سورة ابراھیم - آیت 52

هَٰذَا بَلَاغٌ لِّلنَّاسِ وَلِيُنذَرُوا بِهِ وَلِيَعْلَمُوا أَنَّمَا هُوَ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ وَلِيَذَّكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

یہ قرآن لوگوں تک پہنچانے کی چیز ہے تاکہ اس کے ذریعہ انھیں ڈرایا جائے اور اس لئے بھی کہ وہ جان لیں کہ اللہ صرف وہ ایک ہی ہے اور اس لئے بھی کہ دانشمند لوگ اس سے سبق [٥١] حاصل کریں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس بات کو پوری طرح کھول کھول کر اس قرآن میں بیان کردیا تو پھر اس کی مدح میں فرمایا (ھذا بلغ للناس) ” یہ خبر پہنچا دینی ہے لوگوں کو“ یعنی یہ ان کے لئے کافی ہے، وہ اسے زاد راہ بنا کر بلند ترین مقامات پر اور افضل ترین کرامات تک پہنچ سکتے ہیں کیونکہ یہ تمام علوم اور اصول و فروع پر مشتمل ہے جس کے بندے محتاج ہیں (ولینذروابہ) ” اور تاکہ انہیں اس ڈرایا جائے“ کیونکہ اس میں برے اعمال اور اس عذاب سے ڈرایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بد اعمال لوگوں کے لئے تیار کر رکھا ہے۔ (ولیعلموآ انما ھو اللہ واحد) ” اور تاکہ وہ جان لیں کہ معبود صرف وہی ایک ہے“ کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی الوہیت اور حدانیت پر ایسے دلائل اور براہین بیان کئے ہیں جن سے یہ علم حق الیقین بن جاتا ہے (ولیذکر اولوالباب) ” اور تاکہ اہل عقل نصیحت پکڑیں۔“ یعنی عقل کامل کے حامل لوگ اس سے نصیحت پکڑیں، وہ کام کریں جو انکے لئے فائدہ مند ہے اور وہ کام چھوڑ دیں جو ان کے لئے نقصان دہ ہے۔ ایسا کرنے سے وہ عقل مند اور اصحاب بصیرت بن جائیں گے۔ اس لئے کہ قرآن کے ذریعے سے ان کے معارف اور آراء صائبہ میں اضافہ اور ان کے افکار روشن ہوتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے قرآن کے تازہ افکار حاصل کئے ہیں، قرآن انہیں بلند ترین اخلاق و اعمال کی طرف دعوت دیتا ہے اور وہ ان پر قومی ترین، واضح ترین دلائل سے استدلال کرتا ہے۔ ایک ذہین بندہ مومن جب اس قاعدہ کلیہ کو اپنا لائحہ عمل بنا لیتا ہے تو وہ دائمی طور پر ہر قابل ستائش خصلت میں ترقی کی راہوں پر گامزن رہتا ہے۔