینھم اجمعین) ” اور ان سب کو بہکا دوں گا“ یعنی میں تمام انسانوں کو راہ راست پر چلنے سے روک دوں گا۔ الا عبادک منھم المخلصین) ” مگر ان میں سے جو تیرے مخلص بندے ہیں۔“ یعنی وہ لوگ جن کو تو نے ان کے اخلاص، ایمان اور توکل کی وجہ سے چن کر اپنے لئے خلاص کرلیا۔ (وہ میرے جال سے بچ جائیں گے۔) اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (ھذا صراط علی مستقیم) ” یہ راستہ ہے مجھ تک سیدھا“ یعنی یہ راستہ معتدل، مجھ تک اور میرے عزت والے گھر تک پہنچاتا ہے۔ (ان عبادی لیس لک علیھم سلطن) ” جو میرے بندے ہیں ان پر تجھ کچھ قدرت نہیں۔“ یعنی میرے بندوں پر تجھے کوئی اختیار نہیں کہ تو جہاں چاہے انہیں مختلف انواع کی گمراہیوں میں مبتلا کر دے اور اس کا سبب یہ ہے کہ وہ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے احکام کی تعمیل کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے اور انہیں شیطان سے بچاتا ہے (الا من اتبع) ” مگر جس نے تیری پیروی کی“ اور اللہ رحمٰن کی اطاعت کی بجائے تیری سرپرستی قبول کرنے اور تیری اطاعت کرنے پر راضی ہوگیا۔ (من الغوین) ” بہکے ہوؤں میں سے ہے“ (الغاوی) ” گمراہ“ (الراشد) ” ہدایت یافتہ‘ کی ضد ہے اور اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو پہچان کر ترک کر دے اور (الضال) اس شخص کو کہتے ہیں جو حق کو جانے بغیر اس کو ترک کر دے۔ (وان جھنم لموعدھم اجمعین) ” اور جہنم ان سب کے وعدے کی جگہ ہے“ یعنی ابلیس اور اس کے لشکروں کے لئے۔ (لھا سبعۃ ابواب) ” اس کے سات دروازے ہیں“ ہر دروازہ دوسرے دروازے سے نیچے ہوگا۔ (لکل باب منھم) ” ہر دروازے کے واسطے ان میں سے“ یعنی ابلیس کے پیروکاروں میں سے (جزء مقسوم) ” ایک حصہ ہے بانٹا ہوا“ یعنی ان کے اعمال کے مطابق اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے : (فکبکبوا فیھا ھم والغاون، وجنودا بلیس اجمعون) الشعراء، 95,93,26)’ دپس ان کے معبود، یہ گمراہ لوگ اور ابلیس کے لشکر سب کے سب اوپر تلے جہنم میں پھینک دیئے جائیں گے۔ “