سورة الرعد - آیت 14

لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ ۖ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَيْءٍ إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهِ ۚ وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

اسی کو پکارنا برحق [٢١] ہے اور جو لوگ اس کے علاوہ دوسروں کو پکارتے ہیں وہ انھیں کچھ بھی جواب نہیں دے سکتے۔ انھیں پکارنا تو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف اپنے ہاتھ اس لئے پھیلائے کہ پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے حالانکہ پانی کبھی اس کے منہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ کافروں کی پکار بھی ایسے ہی (راہ میں) گم ہوجاتی ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(لہ دعوۃ الحق) ” سود مند پکارنا تو اسی کا ہے۔“ یعنی صرف اللہ تعالیٰ ہی کے لئے دعوت حق ہے۔ دعوت حق سے مراد، صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا اور دعائے عبادت اور دعائے مسئلہ کو صرف اسی کے لئے خالص کرنا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کو پکارا جائے، اس سے ڈرا جائے، اس پر امیدیں باندھی جائیں، اس سے محبت کی جائے، اس کی طرف رغبت رکھی جائے، اس سے خوف کھایا جائے اور اسی کی طرف رجوع کیا جائے کیونکہ اسی کی الوہیت حق ہے اور غیر اللہ کی الوہیت باطل ہے۔ (آیت) ” اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں“ یعنی جو اللہ تعالیٰ کے سوا بتوں اور خود ساختہ معبودوں کو، جن کو ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہرا رکھا ہے، پکارتے ہیں (آیت) ” وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرسکتے۔“ یعنی یہ خود ساختہ معبود ان کو تھوڑا یا بہت کوئی جواب نہیں دے سکتے جو ان کو پکارتے اور عبادت کرتے ہیں خواہ اس پکار کا تعلق امور دنیا سے ہو یا آخرت سے (الا کباسط کفیہ الی المآء) ” مگر جیسے کسی نے پھیلائے دونوں ہاتھ پانی کی طرف“ یعنی وہ شخص جس جس کے ہاتھ دور ہونے کی بنا پر پانی تک پہنچ نہیں سکتے۔ (لیبلغ) ” کہ آ پہنچے وہ پانی“ یعنی اپنے ہاتھوں کو پانی کی طرف پھیلانے کی وجہ سے (فاہ) ” اس کے منہ تک“ کیونکہ وہ پیاسا ہے اور شدت پیاس کی وجہ سے اپنا ہاتھ پانی کی طرف بڑھاتا ہے مگر وہ پانی اس تک پہنچ نہیں پاتا۔ اسی طرح کفار جو اللہ کے ساتھ خود ساختہ معبودوں کو پکارتے ہیں، یہ معبو ان کو کوئی جواب دے سکتے ہیں نہ ان کی حاجت کے شدید ترین اوقات میں ان کو کچھ فائدہ پہنچاسکتے ہیں۔ کیونکہ وہ خود اسی طرح محتاج ہیں جس طرح ان کو پکارنے والے محتاج ہیں۔ وہ زمین و آسمان میں ذرہ بھر کسی چیز کے مالک نہیں، نہ وہ ان میں شریک ہیں اور نہ ان میں کوئی اللہ کا مددگار ہے۔ (وما دعآء الکفرین الا فی ضل) ” اور کافروں کی ساری پکار گمراہی میں ہے“ کیونکہ جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے ہیں، باطل ہیں۔ پس ان کی عبادت کرنا اور ان کو پکارنا سب باطل ٹھہرا، مقاصد کے بطلان کے ساتھ وسائل بھی باطل ہوجاتے ہیں اور چونکہ اللہ تعالیٰ ہی واضح حقیقی بادشاہ ہے، اس لئے اس کی عبادت حق ہے اور عبادت گزار کو دنیا و آخرت میں نفع پہنچاتی ہے۔ غیر اللہ کو پکارنے والے کفار کی پکار کو اس شخ سے تشبیہ دینا جو پانی کی طرف ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ پانی اس کے منہ تک پہنچ جائے۔۔۔ ایک بہترین تشبیہ ہے، کیونکہ یہ ایک امر محال سے تشبیہ ہے جس طرح یہ امر محال ہے اسی طرح مشبہ بہ بھی محال ہے۔ کسی چیز کی نفی کے لئے اس کو امر محال پر معلق ٹھہرانا، نفی کا بلیغ ترین پیرا یہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (آیت) ” بے شک وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان کے ساتھ تکبر سے پیش آئے ان کے لئے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے۔ ان کا جنت میں داخل ہونا اتنا ہی محال ہوگا جتنا اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا۔ “