سورة الرعد - آیت 36

وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَفْرَحُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ ۖ وَمِنَ الْأَحْزَابِ مَن يُنكِرُ بَعْضَهُ ۚ قُلْ إِنَّمَا أُمِرْتُ أَنْ أَعْبُدَ اللَّهَ وَلَا أُشْرِكَ بِهِ ۚ إِلَيْهِ أَدْعُو وَإِلَيْهِ مَآبِ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اور جن لوگوں کو ہم نے (اس سے پہلے) کتاب دی تھی وہ اس کتاب سے خوش [٤٦] ہوتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے اور ان کے گروہوں میں کچھ ایسے ہیں جو اس قرآن کے بعض (حکموں) کا انکار کرتے ہیں۔ آپ ان سے کہئے'': مجھے تو بس یہی حکم ہوا ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی عبادت [٤٧] کروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کروں۔ میں اسی کی طرف بلاتا ہوں

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت) ” اور وہ لوگ جن کو دی ہم نے کتاب“ یعنی ہم نے ان کو کتاب اللہ اور اس کی معرفت سے نوازا (آیت) ” وہ خوش ہوتے ہیں اس پر جو نازل ہوا آپ پر“ پس وہ اس پر ایمان لاتے ہیں، اس کی تصدیق کرتے ہیں اور کتب الہٰیہ کی ایک دوسری کے ساتھ موافقت اور ایک دوسری کی تصدیق کرنے کی بنا پر خوش ہوتے ہیں یہ ان لوگوں کا حال ہے جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے۔ (آیت) ” اور بعض گروہ وہ ہیں جو اس کی بعض باتوں کا انکار کرتے ہیں“ یعنی کفار کے، حق سے منحرف، گروہ اس قرآن کے کچھ حصے کا انکار کرتے ہیں اور اس کی تصدیق نہیں کرتے۔ (آیت) (الزمر ٩٣ / ٤١) ” تو جو کوئی راہ راست پر چلتا ہے (کی راست روی) اس کے اپنے لئے فائدہ مند ہے۔ اور جو کوئی گمراہی اختیار کرتا ہے تو گمراہی کا وبال بھی اسی پر ہے۔“ اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ تو صرف ڈرانے والے اور ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے ہیں۔ (آیت) ” کہہ دیجئے ! مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں صرف اللہ کی عبادتکروں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤں“ یعنی مجھے صرف اللہ وحدہ کے لئے دین کو خالص کرنے کا حکم دیا گیا ہے (آیت) ” اسی کی طرف میں بلاتاہوں اور اسی کی طرف میرا ٹھکانا ہے۔“ یعنی وہی مریا مرجع ہے جس کی طرف میں لوٹوں گا وہ مجھے اس بات کی جزا دے گا کہ میں نے اس کے دین کی طرف لوگوں کو دعوت دی اور مجھے جو حکم دیا گیا میں نے اس کی تعمیل کی۔