سورة الرعد - آیت 12

هُوَ الَّذِي يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنشِئُ السَّحَابَ الثِّقَالَ

ترجمہ تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمن کیلانی صاحب

وہی تو ہے جو تمہیں بجلی دکھاتا ہے جس سے تم ڈرتے بھی ہو اور امید بھی رکھتے ہو اور وہی (پانی سے) بوجھل بادلوں [١٩] کو اٹھاتا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(ھو الذی یریکم البرق خوفاً وطمعاً) ” وہی ہے جو دکھاتا ہے تم کو بجلی، ڈرانے کے لئے اور امید دلانے کے لئے“ یعنی اس بجلی (کے گرنے) کی وجہ سے کڑک اور عمارتوں کے منہدم ہونے کا نیز باغات اور کھیتیوں کے پھلوں پر مختلف اقسام کے ضرر رساں اثرات کا خدشہ ہوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس میں بھلائی اور فائدے کی امید بھی ہوتی ہے۔ (وینشی السحاب الثقال) ” اور وہ بارش سے لدے ہوئے بھاری بھاری بادل اٹھاتا ہے۔“ یہ بارش بندوں کو اور زمین کو فائدہ دیتی ہے۔