سورة البقرة - آیت 171

وَمَثَلُ الَّذِينَ كَفَرُوا كَمَثَلِ الَّذِي يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْمَعُ إِلَّا دُعَاءً وَنِدَاءً ۚ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَعْقِلُونَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

کافروں کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص ایسی چیز (مثلا جانوروں) کو پکارتا ہے وہ جانور اس کی پکار اور آواز کے سوا کچھ بھی سمجھ نہیں [٢١٣] سکتے اسی طرح یہ ( کافر) بھی بہرے، گونگے اور اندھے ہیں جو کوئی بات سمجھ نہیں سکتے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

جب اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ جو کچھ انبیاء کرام لے کر آئے، کفار نے ان کی اطاعت نہیں کی اور آباؤ اجداد کی تقلید کے باعث ان رسولوں کو رد کردیا۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ وہ حق کو قبول کر کے اس کی دعوت پر لبیک نہیں کہیں گے، بلکہ اللہ تعالیٰ کو ان میں سے ہر ایک کے بارے میں یہ بھی معلوم تھا کہ وہ اپنے عناد سے ہرگز باز نہیں آئیں گے، تو اللہ تعالیٰ نے آگاہ فرما دیا کہ ان کی مثال ایمان کے داعی کی پکار کے وقت ان مویشیوں کی سی ہے جنہیں ان کا چرواہا پکارتا ہے، لیکن ان جانوروں کو یہ علم نہیں کہ ان کا چرواہا اور منادی کیا کہہ رہا ہے؟ وہ صرف آواز سنتے ہیں جس کے ذریعے سے ان پر حجت قائم ہوگی مگر وہ اسے اس طرح سمجھتے نہیں کہ انہیں کوئی فائدہ پہنچے۔ پس وہ بہرے ہیں، حق کو سمجھنے اور قبول کرنے کے لئے سننے سے قاصر ہیں۔ وہ اندھے ہیں عبرت کی نظر سے دیکھ نہیں سکتے اور گونگے ہیں اس لئے حق کے اندر ان کے لئے جو خیر ہے اس کے بارے میں بولتے نہیں۔ اور وہ سبب جو اس تمام فساد کا موجب ہے یہ ہے کہ وہ عقل سلیم سے محروم ہیں، بلکہ وہ سب سے بڑے احمق اور سب سے بڑے جاہل ہیں۔ کیا عقل مند شخص اس بارے میں کوئی شک کرسکتا ہے کہ جس شخص کو رشد و ہدایت کی طرف بلایا جائے، فساد سے روکا جائے، عذاب میں گھسنے سے منع کیا جائے اور اسے اس چیز کا حکم دیا جائے جس میں اس کی بھلائی، فوز و فلاح اور نعمت ہے اور وہ اپنے خیر خواہ کا حکم ماننے سے انکار کر دے، اپنے رب کے حکم سے پیٹھ پھیر لے، دیکھتے بوجھتے آگ میں جا گھسے اور حق کو چھوڑ کر باطل کی پیروی کرے۔ یقیناً یہ شخص ایسا ہے کہ اس میں ذرہ بھر قعل نہیں۔ اگر وہ عیاری، دھوکہ اور فریب کو اپنی صفت بنا لے تو یہ شخص سب سے بڑا احمق ہے۔