سورة الحجر - آیت 13

لَا يُؤْمِنُونَ بِهِ ۖ وَقَدْ خَلَتْ سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

کہ وہ اس پر ایمان نہیں لاتے، پہلی قوموں کی [٦] بھی یہی روش چلی آرہی ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 13 جب مشرکین نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا کہ گزری ہوئی قوموں اور قرون ماضیہ میں مشرکین کا اپنے انبیاء کے ساتھ یہی رویہ رہا ہے۔ (ولقد ارسلنا من قبلک فی سیع الاولین) ” اور ہم نے آپ سے پہلے لوگوں میں رسول بھیجے تھے۔“ یعنی گزرے ہوئے گروہوں اور جماعتوں میں رسول مبعوث کرچکے ہیں۔ (وما یاتیھم من رسول) ” اور جو بھی رسول ان کے پاس آتا“ جو ان کو حق اور ہدایت کی طرف دعوت دیتا۔ (الا کانوا بہ یستھرءون) ” تو وہ (مشرکین) ان کا تمسخر ہی اڑاتے تھے۔“ (کذلک نسلکہ) ” اسی طرح داخل کردیتے ہیں ہم اس کو“ یعنی جھٹلانے کو (فی قلوب المجرمین) ” گناہ گاروں کے دلوں میں“ ہم نے ان کو یہ سزا دی، جب ان کے دل کفر و تکذیب میں پچھلے لوگوں کے مشابہ ہوگئے اور اپنے رسولوں اور پیغمبروں کے ساتھ استہزاء و تمسخر اور عدم ایمان کے بارے میں بھی ان کا معاملہ ان کے مشابہ ہوگیا۔ یعنی وہ لوگ جن کا وصف ظلم اور بہتان طرازی تھا۔ ہم نے ان کو اس بنا پر سزا دی کہ ان کے دلوں نے کفر اور تکذیب کی مشابہت اختیار کی، اپنے انبیاء کے معاملے میں تشابہ کا شکار ہوگئے، اپنے رسولوں کے ساتھ ان کا یہ رویہ استہزاء، تمسخر اور عدم ایمان کا تھا۔ اسی لئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (لایومنون بہ وقد خلت سنۃ الاولین) ” وہ اس پر ایمان نہیں لائیں گے اور ہوتی آی ہے رسم پہلوں کی“ یعنی انکے بارے میں عادت الٰہی یہ ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتا اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کردیتا ہے۔